Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلےجان صاحب! بن تمہارے کھا کے غم ہم مر چلےمرزا اظفری
  2. اس کی صورت کو دیکھ کر بھولےہائے ہم بھولے سر بسر بھولےمرزا اظفری
  3. ایک برچھی سے مار جاتے ہودر پر آ جب پکار جاتے ہومرزا اظفری
  4. بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوںسج کہوں دھج کہوں چھب تختی کہوں گات کہوںمرزا اظفری
  5. بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہواکچھ آج بولتا ہے وہ ہم سے رکا ہوامرزا اظفری
  6. تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہےہوش آیا اس آن جاتا ہےمرزا اظفری
  7. تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں توبچے خورشید بھی رکھ منہ پہ سپر دیکھیں تومرزا اظفری
  8. تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑےہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑےمرزا اظفری
  9. تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سےپرائی پچ پہ لڑ جاتا ہے مجھ سےمرزا اظفری
  10. تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیاخوشی ہیں منت جاں سے تو بے نیاز کیامرزا اظفری
  11. جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیںتو نہیں پاس تو پھر کچھ بھی مرے پاس نہیںمرزا اظفری
  12. جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑیلشکر عشاق میں ہلچل پڑیمرزا اظفری
  13. جبکہ غصے کے بیچ آتے ہولاکھ لاکھ ایک کی سناتے ہومرزا اظفری
  14. جی میں کیا کیا مری اماہا تھاپر ہوا وہ جو حق کا چاہا تھامرزا اظفری
  15. خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئیصبا بھی چل کے واں اے بلبلو پھولوں کو جھاڑ آئیمرزا اظفری
  16. دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلےکون نت اٹھ کے مری جان یہ پاپڑ بیلےمرزا اظفری
  17. دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑےپژمردہ، دل فسردہ در اوپر ڈھلے پڑےمرزا اظفری
  18. ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانیتان کی جان مگر تم نے نہ جانی جانیمرزا اظفری
  19. سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوںکہیں ہیں لوگ دیوانے کہ دیوانہ ہوں روتا ہوںمرزا اظفری
  20. سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکاسر کو تکیے سے اٹھا پٹی پہ دے دے پٹکامرزا اظفری
  21. سوز شمع ہجر سے شب جل گئےڈھلتے ڈھلتے آنسو ہم خود ڈھل گئےمرزا اظفری
  22. سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاںہے انی مژگاں کی یا بھالا میاںمرزا اظفری
  23. شتابی اپنے دیوانے کو کر بندمسلسل زلف سے کر یا نظر بندمرزا اظفری
  24. غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیکہے کس کے کام کی یہ ظاہری سلام علیکمرزا اظفری
  25. غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہوچٹکیوں میں ہمیں اڑاتے ہومرزا اظفری
  26. کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولومیں جاؤں اور نہیں جی دو نہ بولومرزا اظفری
  27. کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیرہوا ہے حسن کا شہرہ ترا تو عالم گیرمرزا اظفری
  28. گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیرمجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیرمرزا اظفری
  29. مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کیہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کیمرزا اظفری
  30. نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہےکہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہےمرزا اظفری
  31. ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارےہیں مشتاق دیدے تمہارے پیارےمرزا اظفری
  32. ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کردر سے ہمیں درکار نا جانی یہ نادانی نہ کرمرزا اظفری
  33. یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیںمثال لالہ سے کیا دوں کچھ ایک داغ نہیںمرزا اظفری