Poetry
- آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلےجان صاحب! بن تمہارے کھا کے غم ہم مر چلےمرزا اظفری
- اس کی صورت کو دیکھ کر بھولےہائے ہم بھولے سر بسر بھولےمرزا اظفری
- ایک برچھی سے مار جاتے ہودر پر آ جب پکار جاتے ہومرزا اظفری
- بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوںسج کہوں دھج کہوں چھب تختی کہوں گات کہوںمرزا اظفری
- بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہواکچھ آج بولتا ہے وہ ہم سے رکا ہوامرزا اظفری
- تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہےہوش آیا اس آن جاتا ہےمرزا اظفری
- تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں توبچے خورشید بھی رکھ منہ پہ سپر دیکھیں تومرزا اظفری
- تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑےہم دست رشک دھوپ میں اپنے ملے کھڑےمرزا اظفری
- تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سےپرائی پچ پہ لڑ جاتا ہے مجھ سےمرزا اظفری
- تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیاخوشی ہیں منت جاں سے تو بے نیاز کیامرزا اظفری
- جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیںتو نہیں پاس تو پھر کچھ بھی مرے پاس نہیںمرزا اظفری
- جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑیلشکر عشاق میں ہلچل پڑیمرزا اظفری
- جبکہ غصے کے بیچ آتے ہولاکھ لاکھ ایک کی سناتے ہومرزا اظفری
- جی میں کیا کیا مری اماہا تھاپر ہوا وہ جو حق کا چاہا تھامرزا اظفری
- خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئیصبا بھی چل کے واں اے بلبلو پھولوں کو جھاڑ آئیمرزا اظفری
- دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلےکون نت اٹھ کے مری جان یہ پاپڑ بیلےمرزا اظفری
- دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑےپژمردہ، دل فسردہ در اوپر ڈھلے پڑےمرزا اظفری
- ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانیتان کی جان مگر تم نے نہ جانی جانیمرزا اظفری
- سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوںکہیں ہیں لوگ دیوانے کہ دیوانہ ہوں روتا ہوںمرزا اظفری
- سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکاسر کو تکیے سے اٹھا پٹی پہ دے دے پٹکامرزا اظفری
- سوز شمع ہجر سے شب جل گئےڈھلتے ڈھلتے آنسو ہم خود ڈھل گئےمرزا اظفری
- سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاںہے انی مژگاں کی یا بھالا میاںمرزا اظفری
- شتابی اپنے دیوانے کو کر بندمسلسل زلف سے کر یا نظر بندمرزا اظفری
- غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیکہے کس کے کام کی یہ ظاہری سلام علیکمرزا اظفری
- غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہوچٹکیوں میں ہمیں اڑاتے ہومرزا اظفری
- کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولومیں جاؤں اور نہیں جی دو نہ بولومرزا اظفری
- کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیرہوا ہے حسن کا شہرہ ترا تو عالم گیرمرزا اظفری
- گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیرمجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیرمرزا اظفری
- مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کیہو وہ بھی پر خلوت نہ ہو یہ بات ہے کس کام کیمرزا اظفری
- نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہےکہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہےمرزا اظفری
- ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارےہیں مشتاق دیدے تمہارے پیارےمرزا اظفری
- ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کردر سے ہمیں درکار نا جانی یہ نادانی نہ کرمرزا اظفری
- یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیںمثال لالہ سے کیا دوں کچھ ایک داغ نہیںمرزا اظفری