Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آشنا جو مزہ کا ہوتا ہےاپنے حق میں وہ کانٹے بوتا ہےمیر اثر
  2. اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئیسچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئیمیر اثر
  3. اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہےتیری باتوں کو مان جاتا ہےمیر اثر
  4. اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیےمگر آپ ہی سے گزر جائیےمیر اثر
  5. ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سوایک مجھ بیمار سے وابستہ ہیں آزار سومیر اثر
  6. بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیںتو تو گویا کہ آشنا ہی نہیںمیر اثر
  7. تو مری جان گر نہیں آتیزیست ہوتی نظر نہیں آتیمیر اثر
  8. تیرے آنے کا احتمال رہامرتے مرتے یہی خیال رہامیر اثر
  9. تیرے وعدوں کا اعتبار کسےگو کہ ہو تاب انتظار کسےمیر اثر
  10. جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑیمیرے ہی دل پہ میری آہ پڑیمیر اثر
  11. جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کرشبنم کی طرح مجھے رلا کرمیر اثر
  12. خفا اس سے کیوں تو مری جان ہےاثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہےمیر اثر
  13. دل میں سو آرمان رکھتا ہوںپیارے آخر میں جان رکھتا ہوںمیر اثر
  14. دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گےپیارے یہ یاد رہے جان بھی دے بیٹھیں گےمیر اثر
  15. دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچآ پڑا مفت میں عذاب کے بیچمیر اثر
  16. زیست ہونی تعجبات ہے ابمر ہی جانا بس ایک بات ہے ابمیر اثر
  17. صرف غم ہم نے نوجوانی کیواہ کیا خوب زندگانی کیمیر اثر
  18. غم کو باہم بہم نہ کیجےگر غم ہے تو غم کا غم نہ کیجےمیر اثر
  19. کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گایا یہی جور و جفا کیجئے گامیر اثر
  20. کر کے دل کو شکار آنکھوں میںگھر کرے ہے تو یار آنکھوں میںمیر اثر
  21. کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہےمرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہےمیر اثر
  22. کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کیمرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کیمیر اثر
  23. کیدھر کی خوشی کہاں کی شادیجب دل سے ہوس ہی سب اڑا دیمیر اثر
  24. گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہوپر بظاہر نہیں معلوم کہاں رہتے ہومیر اثر
  25. لوگ کہتے ہیں یار آتا ہےدل تجھے اعتبار آتا ہےمیر اثر
  26. مرض عشق دل کو زور لگاجاں بلب ہوں خیال گور لگامیر اثر
  27. نالہ کرنا کہ آہ کرنادل میں اثرؔ اس کے راہ کرنامیر اثر
  28. نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوںجو کہئے سو قصہ مختصر ہوںمیر اثر
  29. نہ لگا لے گئے جہاں دل کوآہ لے جائیے کہاں دل کومیر اثر
  30. وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہےاس کے تئیں آپ سے سفر ہےمیر اثر
  31. ہم غلط احتمال رکھتے تھےتجھ سے کیا کیا خیال رکھتے تھےمیر اثر
  32. ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیںآہ اس کا بھی تجھ کو پاس نہیںمیر اثر
  33. بے کسی میں اثر یگانہ ہےدل بھی اس کا نہیں بیگانہ ہےمیر اثر
  34. جو بات ہے تیری سو نرالیعشاق کشی نئی نکالیمیر اثر
  35. کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھاوگرنہ ہر طرح سے اب تلک تو میں سنبھالا تھامیر اثر
  36. میں تجھے واہ کیا تماشا ہےذہن میں آشنا تراشا ہےمیر اثر