Poetry
- بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیارہ و رسم محبت چھوڑ دی کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- پھر وہی بے دلی پھر وہی معذرتبس بہت ہو چکا زندگی معذرتLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- تلخیٔ مے تلخئ حالات کی توہین ہےنشے میں سچ بولنا سچ بات کی توہین ہےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- تو نہ تھا تیری تمنا دیکھنے کی چیز تھیدل نہ مانا ورنہ دنیا دیکھنے کی چیز تھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگےآ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤ گے کیاایک دن گھر نہیں جاؤ گے تو مر جاؤ گے کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ریزہ ریزہ ہوئے یوں صبح کے آثار کہ بسایسے خوابوں پہ چلائی گئی تلوار کہ بسLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- سخن سخن وہی گویا دکھائی دیتا ہےقبائے سرخ میں کیا ہے کہ دیکھتے رہئےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- صورت موج سمندر میں کہاں سے آیامیں مسافر کی طرح گھر میں کہاں سے آیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- عاجز تھا بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھیاس نے مجھ سے ہاتھ چھڑایا جان چھڑائی میں نے بھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- عدو کا ذکر نہیں دوستوں کا نام نہیںزباں پہ آج کوئی حرف انتقام نہیںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- عشق بار دگر ہوا ہی نہیںدل لگایا تھا دل لگا ہی نہیںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کشت امید بارور نہ ہوئیلاکھ سورج اگے سحر نہ ہوئیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیامجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لوہمارے آنسوؤں پر خاک ڈالوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کراب تک کھڑے ہوئے ہیں وہیں ہاتھ جوڑ کرLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کیسی مہک کہاں کا کوئی پھول باغ میںبس رنگ بے وفائی ہے مقبول باغ میںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئےوہ جو خواب سے لب بام تھے مجھے کھا گئےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- محراب خوش قیام سے آگے نکل گئیخوشبو دیے کی شام سے آگے نکل گئیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائےوہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- نہ اب مجھ کو صدا دو تھک گیا میںتمہی جاؤ ارادو تھک گیا ہوںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کوفاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ کم ہے ہم کوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ہجر ہجرت سے سوا ہو گیا گھر آتے ہیمیں تو خود سے بھی جدا ہو گیا گھر آتے ہیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- آج کل میرے تصرف میں نہیں ہے لیکنزندگی شہر میں ہوگی کہیں دو چار کے پاسLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- بہت ضخیم کتابوں سے چن کے لایا ہوںانہیں پڑھو ورق انتخاب ہیں مرے دوستLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- بے بسی کا زہر سینے میں اتر جاتا ہے کیامیں جسے آواز دیتا ہوں وہ مر جاتا ہے کیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- دور تک ساتھ چلا ایک سگ آوارہآج تنہائی کی اوقات پہ رونا آیاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- زمانوں بعد ملے ہیں تو کیسے منہ پھیروںمرے لیے تو پرانی شراب ہیں مرے دوستLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- قیامت تک رہے گی روح آبادمحبت ہے تو ہم زندہ رہیں گےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کشمکش ناخن و دنداں کی تھمے تو پھر میںگل آئینہ سے کھینچوں رگ حیرانی کوLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کیسا ہجوم کوچۂ تنہائی تھا کہ میںآگے بڑھا نہ دست و گریباں ہوئے بغیرLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہوگیگزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولاLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- مجھے دوراہے پہ لانے والوں نے یہ نہ سوچامیں چھوڑ دوں گا یہ راستہ بھی وہ راستہ بھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- مجھے مناؤ نہیں میرا مسئلہ سمجھوخفا نہیں میں پریشان ہوں زمانے سےLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیںجس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارکLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)