Poetry
- آپ اپنا غبار تھے ہم تویاد تھے یادگار تھے ہم توJaun Elia (1931–2002)
- آج بھی تشنگی کی قسمت میںسم قاتل ہے سلسبیل نہیںJaun Elia (1931–2002)
- آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیاتذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیاJaun Elia (1931–2002)
- آخری بار آہ کر لی ہےمیں نے خود سے نباہ کر لی ہےJaun Elia (1931–2002)
- آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاJaun Elia (1931–2002)
- اب کسی سے مرا حساب نہیںمیری آنکھوں میں کوئی خواب نہیںJaun Elia (1931–2002)
- اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھاسب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھاJaun Elia (1931–2002)
- ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیںکوئی خاموش ہو گیا ہے کہیںJaun Elia (1931–2002)
- ابھی فرمان آیا ہے وہاں سےکہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سےJaun Elia (1931–2002)
- اپنا خاکہ لگتا ہوںایک تماشا لگتا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- اپنی منزل کا راستہ بھیجوجان ہم کو وہاں بلا بھیجوJaun Elia (1931–2002)
- اپنے سب یار کام کر رہے ہیںاور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- اس نے ہم کو گمان میں رکھااور پھر کم ہی دھیان میں رکھاJaun Elia (1931–2002)
- اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کامقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کاJaun Elia (1931–2002)
- اک سایہ مرا مسیحا تھاکون جانے وہ کون تھا کیا تھاJaun Elia (1931–2002)
- اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میںسب کے دل سے اتر گیا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- انقلاب ایک خواب ہے سو ہےدل کی دنیا خراب ہے سو ہےJaun Elia (1931–2002)
- ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میںہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہےکس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہےJaun Elia (1931–2002)
- ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہےدھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہےJaun Elia (1931–2002)
- اے صبح میں اب کہاں رہا ہوںخوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئےجو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئےJaun Elia (1931–2002)
- اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوااس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہواJaun Elia (1931–2002)
- بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئیسو مرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئیJaun Elia (1931–2002)
- باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گےہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گےJaun Elia (1931–2002)
- بجا ارشاد فرمایا گیا ہےکہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہےJaun Elia (1931–2002)
- بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیاپا پیادہ ہو کے کوئی شہسوار آیا تو کیاJaun Elia (1931–2002)
- بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہےJaun Elia (1931–2002)
- بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میںمیں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میںJaun Elia (1931–2002)
- بہت دل کو کشادہ کر لیا کیازمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیاJaun Elia (1931–2002)
- بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بنسراپا آرزو ہوں آرزو بنJaun Elia (1931–2002)
- بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گےصرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گےJaun Elia (1931–2002)
- بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہےJaun Elia (1931–2002)
- تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میںاک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میںJaun Elia (1931–2002)
- تجھ میں پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ میںحالت نہ پوچھیو تو حالت نہیں ہے مجھ میںJaun Elia (1931–2002)
- ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گامیں آج تیرا گریبان پھاڑ ڈالوں گاJaun Elia (1931–2002)
- تشنگی نے سراب ہی لکھاخواب دیکھا تھا خواب ہی لکھاJaun Elia (1931–2002)
- تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہوجو ملے خواب میں وہ دولت ہوJaun Elia (1931–2002)
- تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہومیں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہوJaun Elia (1931–2002)
- تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کوہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کوJaun Elia (1931–2002)
- تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہےتیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہےJaun Elia (1931–2002)
- جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھاوہ جو ابھی یہاں تھا وہ کون تھا کہاں تھاJaun Elia (1931–2002)
- جاؤ قرار بے دلاں شام بخیر شب بخیرصحن ہوا دھواں دھواں شام بخیر شب بخیرJaun Elia (1931–2002)
- جز گماں اور تھا ہی کیا میرافقط اک میرا نام تھا میراJaun Elia (1931–2002)
- جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیےبہتر یہ ہے کہ آپ مجھے بھول جائیےJaun Elia (1931–2002)
- جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نامذات سے اپنی نہ ہلنے کا سفر رکھا ہے نامJaun Elia (1931–2002)
- جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیںیعنی جو کچھ بھی تھا وہ تھا بھی نہیںJaun Elia (1931–2002)
- جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگیچاندنی میں ٹہل رہی ہوگیJaun Elia (1931–2002)