تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں

Jaun Elia (1931–2002)

تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں

اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں

دل سے ستم کی بے سر و کاری ہوا کو ہے

وہ گرد اڑ رہی ہے کہ خود کو گنواؤں میں

وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیں

وہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں

کیوں کر ہو اپنے خواب کی آنکھوں میں واپسی

کس طور اپنے دل کے زمانوں میں جاؤں میں

اک رنگ سی کمان ہو خوشبو سا ایک تیر

مرہم سی واردات ہو اور زخم کھاؤں میں

شکوہ سا اک دریچہ ہو نشہ سا اک سکوت

ہو شام اک شراب سی اور لڑکھڑاؤں میں

پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل

اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں

تم سے بھی اب تو جا چکا ہوں میں

دور ہا دور آ چکا ہوں میں

یہ بہت غم کی بات ہو شاید

اب تو غم بھی گنوا چکا ہوں میں

اس گمان گماں کے عالم میں

آخرش کیا بھلا چکا ہوں میں

اب ببر شیر اشتہا ہے مری

شاعروں کو تو کھا چکا ہوں میں

میں ہوں معمار پر یہ بتلا دوں

شہر کے شہر ڈھ چکا ہوں میں

حال ہے اک عجب فراغت کا

اپنا ہر غم منا چکا ہوں میں

لوگ کہتے ہیں میں نے جوگ لیا

اور دھونی رما چکا ہوں میں

نہیں املا درست غالبؔ کا

شیفتہؔ کو بتا چکا ہوں میں