Poetry
- اب تک ہماری عقل سے پردہ ہٹا نہیںسمجھا اسی کو آسرا جو آسرا نہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
- اس قدر عام نہ کر انجمن آرائی کوہم ترس جائیں مذاق غم تنہائی کوIftikhar Ahamad Siddiqi
- اول تو جلوہ گاہ میں دل کی بساط کیادل ہے جنوں نواز تو پھر احتیاط کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- ایک ہی نغمہ کبھی سوز کبھی ساز میں ہےایسا اعجاز فقط وقت کی آواز میں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
- پہلے میرے پاؤں میں زنجیر عصیاں دیکھیےپھر تماشائے طلسم بزم امکاں دیکھیےIftikhar Ahamad Siddiqi
- ترے حضور نہ خالی کسی کا جام رہاوہ خوش نصیب تو میں ہوں کہ تشنہ کام رہاIftikhar Ahamad Siddiqi
- تنظیم دہر کی تو سہی خیر و شر کے ساتھلیکن خطا و سہو لگا کر بشر کے ساتھIftikhar Ahamad Siddiqi
- خواب میں آیا نظر مصر کا بازار مجھےاس کی تعبیر تو دے اے نگہ یار مجھےIftikhar Ahamad Siddiqi
- دنیا میں بے حجاب مری ذات بھی تو ہواے عشق تیری کوئی کرامات بھی تو ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
- شراب حسن سے کچھ ایسے ہم ہوئے مخمورکہ ہوش تک نہ تھا باقی کہاں کا حسن شعورIftikhar Ahamad Siddiqi
- شکوۂ بخت ہے فضول گردش روزگار کیاوقت کی تو بساط الٹ بیٹھا ہے سوگوار کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- عجیب چیز ہے دل آدمی کے سینے میںہے کائنات کا ہر راز اس دفینے میںIftikhar Ahamad Siddiqi
- عشق میں سوز نہ ہو حسن میں تسخیر نہ ہوپھر تو تخریب ہی دنیا میں ہو تعمیر نہ ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
- کوئی تکلیف ہماری ہے نہ غم آپ کے ہیںآج سے آپ ہمارے ہیں نہ ہم آپ کے ہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
- کھلا یہ آدم و ابلیس کے فسانے سےکہ یہ جہان بنا ہے فریب کھانے سےIftikhar Ahamad Siddiqi
- گلشن دہر کی فضا اب نہیں سوگوار کیادور خزاں سے ہو گئی عہدہ برا بہار کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہےکہ تیرے در کے سوا مرا سر کسی کے در پر جھکا نہیں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
- یہ کفر ہم نے کیا عمر بھر خدا جانےخدا کی ذات کو انساں سے ماورا جانےIftikhar Ahamad Siddiqi