Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تک ہماری عقل سے پردہ ہٹا نہیںسمجھا اسی کو آسرا جو آسرا نہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
  2. اس قدر عام نہ کر انجمن آرائی کوہم ترس جائیں مذاق غم تنہائی کوIftikhar Ahamad Siddiqi
  3. اول تو جلوہ گاہ میں دل کی بساط کیادل ہے جنوں نواز تو پھر احتیاط کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
  4. ایک ہی نغمہ کبھی سوز کبھی ساز میں ہےایسا اعجاز فقط وقت کی آواز میں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
  5. پہلے میرے پاؤں میں زنجیر عصیاں دیکھیےپھر تماشائے طلسم بزم امکاں دیکھیےIftikhar Ahamad Siddiqi
  6. ترے حضور نہ خالی کسی کا جام رہاوہ خوش نصیب تو میں ہوں کہ تشنہ کام رہاIftikhar Ahamad Siddiqi
  7. تنظیم دہر کی تو سہی خیر و شر کے ساتھلیکن خطا و سہو لگا کر بشر کے ساتھIftikhar Ahamad Siddiqi
  8. خواب میں آیا نظر مصر کا بازار مجھےاس کی تعبیر تو دے اے نگہ یار مجھےIftikhar Ahamad Siddiqi
  9. دنیا میں بے حجاب مری ذات بھی تو ہواے عشق تیری کوئی کرامات بھی تو ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
  10. شراب حسن سے کچھ ایسے ہم ہوئے مخمورکہ ہوش تک نہ تھا باقی کہاں کا حسن شعورIftikhar Ahamad Siddiqi
  11. شکوۂ بخت ہے فضول گردش روزگار کیاوقت کی تو بساط الٹ بیٹھا ہے سوگوار کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
  12. عجیب چیز ہے دل آدمی کے سینے میںہے کائنات کا ہر راز اس دفینے میںIftikhar Ahamad Siddiqi
  13. عشق میں سوز نہ ہو حسن میں تسخیر نہ ہوپھر تو تخریب ہی دنیا میں ہو تعمیر نہ ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
  14. کوئی تکلیف ہماری ہے نہ غم آپ کے ہیںآج سے آپ ہمارے ہیں نہ ہم آپ کے ہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
  15. کھلا یہ آدم و ابلیس کے فسانے سےکہ یہ جہان بنا ہے فریب کھانے سےIftikhar Ahamad Siddiqi
  16. گلشن دہر کی فضا اب نہیں سوگوار کیادور خزاں سے ہو گئی عہدہ برا بہار کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
  17. معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہےکہ تیرے در کے سوا مرا سر کسی کے در پر جھکا نہیں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
  18. یہ کفر ہم نے کیا عمر بھر خدا جانےخدا کی ذات کو انساں سے ماورا جانےIftikhar Ahamad Siddiqi