Poetry
- آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارکمت آئے بہ ہر حال اسے عید مبارکIdris Babar (b. 1973)
- اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیںتیری خاطر جو گلدستہ ڈھونڈ رہا ہےIdris Babar (b. 1973)
- انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیںیہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیںIdris Babar (b. 1973)
- ایک دن خواب نگر جانا ہےاور یونہی خاک بسر جانا ہےIdris Babar (b. 1973)
- بہت دن ہو گئے دریا کی جانب آ نہیں پائےپرندو خیر سے تو ہو کہ پر پھیلا نہیں پائےIdris Babar (b. 1973)
- بھائی خدا کے بندہ جانیں دل کو جیسے رام کیااپنی بدھائی ہو دنیا پر چار چھ دن جو کام کیاIdris Babar (b. 1973)
- تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئےفقیر حجرۂ ہفت آسماں اٹھائے ہوئےIdris Babar (b. 1973)
- جیتی رہو کہانیو ملتے ہیں یار ایک دنایک ہزار ایک رات ایک ہزار ایک دنIdris Babar (b. 1973)
- خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیںسوال یہ ہے کہ یوں کتنی دیر ہم کئے جائیںIdris Babar (b. 1973)
- خیمگیٔ شب ہے تشنگی دن ہےوہی دریا ہے اور وہی دن ہےIdris Babar (b. 1973)
- دل کا اور حال مضافات کا کب اچھا ہےپر تجھے دیکھ کے لگتا ہے کہ سب اچھا ہےIdris Babar (b. 1973)
- دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھودہر یہ اپنا خسارا سمجھوIdris Babar (b. 1973)
- دل میں ہے اتفاق سے دشت بھی گھر کے ساتھ ساتھاس میں قیام بھی کریں آپ سفر کے ساتھ ساتھIdris Babar (b. 1973)
- دھوم گم گشتہ خزانوں کی مچاتا پھرے کونان زمانوں میں جو تھے ہی نہیں جاتا پھرے کونIdris Babar (b. 1973)
- دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کرہم سو گئے خواب سے لپٹ کرIdris Babar (b. 1973)
- دیکھ نہ اس طرح گزار عرصۂ چشم سے مجھےفرصت دید ہو نہ ہو مہلت خواب دے مجھےIdris Babar (b. 1973)
- ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہےایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہےIdris Babar (b. 1973)
- زندگی چاکلیٹ کیک ہے تھوڑا تھوڑا سب کا حصہ ہےاب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہرIdris Babar (b. 1973)
- فراق و وصل تو یک دم تھیں عارضی رسمیںہمیں گناہ نے باندھا ہوا ہے آپس میںIdris Babar (b. 1973)
- کرتے پھرتے ہیں غزالاں ترا چرچا صاحبہم بھی نکلے ہیں تجھے دیکھنے صحرا صاحبIdris Babar (b. 1973)
- کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہےمرے عزیز کو ہر اک بہانہ آتا ہےIdris Babar (b. 1973)
- گل سخن سے اندھیروں میں تاب کاری کرنئے ستارے کھلا خواب شار جاری کرIdris Babar (b. 1973)
- مرے قریب ہی مہتاب دیکھ سکتا تھاگئے دنوں میں یہ تالاب دیکھ سکتا تھاIdris Babar (b. 1973)
- مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میںکتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میںIdris Babar (b. 1973)
- میں اسے سوچتا رہا یعنیوہ مرا خواب ہے خدا یعنیIdris Babar (b. 1973)
- ورنہ کیا آب و ہوا چیز ہے کیسا موسمتیرے آنے سے ہوا شہر میں اچھا موسمIdris Babar (b. 1973)
- وہ شہر اتفاق سے نہیں ملاہمیں تو کچھ بھی خاک سے نہیں ملاIdris Babar (b. 1973)
- وہ گل وہ خوابشار بھی نہیں رہاسو دل یہ خاکسار بھی نہیں رہاIdris Babar (b. 1973)
- یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میںابھی روشن ہے اک دیا مجھ میںIdris Babar (b. 1973)
- یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیںٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیںIdris Babar (b. 1973)
- آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیاشام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھIdris Babar (b. 1973)
- اب تو مشکل ہے کسی اور کا ہونا مرے دوستتو مجھے ایسے ہوا جیسے کرونا مرے دوستIdris Babar (b. 1973)
- پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہےاس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھرIdris Babar (b. 1973)
- تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اورہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھاIdris Babar (b. 1973)
- تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہواتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!Idris Babar (b. 1973)
- ٹوٹ سکتا ہے چھلک سکتا ہے چھن سکتا ہےاتنا سوچے تو کوئی جام اچھالے کیسےIdris Babar (b. 1973)
- ٹینشن سے مرے گا نہ کرونے سے مرے گااک شخص ترے پاس نہ ہونے سے مرے گاIdris Babar (b. 1973)
- خودکشی بھی نہیں مرے بس میںلوگ بس یوں ہی مجھ سے ڈرتے ہیںIdris Babar (b. 1973)
- دل کی اک ایک خرابی کا سبب جانتے ہیںپھر بھی ممکن ہے کہ ہم تم سے مروت کر جائیںIdris Babar (b. 1973)
- دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھملتا جلتا تھا لبادہ میراIdris Babar (b. 1973)
- ریگ دل میں کئی نادیدہ پرندے بھی ہیں دفنسوچتے ہوں گے کہ دریا کی زیارت کر جائیںIdris Babar (b. 1973)
- مر گیا خاص طور پر میں بھیجس طرح عام لوگ مرتے ہیںIdris Babar (b. 1973)
- موت اکتا چکی ریہرسل میںروز دو چار شخص مرتے ہیںIdris Babar (b. 1973)
- میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گےشاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتاIdris Babar (b. 1973)
- وہ بہت دور ہے مگر مرے پاسایک ہی سمت کا کرایا ہےIdris Babar (b. 1973)
- وہی خواب ہے وہی باغ ہے وہی وقت ہےمگر اس میں اس کے بغیر جی نہیں لگ رہاIdris Babar (b. 1973)
- یہ کرن کہیں مرے دل میں آگ لگا نہ دےیہ معائنہ مجھے سرسری نہیں لگ رہاIdris Babar (b. 1973)