بہت دن ہو گئے دریا کی جانب آ نہیں پائے
Idris Babar (b. 1973)بہت دن ہو گئے دریا کی جانب آ نہیں پائے
پرندو خیر سے تو ہو کہ پر پھیلا نہیں پائے
گئی گزری سحر شامیں مگر ویرانۂ جاں میں
کھلے کچھ پھول ایسے جو کبھی مرجھا نہیں پائے
جناب اب زیر آب آرام سے دیکھیں اچھوتے خواب
جو ان مٹ میلی آنکھوں سے تو حق منوا نہیں پائے
برستی ہے کبھی آگ اور کبھی پانی امڈتا ہے
مگر یہ ہاتھ ہیں جو آسماں تک جا نہیں پائے
اب اس دل ہی کو لو آرام کیوں اس کو نہیں آتا
یہی تو بات ہے جو ہم تمہیں سمجھا نہیں پائے