Poetry
- آفتاب اب نہیں نکلنے کادور آیا شراب ڈھلنے کاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹااوروں کا زر لٹا مرا نقد سخن لٹاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھااس پیچ سے دل اپنا نکل جائے تو اچھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیںہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- اے مہرؔ جو واں نقاب سر کاتڑکا ہو جائے گا سحر کاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوںخدا کا آسرا ہے اور میں ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہواجان آئے جو وہاں ہو کے یہاں آئے ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
- بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیںنشہ کی ڈوری نہیں پہنے ہیں زنار آنکھیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پتلی کی عوض ہوں بت رعناۓ بنارساللہ پھر ان آنکھوں کو دکھلائے بنارسHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارااے مہرؔ چمک جائے گا اقبال ہماراHatim Ali Mehr (1815–1879)
- جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گاپسینے کو عطر حنا کیجئے گاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- چین پہلو میں اسے صبح نہیں شام نہیںایک دم بھی دل بیمار کو آرام نہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- دریا طوفان بہہ رہا ہےآنکھوں کا عجیب ماجرا ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئیکعبہ کو ڈھ گئی یہ بلا کام کر گئیHatim Ali Mehr (1815–1879)
- دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکااور مستی مل چکے گیسو میں شانہ ہو چکاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیاآئنہ محو تماشا ہو گیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میںبنے گی موج بھی میرے لیے زنار پانی میںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیںساتھ کے یار چلتے جاتے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- زلف اندھیر کرنے والی ہےتم نے ناگن بلا کی پالی ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوںصورت ترکیب موزوں مصرع مہمل میں ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولیکیا حال ہے امسال یہ کیا رنگ ہے ہولیHatim Ali Mehr (1815–1879)
- سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہہم سے کرتا ہے سرکشی شیشہHatim Ali Mehr (1815–1879)
- عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اوریار نے آئینے میں اپنا سا دیکھا ایک اورHatim Ali Mehr (1815–1879)
- عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقتوہ دوپہر کہ جو مخصوص ہے زوال کا وقتHatim Ali Mehr (1815–1879)
- عشق جان جہاں نصیب ہوااک زمانہ مرا رقیب ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
- غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوںمیں بیابانوں میں رونے کو نکل جاتا ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئیاب تو اے سودائیو زنجیر آدھی رہ گئیHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہمجاتے ہیں کوئے یار میں پہلے صبا سے ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کوئی لے کر خبر نہیں آتاجو گیا نامہ بر نہیں آتاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصلمیرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصلHatim Ali Mehr (1815–1879)
- گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہےبس اب پاؤں ہیں اپنے اور سر خار مغیلاں ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- گزرا اپنا پس مردن ہی سہیکوچۂ یار میں مدفن ہی سہیHatim Ali Mehr (1815–1879)
- میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھاراستہ دیکھ لیا ہے مرے گھر کا سیدھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرےہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئےدے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہماے بحر حسن آ ادھر آ آشنا ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
- اس کا حال کمر کھلا ہمدمہم کو ملک عدم ملا ہمدمHatim Ali Mehr (1815–1879)
- بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہےشرار سنگ موسیٰ کے لیے برق تجلیٰ ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیاشب کو ہمیں خورشید درخشاں نظر آیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہمبیٹھیں گے جنوں میں تو نہ بیکار کبھی ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکےواعظ احساں کر جو تجھ سے ہو سکےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوسنہیں اپنا بس نہیں اپنا بس نہیں اپنا نہیں اپنا بسHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہماک بت ناآشنا سے دل لگا بیٹھے ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گےتو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھااپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہواکوہ کن سے دوستی مجنوں سے یارانہ ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
- وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیاوہ خار ہوں کہ پہلوے گل کو دبا لیاHatim Ali Mehr (1815–1879)