Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آفتاب اب نہیں نکلنے کادور آیا شراب ڈھلنے کاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  2. اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹااوروں کا زر لٹا مرا نقد سخن لٹاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  3. اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھااس پیچ سے دل اپنا نکل جائے تو اچھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  4. ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیںہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  5. اے مہرؔ جو واں نقاب سر کاتڑکا ہو جائے گا سحر کاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  6. بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوںخدا کا آسرا ہے اور میں ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  7. بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہواجان آئے جو وہاں ہو کے یہاں آئے ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
  8. بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیںنشہ کی ڈوری نہیں پہنے ہیں زنار آنکھیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  9. پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارساللہ پھر ان آنکھوں کو دکھلائے بنارسHatim Ali Mehr (1815–1879)
  10. پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارااے مہرؔ چمک جائے گا اقبال ہماراHatim Ali Mehr (1815–1879)
  11. جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گاپسینے کو عطر حنا کیجئے گاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  12. چین پہلو میں اسے صبح نہیں شام نہیںایک دم بھی دل بیمار کو آرام نہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  13. دریا طوفان بہہ رہا ہےآنکھوں کا عجیب ماجرا ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  14. دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئیکعبہ کو ڈھ گئی یہ بلا کام کر گئیHatim Ali Mehr (1815–1879)
  15. دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکااور مستی مل چکے گیسو میں شانہ ہو چکاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  16. دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیاآئنہ محو تماشا ہو گیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  17. ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میںبنے گی موج بھی میرے لیے زنار پانی میںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  18. رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیںساتھ کے یار چلتے جاتے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  19. زلف اندھیر کرنے والی ہےتم نے ناگن بلا کی پالی ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  20. ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوںصورت ترکیب موزوں مصرع مہمل میں ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  21. ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولیکیا حال ہے امسال یہ کیا رنگ ہے ہولیHatim Ali Mehr (1815–1879)
  22. سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہہم سے کرتا ہے سرکشی شیشہHatim Ali Mehr (1815–1879)
  23. عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اوریار نے آئینے میں اپنا سا دیکھا ایک اورHatim Ali Mehr (1815–1879)
  24. عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقتوہ دوپہر کہ جو مخصوص ہے زوال کا وقتHatim Ali Mehr (1815–1879)
  25. عشق جان جہاں نصیب ہوااک زمانہ مرا رقیب ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
  26. غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوںمیں بیابانوں میں رونے کو نکل جاتا ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  27. قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئیاب تو اے سودائیو زنجیر آدھی رہ گئیHatim Ali Mehr (1815–1879)
  28. کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہمجاتے ہیں کوئے یار میں پہلے صبا سے ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  29. کوئی لے کر خبر نہیں آتاجو گیا نامہ بر نہیں آتاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  30. کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصلمیرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصلHatim Ali Mehr (1815–1879)
  31. گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہےبس اب پاؤں ہیں اپنے اور سر خار مغیلاں ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  32. گزرا اپنا پس مردن ہی سہیکوچۂ یار میں مدفن ہی سہیHatim Ali Mehr (1815–1879)
  33. میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھاراستہ دیکھ لیا ہے مرے گھر کا سیدھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  34. نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرےہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  35. نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئےدے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  36. ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہماے بحر حسن آ ادھر آ آشنا ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  37. اس کا حال کمر کھلا ہمدمہم کو ملک عدم ملا ہمدمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  38. بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہےشرار سنگ موسیٰ کے لیے برق تجلیٰ ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  39. پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیاشب کو ہمیں خورشید درخشاں نظر آیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  40. چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہمبیٹھیں گے جنوں میں تو نہ بیکار کبھی ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  41. ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکےواعظ احساں کر جو تجھ سے ہو سکےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  42. کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوسنہیں اپنا بس نہیں اپنا بس نہیں اپنا نہیں اپنا بسHatim Ali Mehr (1815–1879)
  43. کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہماک بت ناآشنا سے دل لگا بیٹھے ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  44. کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گےتو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  45. گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھااپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  46. وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہواکوہ کن سے دوستی مجنوں سے یارانہ ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
  47. وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیاوہ خار ہوں کہ پہلوے گل کو دبا لیاHatim Ali Mehr (1815–1879)