Poetry
- آپ ہی سے نہ جب رہا مطلبپھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلبHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیاجب ہوک کلیجے میں اٹھی تو ہاتھوں سے دل تھام لیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- اب تو نہیں آسرا کسی کااللہ ہے اپنی بیکسی کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کیغرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتےہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہےہم ادھر مجبور ہیں اور وہ ادھر مجبور ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکےکہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میںیعنی خزاں رسیدہ کچھ پھول ہیں چمن میںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ان کو دل دے کے پشیمانی ہےیہ بھی اک طرح کی نادانی ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہومری حسرت مرے ارمان ہو میری تمنا ہوHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بت کدہ نزدیک کعبہ دور تھامیں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھیکوئی کرتا تھا جب میری شکایت غائبانہ بھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہےہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کرآیا ہوں ادھر کوچۂ جانانہ سمجھ کرHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- پی ہم نے بہت شراب توبہاے گرمیٔ آفتاب توبہHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جان ہی جائے تو جائے درد دلاک یہی ہے اب دوائے درد دلHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتیہوں پیار کی باتیں بھی تو لذت نہیں ملتیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اباجل لگا دے کہیں گور کے کنارے ابHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہاپھر بھی پوشیدہ مرا حال پریشاں نہ رہاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھینہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھاوفور عیش میں اندیشۂ مآل نہ تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملاہمیں یہ دل نہ ملا جان کا عذاب ملاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- خود بخود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہےروز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دل اس لئے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوستجب یہ نہ ہو بغل میں ہے دشمن بجائے دوستHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹپھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شایدقاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شایدHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دل میں ہیں وصل کے ارمان بہتجمع اس گھر میں ہیں مہمان بہتHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دل ہے تو ترے وصل کے ارمان بہت ہیںیہ گھر جو سلامت ہے تو مہمان بہت ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دنیا میں یوں تو ہر کوئی اپنی سی کر گیازندہ ہے اس کا نام کسی پر جو مر گیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دیا جب جام مے ساقی نے بھر کےتو پچھتائے بہت ہم توبہ کر کےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئیدرد کو دل سے محبت ہو گئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- سن کے میرے عشق کی روداد کولوگ بھولے قیس کو فرہاد کوHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھےکسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- شب وصل ہے بحث حجت عبثیہ شکوے عبث یہ شکایت عبثHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیںتم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- صبح کو آئے ہو نکلے شام کےجاؤ بھی اب تم مرے کس کام کےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- صدمے جو کچھ ہوں دل پہ سہیےپوچھے بھی کوئی تو چپ ہی رہیےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- قاصد خلاف خط کہیں تیرا بیاں نہ ہوکرنا سنبھل کے بات کہ وہ بد گماں نہ ہوHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینااک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لیناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کسی کو دیکھ کر بے خود دل کام ہو جانااسی کو لوگ کہتے ہیں خیال خام ہو جاناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کوئی جہاں میں نہ یا رب ہو مبتلائے فراقکسی کی جان کی دشمن نہ ہو بلائے فراقHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھاوہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیںوہی کر گزرتے ہیں جو ٹھانتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھیپھر بھی سو کام سے دنیا کے محبت اچھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذیار ہو جائے گلے کا تعویذHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیںہم ان کو آزماتے ہیں وہ ہم کو آزماتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سےلیا ہے راہبر کا کام اکثر میں نے دشمن سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مصیبتیں تو اٹھا کر بڑی بڑی بھولےمگر فراق کی ایذا نہ اک گھڑی بھولےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- منہ مرا ایک ایک تکتا تھااس کی محفل میں میں تماشا تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- نازنیں جن کے کچھ نیاز نہیںان حسینوں سے دل کو ساز نہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)