Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہاروشن چراغ دور کسی طاق میں رہاEjaz Gul
  2. استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیاحاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیاEjaz Gul
  3. اسی جنت جہنم میں مروں گاگئے موسم کو آوازیں نہ دوں گاEjaz Gul
  4. پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھباقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھEjaz Gul
  5. پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھاذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھاEjaz Gul
  6. جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہےاگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہےEjaz Gul
  7. چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہواایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہواEjaz Gul
  8. خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کاورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کاEjaz Gul
  9. در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہریہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہرEjaz Gul
  10. دشوار ہے اب راستا آسان سے آگےرکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگےEjaz Gul
  11. صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤںاب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤںEjaz Gul
  12. عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کاہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کاEjaz Gul
  13. قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئےراکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئےEjaz Gul
  14. کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچمیں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچEjaz Gul
  15. کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گیکہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گیEjaz Gul
  16. گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سےمیں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سےEjaz Gul
  17. گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنایاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہناEjaz Gul
  18. محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہےچاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہےEjaz Gul
  19. ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گےروحوں کی خوشبو میں ہوں گی باہوں کے گجرے ہوں گےEjaz Gul
  20. یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کےذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کےEjaz Gul
  21. یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میںکہ مل رہا نہیں اپنا نشاں کہاں گیا میںEjaz Gul
  22. برگ آوارہ صدا آئے ہیںکوئی آوازۂ پا لائے ہیںEjaz Gul
  23. کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پرکون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہےEjaz Gul
  24. گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہےآزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیںEjaz Gul
  25. سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا روناتیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہےEjaz Gul
  26. نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سازمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہےEjaz Gul