Poetry
- اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہاروشن چراغ دور کسی طاق میں رہاEjaz Gul
- استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیاحاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیاEjaz Gul
- اسی جنت جہنم میں مروں گاگئے موسم کو آوازیں نہ دوں گاEjaz Gul
- پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھباقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھEjaz Gul
- پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھاذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھاEjaz Gul
- جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہےاگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہےEjaz Gul
- چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہواایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہواEjaz Gul
- خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کاورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کاEjaz Gul
- در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہریہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہرEjaz Gul
- دشوار ہے اب راستا آسان سے آگےرکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگےEjaz Gul
- صورت سحر جاؤں اور در بدر جاؤںاب تو فیصلہ ٹھہرا رات سے گزر جاؤںEjaz Gul
- عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کاہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کاEjaz Gul
- قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئےراکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئےEjaz Gul
- کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچمیں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچEjaz Gul
- کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گیکہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گیEjaz Gul
- گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سےمیں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سےEjaz Gul
- گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنایاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہناEjaz Gul
- محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہےچاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہےEjaz Gul
- ہم تم جب بھی پیار کریں گے جان و دل صدقے ہوں گےروحوں کی خوشبو میں ہوں گی باہوں کے گجرے ہوں گےEjaz Gul
- یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کےذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کےEjaz Gul
- یہیں تھا بیٹھا ہوا درمیاں کہاں گیا میںکہ مل رہا نہیں اپنا نشاں کہاں گیا میںEjaz Gul
- برگ آوارہ صدا آئے ہیںکوئی آوازۂ پا لائے ہیںEjaz Gul
- کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پرکون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہےEjaz Gul
- گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہےآزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیںEjaz Gul
- سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا روناتیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہےEjaz Gul
- نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سازمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہےEjaz Gul