Poetry
- امید سے تھا تصور امید ہی نہ رہیشب فراق میں پہلی سی بے کلی نہ رہیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھیایک جذبات کی شدت تھی محبت کیا تھیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- بس اک کشاکش کا سلسلہ ہے ازل سے جو آج تک رہا ہےفلک کی منکر زمیں رہی ہے زمیں کا منکر فلک رہا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کوکسی نے کر دیا طوفاں سے آشنا مجھ کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- حجاب آنے لگا اب تو بلائے آسمانی کوخدا رکھے سلامت تیرے ناز باغبانی کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- خلش بخشی تپش بخشی گداز اپنا دیا میں نےمزاج حسن کو بھی کر دیا غم آشنا میں نےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کاجھلس گیا وہ حسین پودا جو ناز پروردہ تھا نمو کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوںترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگاحقیقت سامنے ہے جب تو افسانے سے کیا ہوگاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- دل اب اسیر زلف پریشاں نہیں رہاجب اپنا غم ہوا غم جاناں نہیں رہاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئےزلفوں سے کھیلتے تھے سر دار کیوں ہوئےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- زبان مے کدہ میں جس کو مے کش جام کہتے ہیںاسے ہم اپنے دل کا دوسرا اک نام کہتے ہیںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- ساغر میں بھی ڈھلتی رہتی ہے سجدوں میں بھی پلتی رہتی ہےخواہش ہے بہر حال ایک مگر سو بھیس بدلتی رہتی ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقیوہ کیا جانیں کہ ہے بادہ کشی بھی ایک فن ساقیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شاعر ہوئے تو کیا ہوئے احسانؔ ہی رہےمرزاؔ و میرؔ بن نہ سکے خان ہی رہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شکن جبیں پہ نہ لائے نظر جھکا کے چلےخودی کی لاش اٹھانی ہی تھی اٹھا کے چلےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شوق نظارہ جو سرگرم نظر ہوتا ہےجلوہ گر حسن بہ انداز دگر ہوتا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہاآیا خودی کو ہوش تو اک آن ہی رہاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہومرے شبستان آرزو کو نگار خانہ بنا رہی ہوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئیدے گیا مشغلہ چاک گریباں کوئیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کسی نافہم سے اظہار تمنا کرنااپنی خاموش محبت کو ہے رسوا کرناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- میں تخلیق شرر کرتا ہوں اپنے سوز پنہاں سےمیں پروانہ نہیں جو آگ لوں ہر شمع سوزاں سےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہاسی سے دامن کو چاک کرنا اسی سے دامن کے چاک سیناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کواور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- بڑی مشکلوں سے کاٹا بڑے کرب سے گزاراترے بعد کوئی لمحہ جو ملا کبھی خوشی کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شاید ابھی باقی ہے کچھ آگ محبت کیماضی کی چتاؤں سے اٹھتا ہے دھواں احساںؔEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شوق کے ممکنات کو دونوں ہی آزما چکےتم بھی فریب کھا چکے ہم بھی فریب کھا چکےEhsan Darbhangavi (1922–1998)