Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. امید سے تھا تصور امید ہی نہ رہیشب فراق میں پہلی سی بے کلی نہ رہیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  2. بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھیایک جذبات کی شدت تھی محبت کیا تھیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  3. بس اک کشاکش کا سلسلہ ہے ازل سے جو آج تک رہا ہےفلک کی منکر زمیں رہی ہے زمیں کا منکر فلک رہا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  4. بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کوکسی نے کر دیا طوفاں سے آشنا مجھ کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  5. حجاب آنے لگا اب تو بلائے آسمانی کوخدا رکھے سلامت تیرے ناز باغبانی کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  6. خلش بخشی تپش بخشی گداز اپنا دیا میں نےمزاج حسن کو بھی کر دیا غم آشنا میں نےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  7. خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کاجھلس گیا وہ حسین پودا جو ناز پروردہ تھا نمو کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  8. خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوںترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  9. خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگاحقیقت سامنے ہے جب تو افسانے سے کیا ہوگاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  10. دل اب اسیر زلف پریشاں نہیں رہاجب اپنا غم ہوا غم جاناں نہیں رہاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  11. دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئےزلفوں سے کھیلتے تھے سر دار کیوں ہوئےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  12. زبان مے کدہ میں جس کو مے کش جام کہتے ہیںاسے ہم اپنے دل کا دوسرا اک نام کہتے ہیںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  13. ساغر میں بھی ڈھلتی رہتی ہے سجدوں میں بھی پلتی رہتی ہےخواہش ہے بہر حال ایک مگر سو بھیس بدلتی رہتی ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  14. سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقیوہ کیا جانیں کہ ہے بادہ کشی بھی ایک فن ساقیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  15. شاعر ہوئے تو کیا ہوئے احسانؔ ہی رہےمرزاؔ و میرؔ بن نہ سکے خان ہی رہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  16. شکن جبیں پہ نہ لائے نظر جھکا کے چلےخودی کی لاش اٹھانی ہی تھی اٹھا کے چلےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  17. شوق نظارہ جو سرگرم نظر ہوتا ہےجلوہ گر حسن بہ انداز دگر ہوتا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  18. طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہاآیا خودی کو ہوش تو اک آن ہی رہاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  19. کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہومرے شبستان آرزو کو نگار خانہ بنا رہی ہوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  20. کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئیدے گیا مشغلہ چاک گریباں کوئیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  21. کسی نافہم سے اظہار تمنا کرنااپنی خاموش محبت کو ہے رسوا کرناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  22. میں تخلیق شرر کرتا ہوں اپنے سوز پنہاں سےمیں پروانہ نہیں جو آگ لوں ہر شمع سوزاں سےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  23. وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہاسی سے دامن کو چاک کرنا اسی سے دامن کے چاک سیناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  24. یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کواور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  25. بڑی مشکلوں سے کاٹا بڑے کرب سے گزاراترے بعد کوئی لمحہ جو ملا کبھی خوشی کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  26. شاید ابھی باقی ہے کچھ آگ محبت کیماضی کی چتاؤں سے اٹھتا ہے دھواں احساںؔEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  27. شوق کے ممکنات کو دونوں ہی آزما چکےتم بھی فریب کھا چکے ہم بھی فریب کھا چکےEhsan Darbhangavi (1922–1998)