Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہےلبوں پر اک بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہےBalbir Rathi
  2. احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھامیں آوازوں کے جنگل میں تب جانے کیا ڈھونڈ رہا تھاBalbir Rathi
  3. ایسے گم سم وہ سوچتے کیا تھےجانے یاروں کے فیصلے کیا تھےBalbir Rathi
  4. پھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گاپھر کسی دن اپنے اندر کچھ نہ کچھ مر جائے گاBalbir Rathi
  5. چاہا جن کو بھی زندگی کی طرحوہ ملے مجھ کو اجنبی کی طرحBalbir Rathi
  6. حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرحولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرحBalbir Rathi
  7. خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگبات کیا ہے اتنے چپ کیسے ہیں لوگBalbir Rathi
  8. ذرہ ذرہ پگھلنے والا تھاسارا منظر بدلنے والا تھاBalbir Rathi
  9. رات کیا ڈھل گئی سمندر میںگھل گئی تیرگی سمندر میںBalbir Rathi
  10. راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہمبحر غم میں موج کو ساحل سمجھ بیٹھے تھے ہمBalbir Rathi
  11. راہ میں یوں تو مرحلے ہیں بہتہم سفر پھر بھی آ گئے ہیں بہتBalbir Rathi
  12. زندگی اک جال میں الجھی ہوئی ہے آج بھیبے بسی پہلے جو تھی وہ بے بسی ہے آج بھیBalbir Rathi
  13. شہر بدلا ہوا سا لگتا ہےہر کوئی اوپرا سا لگتا ہےBalbir Rathi
  14. عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کونہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کوBalbir Rathi
  15. کسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتیتو پھر جذبات میں وہ بات ہی باقی نہیں رہتیBalbir Rathi
  16. گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی باتلوگ پھر بھی کر رہے ہیں مجھ کو سمجھانے کی باتBalbir Rathi
  17. محبت سے اگر بیزار ہو جاتے تو اچھا تھاہم اس دنیا میں دنیا دار ہو جاتے تو اچھا تھاBalbir Rathi
  18. محبت سے جنوں کی داستاں تک آ گیا ہوں میںکسی کے عشق میں دیکھو کہاں تک آ گیا ہوں میںBalbir Rathi