Poetry
- ابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہےلبوں پر اک بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہےBalbir Rathi
- احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھامیں آوازوں کے جنگل میں تب جانے کیا ڈھونڈ رہا تھاBalbir Rathi
- ایسے گم سم وہ سوچتے کیا تھےجانے یاروں کے فیصلے کیا تھےBalbir Rathi
- پھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گاپھر کسی دن اپنے اندر کچھ نہ کچھ مر جائے گاBalbir Rathi
- چاہا جن کو بھی زندگی کی طرحوہ ملے مجھ کو اجنبی کی طرحBalbir Rathi
- حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرحولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرحBalbir Rathi
- خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگبات کیا ہے اتنے چپ کیسے ہیں لوگBalbir Rathi
- ذرہ ذرہ پگھلنے والا تھاسارا منظر بدلنے والا تھاBalbir Rathi
- رات کیا ڈھل گئی سمندر میںگھل گئی تیرگی سمندر میںBalbir Rathi
- راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہمبحر غم میں موج کو ساحل سمجھ بیٹھے تھے ہمBalbir Rathi
- راہ میں یوں تو مرحلے ہیں بہتہم سفر پھر بھی آ گئے ہیں بہتBalbir Rathi
- زندگی اک جال میں الجھی ہوئی ہے آج بھیبے بسی پہلے جو تھی وہ بے بسی ہے آج بھیBalbir Rathi
- شہر بدلا ہوا سا لگتا ہےہر کوئی اوپرا سا لگتا ہےBalbir Rathi
- عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کونہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کوBalbir Rathi
- کسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتیتو پھر جذبات میں وہ بات ہی باقی نہیں رہتیBalbir Rathi
- گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی باتلوگ پھر بھی کر رہے ہیں مجھ کو سمجھانے کی باتBalbir Rathi
- محبت سے اگر بیزار ہو جاتے تو اچھا تھاہم اس دنیا میں دنیا دار ہو جاتے تو اچھا تھاBalbir Rathi
- محبت سے جنوں کی داستاں تک آ گیا ہوں میںکسی کے عشق میں دیکھو کہاں تک آ گیا ہوں میںBalbir Rathi