Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنی تجلیوں سے معمور ہو گئے ہمAbid Ali Abid (1906–1971)
  2. چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیںوہ تو بچارے خود ہیں بھکاری ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  3. چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کلوہی الجھن گھڑی گھڑی پل پلAbid Ali Abid (1906–1971)
  4. دشت ایمن سے چلے کوئے بتاں تک پہنچےتیرے دیوانے رموز دو جہاں تک پہنچےAbid Ali Abid (1906–1971)
  5. دل کا معاملہ نگۂ آشنا کے ساتھایسے ہے جیسے رابطۂ گل صبا کے ساتھAbid Ali Abid (1906–1971)
  6. دل کو مٹنے کا نشاں رہتا ہےآگ بجھنے پہ دھواں رہتا ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  7. دل ہے آئینۂ حیرت سے دو چار آج کی راتغم دوراں میں ہے عکس غم یار آج کی راتAbid Ali Abid (1906–1971)
  8. دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائےسانپ یادوں کے مہکتے ہوئے ڈسنے آئےAbid Ali Abid (1906–1971)
  9. ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والےموج در موج گئے پار اترنے والےAbid Ali Abid (1906–1971)
  10. زہراب ہو عطا کہ مئے لالہ گوں ملےساقی کسی طرح مرے دل کو سکوں ملےAbid Ali Abid (1906–1971)
  11. ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچےاے خوشا جنس امانت کہ امیں تک پہنچےAbid Ali Abid (1906–1971)
  12. سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیںوہ نہ جانے کدھر سے گزرے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  13. شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیںمری قسمت کہ وہی آبلہ پا ہوتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  14. صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گےآج وہ طرفہ تماشا ہے کہ سب دیکھیں گےAbid Ali Abid (1906–1971)
  15. عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائےچاک ہوں سب کے گریباں تو مزا آ جائےAbid Ali Abid (1906–1971)
  16. غم دوراں غم جاناں کا نشاں ہے کہ جو تھاوصف خوباں بہ حدیث دگراں ہے کہ جو تھاAbid Ali Abid (1906–1971)
  17. کچھ خاک رہ گزار تھے کچھ داغدار تھےمیرے چمن کے پھول شہید بہار تھےAbid Ali Abid (1906–1971)
  18. کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیںپھر ان سے عرض وفا کا ارادہ رکھتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  19. گل کی خونیں جگری یاد آئیپھر نسیم سحری یاد آئیAbid Ali Abid (1906–1971)
  20. مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گیدل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جائے گیAbid Ali Abid (1906–1971)
  21. نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئےہم یوں عروس غم کو سنوارے چلے گئےAbid Ali Abid (1906–1971)
  22. نغمہ ایسا بھی مرے سینۂ صد چاک میں ہےخوف سے حشر بپا گنبد افلاک میں ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  23. واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھایہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھاAbid Ali Abid (1906–1971)
  24. وہ کسی پر جفا نہیں کرتےاعتبار وفا نہیں کرتےAbid Ali Abid (1906–1971)
  25. ہم بن غم یار بھی جئے ہیںمرنے کے بڑے جتن کئے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  26. یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہےوہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  27. یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئےچراغ دل کہ سلگتا ہے آج سب کے لئےAbid Ali Abid (1906–1971)
  28. اے دل افسردہAbid Ali Abid (1906–1971)
  29. جو بھی منجملۂ آشفتہ سرا ہوتا ہےزینت محفل صاحب نظراں ہوتا ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  30. شام بہارAbid Ali Abid (1906–1971)
  31. فروغ ماہ سے کیا جگمگا رہی ہے بہارگلوں میں نور کی شمعیں جلا رہی ہے بہارAbid Ali Abid (1906–1971)
  32. کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہارسبھی کا چاک گریباں ہے دیکھیے کیا ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
  33. گردش جام نہیں رک سکتیجو بھی اے گردش دوراں گزرےAbid Ali Abid (1906–1971)
  34. گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھہجوم رنگ سے اندازۂ بہار نہ کرAbid Ali Abid (1906–1971)
  35. محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکاسیکھے تری نگاہ سے آداب خامشیAbid Ali Abid (1906–1971)
  36. یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہوادا شناس تو ہے آنکھ خونچکاں بھی تو ہوAbid Ali Abid (1906–1971)