Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہم خزاں کی اگر خبر رکھتےآشیانے میں پھول بھر رکھتےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  2. ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیںواقف نہیں عشرت کا ساماں کسے کہتے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  3. ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیااجڑے ہوئے علاقے کے عامل ہوئے تو کیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  4. ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سبہمیں اس دور میں برباد ہیں آباد ہیں سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
  5. یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گےیوں ہی ایڑیاں ہم رگڑتے رہیں گےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  6. آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کاسیلیٔ زلف رسا نے کلا توڑا سانپImdad Ali Bahr (1810–1878)
  7. آراستگی بڑی جلا ہےپتھر کی بغل میں آئنہ ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  8. بد طالعی کا علاج کیا ہوآزار بھی ہو تو لا دوا ہوImdad Ali Bahr (1810–1878)
  9. بشر روز ازل سے شیفتہ ہے شان و شوکت کاعناصر کے مرقع میں بھرا ہے نقش دولت کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  10. جذب الفت نے دکھایا اثر اپنا الٹاآہ جب ہونٹھوں پر آئی تو کلیجہ الٹاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  11. خورشید رخوں کا سامنا ہےشبنم صفت آبرو ہوا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  12. دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کیکہ آنکھوں میں پھرتی ہے صورت کسی کیImdad Ali Bahr (1810–1878)
  13. دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئےنئے سر سے پھر آگ بھڑکا گئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  14. شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہےمجھ کو فقط اپنی دل ناداں سے گلا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  15. قدرداں کوئی نہ اسفل ہے نہ اعلیٰ اپنانہ زمین پر نہ فلک پر ہے ٹھکانا اپناImdad Ali Bahr (1810–1878)
  16. گیا جوانی کا ساتھ سب کچھ وہ گرمئ عشق اب کہاں ہےجو میں نے اس وقت آہ کی ہے بجھی ہوئی آگ کا دھواں ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  17. میرے آگے تذکرہ معشوق و عاشق کا برااگلی باتیں مجھ کو یاد آتی ہیں یہ چرچا براImdad Ali Bahr (1810–1878)
  18. یہ کیا کہا مجھے او بد زباں بہت اچھاسنا لی اور بھی دو گالیاں بہت اچھاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  19. آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگیلوگ دیکھیں گے تماشا جو محبت ہوگیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  20. آؤ بیٹھو ہنسو مزا ہوکچھ تو فرماؤ کیوں خفا ہوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  21. اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہےاس کی بلا سے دل جو ہمارا اداس ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  22. بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میںلاکھوں ہی رنج ہم نے سہے ایک سال میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  23. بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایادونوں عالم سے جدا ہم نے ترا گھر پایاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  24. برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئےعکس آسمان پر جو پڑا ابر چھا گئےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  25. بلبل تو بہت ہیں گل رعنا نہیں کوئیبیمار ہزاروں ہیں مسیحا نہیں کوئیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  26. بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیںیہ پری رو ہوا سے لڑتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  27. پئے گل گشت سنا ہے کہ وہ آج آتے ہیںپھولوں کی بھی یہ خوشی ہے کہ کھلے جاتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  28. تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کوجب خاک ہوا میں تو ہوا لے گئی مجھ کوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  29. تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کادیکھا ہے آج آنکھوں سے لکھا نصیب کاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  30. تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیےپھرتے ہیں محتاج وہ اک دانے دانے کے لیےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  31. حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوںتلاش یار میں بھٹکا کیا میں بارہا برسوںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  32. حسن پر زیبا نہیں یہ لن ترانی آپ کیچار دن کی چاندنی ہے نوجوانی آپ کیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  33. دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہےجینے سے خفا جان سے بے زار پڑا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  34. دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہےکس لیے آپ کو دیوانہ بنا رکھا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  35. دل کو کوسو جو چاہتا ہےمیں نے کیا آپ کا لیا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  36. دل مرا خواب گاہ دلبر ہےبس یہی ایک سونے کا گھر ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  37. دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہےاس میں کیا آپ کا اجارا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  38. رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیںشام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  39. روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیاآج تو آنکھ سے اے رشک قمر دیکھ لیاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  40. شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دوجس طرف اس کی طبیعت ہے ادھر ہونے دوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  41. فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارااللہ بھی حاکم بھی طرف دار تمہاراLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  42. فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئیپھر وہی اپنی طبیعت ہو گئیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  43. کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیںکوئی مرے کہ جیے کچھ انہیں خیال نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  44. کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھاآئے یہاں تو حوصلۂ آشیاں نہ تھاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  45. کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والےیوں تو جاتے بھی مگر اب نہیں جانے والےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  46. کہا مانو محبت میں ضرر ہےطبیعت کو سنبھالو دل کدھر ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  47. کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھاکچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  48. کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئینکلی جو بات منہ سے تو پھیلی جہان میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  49. گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہووہ بے حجابیاں ہوں کہ نرگس بھی دنگ ہوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  50. ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیںغریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)