اڑے ہیں کوچۂ دلبر میں جان سے گزرے

Lutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)

اڑے ہیں کوچۂ دلبر میں جان سے گزرے

یہ جان کیا ہے کہ دونوں جہان سے گزرے

اگر وو ہوش ربا سربسر جو ہو محکوم

تو ہے قسم کہ ہر اک آن مان سے گزرے

بسنتی پوش کروں ہائے رے میں آنکھوں سے

تو زیر چشم اگر خوں فشان سے گزرے

قسم ہے تج کو چھڑکوا کے جم ہی جاوے گا

جو رنگ قطرۂ آب چکان سے گزرے

نہیں خبر تجھے ناصح کہ ہم گئے کاں تک

ترے تو عقل و قیاس و گمان سے گزرے

میں اک کشش میں پہنچ جاؤں یار تک اپنے

جو تیر چھوٹ کے جیسا کمان سے گزرے

جو چھر چھڑا کے دل لا مکاں کرے پرواز

توقع ہے کہ نوؤں آسمان سے گزرے

خیال یار کا توسن ہے خوش خرام مرا

خدا کبھی نہ کرے زیر ران سے گزرے

اگر نصیب ہی ہو جائے فقر کا مجھے فخر

تو زندگی مری کیا عز و شان سے گزرے

سخن ہیں حلقۂ مصرع میں جیوں در شہوار

ہے یہ رجا کہ قدر داں کے کان سے گزرے

اے امتیازؔ تو ہو زائر مدینہ حرم

تو کیا سرور و خوشی آن آن سے گزرے