Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جیتے جی تک شمع پر جیسا کرے پروانہ رقصدیکھ تج کو ووہیں کرتا ہے ترا دیوانہ رقصLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  2. دشت وحشت میں ہمارا اب ہوا ہے بود و باشسر پھرانے کو عبث صیاد کرتا ہے تلاشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  3. ہر نکتۂ بتاں ہے ادا ساز دل فریبخالی نہیں طرب سے یہ ہے ناز دل فریبLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  4. ہم پریشاں ہیں تری اس زلف بکھرانے کے ہاتروز و شب تڑپے ہیں ظالم اس کے بل کھانے کے ہاتLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  5. ہے دل عشاق تیرے جام و مینا بن خرابرحم کر اس وقت پر ساقی پیالہ دے شتابLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  6. ہے دھوم رنداں اک طرف ساقی کا ساماں اک طرفمینائے گریاں اک طرف اور جام خنداں اک طرفLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  7. دکھلائیں کس مزے سے اب کے بہار ہولیکھیلے ہیں سب جمع ہو کیا گلعذار ہولیLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  8. پند سے ناصح کے دوزخ کا مجھے کچھ خوف نئیںمغفرت بے شک ہوئی جس کا علی والی ہواLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  9. جنوں کے شاہ نے جب سے لیا ہے قلعۂ دل کویہ ملک عقل ویراں ہو گیا کس کس خرابی سےLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  10. عشق کے گھاٹ پر سنبھل کر چڑھکیوں کہ اوس کا چڑھاؤ مشکل ہےLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  11. آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہےتو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  12. بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوںشمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  13. مثل گل کھل کہ یہ غنچہ دہنی خوب نہیںبات کر ہم سے بھی کچھ کم سخنی خوب نہیںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  14. آتا نہیں جو سامنے مارے حجاب کےہم دل سے ہیں نثار اسی آفتاب کےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  15. بھروسہ ہے ترا ہی اور ہے تیرے سوا کس کانہ دیوے آسرا جب تو مجھے ہو آسرا کس کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  16. جب غنچے نے سر اپنا گریباں سے نکالابلبل نے قدم پھر نہ گلستاں سے نکالاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  17. جلوہ گر تھا ہر جگہ کعبہ تھا یا بت خانہ تھاگھر ہزاروں تھے مگر وہ ایک صاحب خانہ تھاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  18. حیراں تھا کہ دل میرا کہاں جا کے چھپا ہےجگنو کی طرح یار کی دستار میں چمکاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  19. نور تھا یا شعلہ تھا یا برق یا خورشید تھاکچھ تو اے موسیٰ کہو کیا تھا وہ جلوہ طور کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  20. نیکی کا کوئی کام ہی آیا نہیں مجھ سےکیا ہووے گا انجام مرا کچھ نہیں معلومChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  21. عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھوصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہےJafar Ali Khan Zaki (b. 1764)
  22. بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہےخدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
  23. تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرولگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کروMah Laqa Chanda (1768–1824)
  24. دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آجکوئی دلبر بے مثال آتا ہے آجMah Laqa Chanda (1768–1824)
  25. دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوبMah Laqa Chanda (1768–1824)
  26. رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیضدامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیضMah Laqa Chanda (1768–1824)
  27. رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظMah Laqa Chanda (1768–1824)
  28. رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزاگل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جاMah Laqa Chanda (1768–1824)
  29. ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شرابMah Laqa Chanda (1768–1824)
  30. عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھناMah Laqa Chanda (1768–1824)
  31. گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیندMah Laqa Chanda (1768–1824)
  32. گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
  33. نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلبرکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلبMah Laqa Chanda (1768–1824)
  34. ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخMah Laqa Chanda (1768–1824)
  35. گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالمکھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کوMah Laqa Chanda (1768–1824)
  36. ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑےدل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑےMah Laqa Chanda (1768–1824)
  37. اب کے ترے گھر جو آئیں گے ہمپھر یہاں سے کہیں نہ جائیں گے ہمIjad Burhanpuri (b. 1771)
  38. بیٹھا ہوں ترے ابروئے خم دار کے نزدیکسر اپنا رکھا ہوں اسی تروار کے نزدیکIjad Burhanpuri (b. 1771)
  39. تم کو ہے یارو اگر حسن بیاں کی احتیاطجیوں قلم ہر بات میں کیجیے زباں کی احتیاطIjad Burhanpuri (b. 1771)
  40. ہمیں کنج قفس میں چھوڑ کر صیاد جاتا ہےخدا جانے کہ ہم سے خوش ہے یا ناشاد جاتا ہےLaxmi Narayan Shafiq (1771–1808)
  41. مست وو ہے کہ روز محشر میںاوٹھ کے پوچھے یہ غلغلہ کیا ہےUmar Aurangabadi (b. 1773)
  42. اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چلدنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چلBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  43. بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  44. بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوںسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  45. پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیاجب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  46. پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کےلگ گیا ہے خون عاشق منہ کو اس تلوار کےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  47. تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہےعشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  48. ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچسرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  49. جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیںفلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  50. جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہوگریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہوBahadur Shah Zafar (1775–1862)