Poetry
Poet
Meter
- جیتے جی تک شمع پر جیسا کرے پروانہ رقصدیکھ تج کو ووہیں کرتا ہے ترا دیوانہ رقصLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- دشت وحشت میں ہمارا اب ہوا ہے بود و باشسر پھرانے کو عبث صیاد کرتا ہے تلاشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- ہر نکتۂ بتاں ہے ادا ساز دل فریبخالی نہیں طرب سے یہ ہے ناز دل فریبLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- ہم پریشاں ہیں تری اس زلف بکھرانے کے ہاتروز و شب تڑپے ہیں ظالم اس کے بل کھانے کے ہاتLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- ہے دل عشاق تیرے جام و مینا بن خرابرحم کر اس وقت پر ساقی پیالہ دے شتابLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- ہے دھوم رنداں اک طرف ساقی کا ساماں اک طرفمینائے گریاں اک طرف اور جام خنداں اک طرفLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- دکھلائیں کس مزے سے اب کے بہار ہولیکھیلے ہیں سب جمع ہو کیا گلعذار ہولیLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- پند سے ناصح کے دوزخ کا مجھے کچھ خوف نئیںمغفرت بے شک ہوئی جس کا علی والی ہواLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- جنوں کے شاہ نے جب سے لیا ہے قلعۂ دل کویہ ملک عقل ویراں ہو گیا کس کس خرابی سےLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- عشق کے گھاٹ پر سنبھل کر چڑھکیوں کہ اوس کا چڑھاؤ مشکل ہےLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہےتو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوںشمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- مثل گل کھل کہ یہ غنچہ دہنی خوب نہیںبات کر ہم سے بھی کچھ کم سخنی خوب نہیںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- آتا نہیں جو سامنے مارے حجاب کےہم دل سے ہیں نثار اسی آفتاب کےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- بھروسہ ہے ترا ہی اور ہے تیرے سوا کس کانہ دیوے آسرا جب تو مجھے ہو آسرا کس کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- جب غنچے نے سر اپنا گریباں سے نکالابلبل نے قدم پھر نہ گلستاں سے نکالاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- جلوہ گر تھا ہر جگہ کعبہ تھا یا بت خانہ تھاگھر ہزاروں تھے مگر وہ ایک صاحب خانہ تھاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- حیراں تھا کہ دل میرا کہاں جا کے چھپا ہےجگنو کی طرح یار کی دستار میں چمکاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- نور تھا یا شعلہ تھا یا برق یا خورشید تھاکچھ تو اے موسیٰ کہو کیا تھا وہ جلوہ طور کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- نیکی کا کوئی کام ہی آیا نہیں مجھ سےکیا ہووے گا انجام مرا کچھ نہیں معلومChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھوصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہےJafar Ali Khan Zaki (b. 1764)
- بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہےخدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
- تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرولگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کروMah Laqa Chanda (1768–1824)
- دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آجکوئی دلبر بے مثال آتا ہے آجMah Laqa Chanda (1768–1824)
- دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوبMah Laqa Chanda (1768–1824)
- رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیضدامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیضMah Laqa Chanda (1768–1824)
- رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظMah Laqa Chanda (1768–1824)
- رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزاگل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جاMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شرابMah Laqa Chanda (1768–1824)
- عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھناMah Laqa Chanda (1768–1824)
- گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیندسر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیندMah Laqa Chanda (1768–1824)
- گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)
- نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلبرکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلبMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخخدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخMah Laqa Chanda (1768–1824)
- گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالمکھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کوMah Laqa Chanda (1768–1824)
- ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑےدل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑےMah Laqa Chanda (1768–1824)
- اب کے ترے گھر جو آئیں گے ہمپھر یہاں سے کہیں نہ جائیں گے ہمIjad Burhanpuri (b. 1771)
- بیٹھا ہوں ترے ابروئے خم دار کے نزدیکسر اپنا رکھا ہوں اسی تروار کے نزدیکIjad Burhanpuri (b. 1771)
- تم کو ہے یارو اگر حسن بیاں کی احتیاطجیوں قلم ہر بات میں کیجیے زباں کی احتیاطIjad Burhanpuri (b. 1771)
- ہمیں کنج قفس میں چھوڑ کر صیاد جاتا ہےخدا جانے کہ ہم سے خوش ہے یا ناشاد جاتا ہےLaxmi Narayan Shafiq (1771–1808)
- مست وو ہے کہ روز محشر میںاوٹھ کے پوچھے یہ غلغلہ کیا ہےUmar Aurangabadi (b. 1773)
- اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چلدنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چلBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوںسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیاجب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کےلگ گیا ہے خون عاشق منہ کو اس تلوار کےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہےعشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچسرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیںفلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہوگریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہوBahadur Shah Zafar (1775–1862)