Poetry
- وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرےمیں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرےQateel Shifai (1919–2001)
- وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتاہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتاQateel Shifai (1919–2001)
- وہی گیسوؤں کی اڑان ہے وہی عارضوں کا نکھار ہےیہ کسی کی شان ورود ہے کہ مری نظر کا وقار ہےQateel Shifai (1919–2001)
- ہاتھ دیا اس نے مرے ہاتھ میںمیں تو ولی بن گیا اک رات میںQateel Shifai (1919–2001)
- ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرویارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کروQateel Shifai (1919–2001)
- ہر طرف سطوت ارژنگ دکھائی دے گیرنگ برسیں گے زمیں دنگ دکھائی دے گیQateel Shifai (1919–2001)
- ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہےلیکن شب فراق ترا کیا اصول ہےQateel Shifai (1919–2001)
- ہو چکا انتظار سونے دےاے دل بے قرار سونے دےQateel Shifai (1919–2001)
- یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سےمنزلیں نہیں ملتیں راستے بدلنے سےQateel Shifai (1919–2001)
- یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگواپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگوQateel Shifai (1919–2001)
- یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میںدو مجھ کو بد دعا کہ اسے بھول جاؤں میںQateel Shifai (1919–2001)
- یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جییہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جیQateel Shifai (1919–2001)
- یہ مرا بجھتا سلگتا سن یہ میرے رات دنکس طرح کٹتے بھلا تجھ بن یہ میرے رات دنQateel Shifai (1919–2001)
- یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھےکہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھےQateel Shifai (1919–2001)
- ایک تھا راجہ مہدی علی خاں ایک تھی اس کی رانیرانی کی اک ماں تھی یعنی بچہ لوگ کی نانیQateel Shifai (1919–2001)
- اے کسی گلشن زریں کی گراں قدر کلیاپنی اجڑی ہوئی مہکار چھپا لے مجھ سےQateel Shifai (1919–2001)
- پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپپھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاںQateel Shifai (1919–2001)
- توڑ کے گھنگھروچھوڑ کے محفلQateel Shifai (1919–2001)
- تھرتھراتی رہی چراغ کی لواشک پلکوں پہ کانپ کانپ گئےQateel Shifai (1919–2001)
- تیرے خطوں کی خوشبوہاتھوں میں بس گئی ہے سانسوں میں رچ رہی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- ٹوانکل ٹوانکل لٹل اسٹارہم سے ہے امی کو پیارQateel Shifai (1919–2001)
- جب بھی تنہا مجھے پاتے ہیں گزرتے لمحےتیری تصویر سی راہوں میں بچھا جاتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- جب چھلکتے ہیں زر و سیم کے گاتے ہوئے جامایک زہراب سا ماحول میں گھل جاتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- در و دیوار پر چھائی ہے اداسی غم کیمحو حیرت ہے خوشی دیدۂ حیراں کی طرحQateel Shifai (1919–2001)
- رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاںیہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاںQateel Shifai (1919–2001)
- روشنی ڈوب گئی چاند نے منہ ڈھانپ لیااب کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- روشنی نہیں ہے دور دور تکجاؤ مجھ کو چھوڑ دوQateel Shifai (1919–2001)
- سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہےمسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادوQateel Shifai (1919–2001)
- صندلیں جسم کی خوشبو سے مہکتی ہوئی راتمجھ سے کہتی ہے یہیں آج بسیرا کر لےQateel Shifai (1919–2001)
- کہا ماسٹر جی نے منے سے اک دنکرو کام پورا جو ہم نے کہا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- مطمئن کوئی نہیں ہے اس سےکوئی برہم ہے تو خائف کوئیQateel Shifai (1919–2001)
- میرے خوابوں کے شبستاں میں اجالا نہ کروکہ بہت دور سویرا نظر آتا ہے مجھےQateel Shifai (1919–2001)
- مینہ برستا ہے تو دھرتی کی نظر جھومتی ہےپھول کھلتے ہیں تو گلشن پہ نکھار آتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- میں نے پوچھامنے! تم کیوں اپنی امی جان کو باجی کہتے ہوQateel Shifai (1919–2001)
- میں نے جو ظلم کبھی تجھ سے روا رکھا تھاآج اسی ظلم کے پھندے میں گرفتار ہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
- میں نے چاہا تھا اسے روح کی راحت کے لیےآج وہ جان کا آزار بنی بیٹھی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- اے مرے دشمن جاںمیں تجھے اور تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکنQateel Shifai (1919–2001)
- احباب سے چھپ چھپ کے بھی رویا ہوں میں اکثرپر آج بھری بزم میںQateel Shifai (1919–2001)
- ایک پتنگاتنہا تنہا!Qateel Shifai (1919–2001)
- ڈوبے ہوئے گلاب میں وہ جسم کے خطوطجب یاد آئے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- نوجوان کون ہے توآیا ہے کس نگری سےQateel Shifai (1919–2001)
- یہ میری غزلیں یہ میری نظمیںجو میں نے تجھ سے بچھڑ کے لکھیںQateel Shifai (1919–2001)
- اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنیہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیاQateel Shifai (1919–2001)
- ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرحپھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہناQateel Shifai (1919–2001)
- اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھاک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والازندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیںمیرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیےQateel Shifai (1919–2001)
- کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔمجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیاQateel Shifai (1919–2001)
- گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیںکوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہےQateel Shifai (1919–2001)