Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرےمیں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرےQateel Shifai (1919–2001)
  2. وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتاہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتاQateel Shifai (1919–2001)
  3. وہی گیسوؤں کی اڑان ہے وہی عارضوں کا نکھار ہےیہ کسی کی شان ورود ہے کہ مری نظر کا وقار ہےQateel Shifai (1919–2001)
  4. ہاتھ دیا اس نے مرے ہاتھ میںمیں تو ولی بن گیا اک رات میںQateel Shifai (1919–2001)
  5. ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرویارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کروQateel Shifai (1919–2001)
  6. ہر طرف سطوت ارژنگ دکھائی دے گیرنگ برسیں گے زمیں دنگ دکھائی دے گیQateel Shifai (1919–2001)
  7. ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہےلیکن شب فراق ترا کیا اصول ہےQateel Shifai (1919–2001)
  8. ہو چکا انتظار سونے دےاے دل بے قرار سونے دےQateel Shifai (1919–2001)
  9. یار کیوں گریزاں ہے سیدھی راہ چلنے سےمنزلیں نہیں ملتیں راستے بدلنے سےQateel Shifai (1919–2001)
  10. یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگواپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگوQateel Shifai (1919–2001)
  11. یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میںدو مجھ کو بد دعا کہ اسے بھول جاؤں میںQateel Shifai (1919–2001)
  12. یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جییہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جیQateel Shifai (1919–2001)
  13. یہ مرا بجھتا سلگتا سن یہ میرے رات دنکس طرح کٹتے بھلا تجھ بن یہ میرے رات دنQateel Shifai (1919–2001)
  14. یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھےکہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھےQateel Shifai (1919–2001)
  15. ایک تھا راجہ مہدی علی خاں ایک تھی اس کی رانیرانی کی اک ماں تھی یعنی بچہ لوگ کی نانیQateel Shifai (1919–2001)
  16. اے کسی گلشن زریں کی گراں قدر کلیاپنی اجڑی ہوئی مہکار چھپا لے مجھ سےQateel Shifai (1919–2001)
  17. پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپپھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاںQateel Shifai (1919–2001)
  18. توڑ کے گھنگھروچھوڑ کے محفلQateel Shifai (1919–2001)
  19. تھرتھراتی رہی چراغ کی لواشک پلکوں پہ کانپ کانپ گئےQateel Shifai (1919–2001)
  20. تیرے خطوں کی خوشبوہاتھوں میں بس گئی ہے سانسوں میں رچ رہی ہےQateel Shifai (1919–2001)
  21. ٹوانکل ٹوانکل لٹل اسٹارہم سے ہے امی کو پیارQateel Shifai (1919–2001)
  22. جب بھی تنہا مجھے پاتے ہیں گزرتے لمحےتیری تصویر سی راہوں میں بچھا جاتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
  23. جب چھلکتے ہیں زر و سیم کے گاتے ہوئے جامایک زہراب سا ماحول میں گھل جاتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  24. در و دیوار پر چھائی ہے اداسی غم کیمحو حیرت ہے خوشی دیدۂ حیراں کی طرحQateel Shifai (1919–2001)
  25. رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاںیہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاںQateel Shifai (1919–2001)
  26. روشنی ڈوب گئی چاند نے منہ ڈھانپ لیااب کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
  27. روشنی نہیں ہے دور دور تکجاؤ مجھ کو چھوڑ دوQateel Shifai (1919–2001)
  28. سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہےمسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادوQateel Shifai (1919–2001)
  29. صندلیں جسم کی خوشبو سے مہکتی ہوئی راتمجھ سے کہتی ہے یہیں آج بسیرا کر لےQateel Shifai (1919–2001)
  30. کہا ماسٹر جی نے منے سے اک دنکرو کام پورا جو ہم نے کہا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  31. مطمئن کوئی نہیں ہے اس سےکوئی برہم ہے تو خائف کوئیQateel Shifai (1919–2001)
  32. میرے خوابوں کے شبستاں میں اجالا نہ کروکہ بہت دور سویرا نظر آتا ہے مجھےQateel Shifai (1919–2001)
  33. مینہ برستا ہے تو دھرتی کی نظر جھومتی ہےپھول کھلتے ہیں تو گلشن پہ نکھار آتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  34. میں نے پوچھامنے! تم کیوں اپنی امی جان کو باجی کہتے ہوQateel Shifai (1919–2001)
  35. میں نے جو ظلم کبھی تجھ سے روا رکھا تھاآج اسی ظلم کے پھندے میں گرفتار ہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
  36. میں نے چاہا تھا اسے روح کی راحت کے لیےآج وہ جان کا آزار بنی بیٹھی ہےQateel Shifai (1919–2001)
  37. اے مرے دشمن جاںمیں تجھے اور تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکنQateel Shifai (1919–2001)
  38. احباب سے چھپ چھپ کے بھی رویا ہوں میں اکثرپر آج بھری بزم میںQateel Shifai (1919–2001)
  39. ایک پتنگاتنہا تنہا!Qateel Shifai (1919–2001)
  40. ڈوبے ہوئے گلاب میں وہ جسم کے خطوطجب یاد آئے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
  41. لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےQateel Shifai (1919–2001)
  42. نوجوان کون ہے توآیا ہے کس نگری سےQateel Shifai (1919–2001)
  43. یہ میری غزلیں یہ میری نظمیںجو میں نے تجھ سے بچھڑ کے لکھیںQateel Shifai (1919–2001)
  44. اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنیہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیاQateel Shifai (1919–2001)
  45. ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرحپھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہناQateel Shifai (1919–2001)
  46. اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھاک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہےQateel Shifai (1919–2001)
  47. جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والازندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  48. کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیںمیرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیےQateel Shifai (1919–2001)
  49. کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔمجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیاQateel Shifai (1919–2001)
  50. گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیںکوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہےQateel Shifai (1919–2001)