Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقتایک مٹھی میں سو رہے تھےGulzar (b. 1934)
  2. دھندلائی ہوئی شام تھیالسائی ہوئی سیGulzar (b. 1934)
  3. دھوپ لگے آکاش پہ جبدن میں چاند نظر آیا تھاGulzar (b. 1934)
  4. دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرادیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھناGulzar (b. 1934)
  5. رات بھر سرد ہوا چلتی رہیرات بھر ہم نے الاؤ تاپاGulzar (b. 1934)
  6. رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہےرات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیںGulzar (b. 1934)
  7. رات کل گہری نیند میں تھی جبایک تازہ سفید کینوس پرGulzar (b. 1934)
  8. روح دیکھی ہے؟کبھی روح کو محسوس کیا ہے؟Gulzar (b. 1934)
  9. سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہےGulzar (b. 1934)
  10. کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکGulzar (b. 1934)
  11. کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کےہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیںGulzar (b. 1934)
  12. لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑاگھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑاGulzar (b. 1934)
  13. مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےGulzar (b. 1934)
  14. میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھادھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرحGulzar (b. 1934)
  15. نظم الجھی ہوئی ہے سینے میںمصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پرGulzar (b. 1934)
  16. وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھانہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورتGulzar (b. 1934)
  17. وہ جو شاعر تھا، چپ سا رہتا تھابہکی بہکی سی باتیں کرتا تھاGulzar (b. 1934)
  18. یاد ہے اک دنمیری میز پہ بیٹھے بیٹھےGulzar (b. 1934)
  19. ٹکڑا اک نظم کادن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہاGulzar (b. 1934)
  20. کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سےبڑی حسرت سے تکتی ہیںGulzar (b. 1934)
  21. میرے کپڑوں میں ٹنگا ہےتیرا خوش رنگ لباس!Gulzar (b. 1934)
  22. آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شایدایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کاGulzar (b. 1934)
  23. اک اداکار ہوں میںمیں اداکار ہوں ناںGulzar (b. 1934)
  24. بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤںدر و دیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سےGulzar (b. 1934)
  25. بس اک لمحہ کا جھگڑا تھادر و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہےGulzar (b. 1934)
  26. بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاںسامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدےGulzar (b. 1934)
  27. خلاؤں میں تیرتے جزیروں پہ چمپئی دھوپدیکھ کیسے برس رہی ہے!Gulzar (b. 1934)
  28. دور سنسان سے ساحل کے قریبایک جواں پیڑ کے پاسGulzar (b. 1934)
  29. رات کو اکثر ہوتا ہے پروانے آ کرٹیبل لیمپ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیںGulzar (b. 1934)
  30. سارا دن میں خون میں لت پت رہتا ہوںسارے دن میں سوکھ سوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے خونGulzar (b. 1934)
  31. شہتوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئیبنتا ہے ریشم کے تاگےGulzar (b. 1934)
  32. صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتاسارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تکGulzar (b. 1934)
  33. صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھاسرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیںGulzar (b. 1934)
  34. مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانو پہ سر رکھےیہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہGulzar (b. 1934)
  35. میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھاجہاں پردے پہ اک فلم کے کردارGulzar (b. 1934)
  36. نہ جانے کس کی یہ ڈائری ہےنہ نام ہے، نہ پتہ ہے کوئی:Gulzar (b. 1934)
  37. وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولیرات اور دن اور چاند اور میںGulzar (b. 1934)
  38. یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پرGulzar (b. 1934)
  39. جب دوستی ہوتی ہے تو دوستی ہوتی ہےاور دوستی میں کوئی احسان نہیں ہوتاGulzar (b. 1934)