Poetry
- دو سوندھے سوندھے سے جسم جس وقتایک مٹھی میں سو رہے تھےGulzar (b. 1934)
- دھندلائی ہوئی شام تھیالسائی ہوئی سیGulzar (b. 1934)
- دھوپ لگے آکاش پہ جبدن میں چاند نظر آیا تھاGulzar (b. 1934)
- دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرادیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھناGulzar (b. 1934)
- رات بھر سرد ہوا چلتی رہیرات بھر ہم نے الاؤ تاپاGulzar (b. 1934)
- رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہےرات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیںGulzar (b. 1934)
- رات کل گہری نیند میں تھی جبایک تازہ سفید کینوس پرGulzar (b. 1934)
- روح دیکھی ہے؟کبھی روح کو محسوس کیا ہے؟Gulzar (b. 1934)
- سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہےGulzar (b. 1934)
- کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکGulzar (b. 1934)
- کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کےہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیںGulzar (b. 1934)
- لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑاگھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑاGulzar (b. 1934)
- مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےGulzar (b. 1934)
- میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھادھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرحGulzar (b. 1934)
- نظم الجھی ہوئی ہے سینے میںمصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پرGulzar (b. 1934)
- وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھانہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورتGulzar (b. 1934)
- وہ جو شاعر تھا، چپ سا رہتا تھابہکی بہکی سی باتیں کرتا تھاGulzar (b. 1934)
- یاد ہے اک دنمیری میز پہ بیٹھے بیٹھےGulzar (b. 1934)
- ٹکڑا اک نظم کادن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہاGulzar (b. 1934)
- کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سےبڑی حسرت سے تکتی ہیںGulzar (b. 1934)
- میرے کپڑوں میں ٹنگا ہےتیرا خوش رنگ لباس!Gulzar (b. 1934)
- آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شایدایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کاGulzar (b. 1934)
- اک اداکار ہوں میںمیں اداکار ہوں ناںGulzar (b. 1934)
- بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤںدر و دیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سےGulzar (b. 1934)
- بس اک لمحہ کا جھگڑا تھادر و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہےGulzar (b. 1934)
- بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاںسامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدےGulzar (b. 1934)
- خلاؤں میں تیرتے جزیروں پہ چمپئی دھوپدیکھ کیسے برس رہی ہے!Gulzar (b. 1934)
- دور سنسان سے ساحل کے قریبایک جواں پیڑ کے پاسGulzar (b. 1934)
- رات کو اکثر ہوتا ہے پروانے آ کرٹیبل لیمپ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیںGulzar (b. 1934)
- سارا دن میں خون میں لت پت رہتا ہوںسارے دن میں سوکھ سوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے خونGulzar (b. 1934)
- شہتوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئیبنتا ہے ریشم کے تاگےGulzar (b. 1934)
- صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتاسارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تکGulzar (b. 1934)
- صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھاسرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیںGulzar (b. 1934)
- مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانو پہ سر رکھےیہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہGulzar (b. 1934)
- میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھاجہاں پردے پہ اک فلم کے کردارGulzar (b. 1934)
- نہ جانے کس کی یہ ڈائری ہےنہ نام ہے، نہ پتہ ہے کوئی:Gulzar (b. 1934)
- وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولیرات اور دن اور چاند اور میںGulzar (b. 1934)
- یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پرGulzar (b. 1934)
- جب دوستی ہوتی ہے تو دوستی ہوتی ہےاور دوستی میں کوئی احسان نہیں ہوتاGulzar (b. 1934)