Poetry
- رات داڑھی کے اندھیرے سے تکلف برتےعرش کے سامنے رسوائی کی گردن نہ اٹھےAdil Mansuri (1936–2008)
- راہ نہ دیکھو سورج کیکل میں نے اپنے ہاتھوں سےAdil Mansuri (1936–2008)
- ساتویں پسلی میں پیلی چاندنیاور تاروں کی اداسی کا جمودAdil Mansuri (1936–2008)
- سائے کی پسلی سے نکلا ہے جسم ترابوسوں کا گیلا پن لفظوں کے ہونٹوں پرAdil Mansuri (1936–2008)
- سفید رات سے منسوب ہے لہو کا زوالصبا کے شانوں پہ بکھرے سنہری دھوپ کے بالAdil Mansuri (1936–2008)
- سیاہ چاند کے ٹکڑوں کو میں چبا جاؤںسفید سایوں کے چہروں سے تیرگی ٹپکےAdil Mansuri (1936–2008)
- سیاہ سایوں کی تشنگی میںاداس لمحوں کو ساتھ رکھوAdil Mansuri (1936–2008)
- عینک کے شیشے پر سرکتی چیونٹیآگے کے پاؤں اوپر ہوا میں اٹھا کرAdil Mansuri (1936–2008)
- لہو کو سرخ گلابوں میں بند رہنے دوشکستہ خواب کے شیشوں پہ اس کا عکس پڑےAdil Mansuri (1936–2008)
- وقت کی پیٹھ پرکچے لمحوں کے دھاگوں میں لپٹا ہواAdil Mansuri (1936–2008)
- وقت کی ریت پہ سورج نے لہو تھوکا پھرساعتیں کوڑا کے داغوں میں نہا کر نکلیںAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ آنکھوں پر پٹی باندھے پھرتی ہےدیواروں کا چونا چاٹتی رہتی ہےAdil Mansuri (1936–2008)
- اداسی کے پیلے درختوں کی شاخوں سے چپکے ہوئےسبز پتوں میں تیرا تجسسAdil Mansuri (1936–2008)
- رات کے آخری حصے کی سیاہی گہریہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا پھر بھیAdil Mansuri (1936–2008)
- غم کی کالی چاندنیپربتوں کی چوٹیوں پر سو گئی ہےAdil Mansuri (1936–2008)
- کھڑکی اندھی ہو چکی ہےدھول کی چادر میں اپنا منہ چھپائےAdil Mansuri (1936–2008)
- لفظ کی چھاؤں میںنیم کی پتیوں کا سفر تلخ ساAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ چالیس راتوں سے سویا نہ تھاوہ خوابوں کو اونٹوں پہ لادے ہوئےAdil Mansuri (1936–2008)
- اس کے زہری ہونٹ کالے پڑ گئے تھےاس کی آنکھوں میںAdil Mansuri (1936–2008)
- اسے گیند کی نرم گولائی اپنی طرف کھینچتی تھیوہ پیدا ہوا تھا توAdil Mansuri (1936–2008)
- پائپ کے گہرے لمبے کش کھینچتاوہ اپنی برہنگی کے احساس کوAdil Mansuri (1936–2008)
- پل کے اس سرے سے آتی ہوئیانگشت چہرے والی بد صورت عورت کےAdil Mansuri (1936–2008)
- پھول باسی ہو گئے ہیںلمس کی شدت سے تھک کرAdil Mansuri (1936–2008)
- جسم کو خواہش کی دیمک کھا رہی ہےنیم وحشی لذتوں کیAdil Mansuri (1936–2008)
- روز آدھی رات کواک طلسمی غار کےAdil Mansuri (1936–2008)
- شعور نیلی رطوبتوں میں الجھ گیا ہےخلوص کی انگلیوں کے نیچےAdil Mansuri (1936–2008)
- شکستہ سورج کے سارے ٹکڑوں کوکچے دھاگے سے باندھتا ہوںAdil Mansuri (1936–2008)
- کالی عینک لگائے گھومتے رہنا سورج میں سڑکوں پر ہوٹلوں میںتھئیٹروں میں مسجدوں میں دکانوں میں ریلوے پلیٹ فارم پرAdil Mansuri (1936–2008)
- گول کمرے کو سجاتا ہوں تکونی خواہشوں سےکالی دیواروں پہAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ ایک لمحہجو سر پٹکتا ہے پتھروں پرAdil Mansuri (1936–2008)