Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  2. لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنKaifi Azmi (1919–2002)
  3. مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
  4. مست گھٹا منڈلائی ہوئی ہےباغ پہ مستی چھائی ہوئی ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  5. میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کوKaifi Azmi (1919–2002)
  6. نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھناملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھناKaifi Azmi (1919–2002)
  7. وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںKaifi Azmi (1919–2002)
  8. یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئیپتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئیKaifi Azmi (1919–2002)
  9. یہ بجھی سی شام یہ سہمی ہوئی پرچھائیاںخون دل بھی اس فضا میں رنگ بھر سکتا نہیںKaifi Azmi (1919–2002)
  10. یہ برسات یہ موسم شادمانیخس و خار پر پھٹ پڑی ہے جوانیKaifi Azmi (1919–2002)
  11. یہ سانپ آج جو پھن اٹھائےمرے راستے میں کھڑا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  12. یہ صحت بخش تڑکا یہ سحر کی جلوہ سامانیافق سارا بنا جاتا ہے دامان چمن جیسےKaifi Azmi (1919–2002)
  13. یہ کس طرح یاد آ رہی ہو یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوکہ جیسے سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوKaifi Azmi (1919–2002)
  14. ایک دو ہی نہیں چھبیس دیےایک اک کر کے جلائے میں نےKaifi Azmi (1919–2002)
  15. چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہدفن ہو جاتا ہوںKaifi Azmi (1919–2002)
  16. مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیرسر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہاKaifi Azmi (1919–2002)
  17. میں نے تنہا کبھی اس کو دیکھا نہیںپھر بھی جب اس کو دیکھا وہ تنہا ملاKaifi Azmi (1919–2002)
  18. آج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے گاآنکھیں بجھ جائیں گی بجھ جائیں گے احساس و شعورKaifi Azmi (1919–2002)
  19. میرے کاندھے پہ بیٹھا کوئیپڑھتا رہتا ہے انجیل و قرآن و ویدKaifi Azmi (1919–2002)
  20. بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میںکہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میںKaifi Azmi (1919–2002)
  21. بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئےانساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئےKaifi Azmi (1919–2002)
  22. آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میںسرخ کانٹوں کی بہار آئی ہے اب کے بن میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  23. آخر غم جاناں کو اے دل بڑھ کر غم دوراں ہونا تھااس قطرے کو بننا تھا دریا اس موج کو طوفاں ہونا تھاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  24. آ نکل کے میداں میں دو رخی کے خانے سےکام چل نہیں سکتا اب کسی بہانے سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  25. آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  26. آ ہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلانہ سہی باب قفس روزن زنداں تو کھلاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  27. اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریںاسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  28. اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جایوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  29. ادائے طول سخن کیا وہ اختیار کرےجو عرض حال بہ طرز نگاہ یار کرےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  30. اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائےجب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  31. اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  32. اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہواپنا پرایا مہرباں نا مہرباں کوئی نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  33. بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئےہنسا ہے چاک پیراہن نہ کیوں چہرے پہ رنگ آئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  34. تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےتری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  35. تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  36. جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیاسوز جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  37. جس دم یہ سنا ہے صبح وطن محبوس فضائے زنداں میںجیسے کہ صبا اے ہم قفسو بیتاب ہم آئے زنداں میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  38. جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلےجو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  39. جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیںمیری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  40. جو سمجھاتے بھی آ کر واعظ برہم تو کیا کرتےہم اس دنیا کے آگے اس جہاں کا غم تو کیا کرتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  41. چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہیےبس اک سکوت کا عالم جسے نوا کہیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  42. ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  43. خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہےموسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  44. دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھےقتل گہہ تھی جسے ہم محفل یاراں سمجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  45. دست منعم مری محنت کا خریدار سہیکوئی دن اور میں رسوا سر بازار سہیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  46. دشمن کی دوستی ہے اب اہل وطن کے ساتھہے اب خزاں چمن میں نئے پیرہن کے ساتھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  47. دل پریشان ہے رات ویران ہے دیکھ جا کس طرح آج تنہا ہیں ہمچین کیسا جو پہلو میں تو ہی نہیں مار ڈالے نہ درد جدائی کہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  48. دور دور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہےہر قدم ہے نقش دل ہر نگہ رگ جاں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  49. ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کویہی تو ہیں جو ڈبویا کئے سفینوں کوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  50. رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرحبیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)