Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز جہاں کیا تھازمیں کا کیا تھا نقشہ اور رنگ آسماں کیا تھاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  2. سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھاکس درجہ کامیاب فریب مجاز تھاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  3. غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سےکہ جتنا بڑھ رہا ہوں ہٹ رہا ہوں دور منزل سےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  4. گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میراتو ہی دیکھ اے مرے خلاق حسن رائیگاں میراJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  5. نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیانہ ہوگا آپ کا مجھ پر کرم کیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  6. وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیامجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  7. یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گیختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  8. اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقیفریاد لبوں پر آ گیا دم ساقیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  9. سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کورنگ حسن بہار دے دیں تم کوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  10. نالہ تیرا ناز سے بالا ہےیہ راز افشائے راز سے بالا ہےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  11. ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئیایک آگ سی ہر طرف لگاتی آئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  12. افلاس اچھا نہ فکر دولت اچھیجو دل کو پسند ہو وہ حالت اچھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  13. انداز جفا بدل کے دیکھو تو سہیپاؤں سے یہ پھول مل کے دیکھو تو سہیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  14. پھولوں سے تمیز خار پیدا کر لیںیک رنگیٔ اعتبار پیدا کر لیںJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  15. تم تیشۂ باغباں سے کیوں مضطر ہوشاید یہ قلم ہی نخل بار آور ہوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  16. ملنا کس کام کا اگر دل نہ ملےچلنا بے کار ہے جو منزل نہ ملےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  17. تلسی داسJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  18. پیش تو ہوگا عدالت میں مقدمہ بیشکجرم قاتل ہی کے سر ہو یہ ضروری تو نہیںJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  19. وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔکہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  20. آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میراکہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میراJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھاآیا جو میرے سامنے میرا غرور تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  23. آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  24. آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھےاب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  25. اب تو یہ بھی نہیں رہا احساسدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتاJigar Moradabadi (1890–1960)
  26. اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھااتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  27. اس کی نظروں میں انتخاب ہوادل عجب حسن سے خراب ہواJigar Moradabadi (1890–1960)
  28. اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سےجسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سےJigar Moradabadi (1890–1960)
  29. اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہJigar Moradabadi (1890–1960)
  30. اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  31. اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرےتو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرےJigar Moradabadi (1890–1960)
  32. اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیںفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  33. اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالمجو صید کا عالم وہی صیاد کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
  34. اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہےتجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  35. برابر سے بچ کر گزر جانے والےیہ نالے نہیں بے اثر جانے والےJigar Moradabadi (1890–1960)
  36. بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میںخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  37. تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگاصدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگاJigar Moradabadi (1890–1960)
  38. ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئیہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  39. جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھےمدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  40. جنوں کم جستجو کم تشنگی کمنظر آئے نہ کیوں دریا بھی شبنمJigar Moradabadi (1890–1960)
  41. جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گاتو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گاJigar Moradabadi (1890–1960)
  42. جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیںوہی دنیا بدلتے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  43. جہل خرد نے دن یہ دکھائےگھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائےJigar Moradabadi (1890–1960)
  44. حسن کافر شباب کا عالمسر سے پا تک شراب کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
  45. حسن کے احترام نے ماراعشق بے ننگ و نام نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  46. خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہےستم ایجاد کرتے ہو کرم ایجاد ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  47. داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئیبات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  48. دل کو سکون روح کو آرام آ گیاموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  49. دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھےاے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  50. دل گیا رونق حیات گئیغم گیا ساری کائنات گئیJigar Moradabadi (1890–1960)