Poetry
Poet
Meter
- کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کونہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
- کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملےدشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملےQamar Jalalvi (1887–1968)
- کسی صورت سحر نہیں ہوتیرات ادھر سے ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
- کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیںنہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
- کون سے تھے وہ تمہارے عہد جو ٹوٹے نہ تھےخیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے تم جھوٹے نہ تھےQamar Jalalvi (1887–1968)
- لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتےیہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتےQamar Jalalvi (1887–1968)
- مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہیکہ ہے نخل گل کا تو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہیQamar Jalalvi (1887–1968)
- مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینازباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دیناQamar Jalalvi (1887–1968)
- مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتےمگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتےQamar Jalalvi (1887–1968)
- موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گایہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گاQamar Jalalvi (1887–1968)
- نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالےکہو کوئی کیسے محبت چھپا لےQamar Jalalvi (1887–1968)
- وہ آغاز محبت کا زمانہذرا سی بات بنتی تھی فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہعیاں سورج ہوا وقت سحر آہستہ آہستہQamar Jalalvi (1887–1968)
- یوں تمہارے ناتوان شوق منزل بھر چلےکھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلےQamar Jalalvi (1887–1968)
- یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتیکہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
- یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لیکہاں رہ گئے تھے بڑی رات کر لیQamar Jalalvi (1887–1968)
- یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئےخدا کے سامنے تو چپ رہو خدا کے لئےQamar Jalalvi (1887–1968)
- آئیں ہیں وہ مزار پہ گھونگھٹ اتار کےمجھ سے نصیب اچھے ہے میرے مزار کےQamar Jalalvi (1887–1968)
- ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریںیہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پرQamar Jalalvi (1887–1968)
- اس لئے آرزو چھپائی ہےمنہ سے نکلی ہوئی پرائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھیدو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگیQamar Jalalvi (1887–1968)
- ایسے میں وہ ہوں باغ ہو ساقی ہو اے قمرؔلگ جائیں چار چاند شب ماہتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
- بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمرگھٹا گھٹا کے قمرؔ کو ہلال کر دو گےQamar Jalalvi (1887–1968)
- تم میں جو بات ہے وہ بات نہیں آئی ہےکیا یہ تصویر کسی اور سے کھنچوائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھولصدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہارQamar Jalalvi (1887–1968)
- جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئےستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سےQamar Jalalvi (1887–1968)
- جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سےچاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کیQamar Jalalvi (1887–1968)
- روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میںشاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میںQamar Jalalvi (1887–1968)
- روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کووہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
- سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میںنقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
- شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کررہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
- شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہاب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہمQamar Jalalvi (1887–1968)
- قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑیکہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سےستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
- قمرؔ کسی سے بھی دل کا علاج ہو نہ سکاہم اپنا داغ دکھاتے رہے زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
- مجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہےتمہیں بے وفا کہہ رہا ہے زمانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- مدتیں ہوئیں اب تو جل کے آشیاں اپناآج تک یہ عالم ہے روشنی سے ڈرتا ہوںQamar Jalalvi (1887–1968)
- میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارےقمرؔ بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نےکچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نےQamar Jalalvi (1887–1968)
- نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہےکہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتیQamar Jalalvi (1887–1968)
- وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔکہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانےQamar Jalalvi (1887–1968)
- ہر وقت محویت ہے یہی سوچتا ہوں میںکیوں برق نے جلایا مرا آشیاں نہ پوچھQamar Jalalvi (1887–1968)
- بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤدنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤLal Chand Falak (1887–1967)
- خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیLal Chand Falak (1887–1967)
- کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیبہبود ملک کی گر ہم کو امید ہوتیLal Chand Falak (1887–1967)
- انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کاتھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئیمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھیعاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- راہ و رسم ابتدائی دیکھ لیانتہائے بے وفائی دیکھ لیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)