Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کونہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
  2. کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملےدشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملےQamar Jalalvi (1887–1968)
  3. کسی صورت سحر نہیں ہوتیرات ادھر سے ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  4. کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیںنہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  5. کون سے تھے وہ تمہارے عہد جو ٹوٹے نہ تھےخیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے تم جھوٹے نہ تھےQamar Jalalvi (1887–1968)
  6. لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتےیہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتےQamar Jalalvi (1887–1968)
  7. مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہیکہ ہے نخل گل کا تو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہیQamar Jalalvi (1887–1968)
  8. مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینازباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دیناQamar Jalalvi (1887–1968)
  9. مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتےمگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتےQamar Jalalvi (1887–1968)
  10. موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گایہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گاQamar Jalalvi (1887–1968)
  11. نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالےکہو کوئی کیسے محبت چھپا لےQamar Jalalvi (1887–1968)
  12. وہ آغاز محبت کا زمانہذرا سی بات بنتی تھی فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  13. ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہعیاں سورج ہوا وقت سحر آہستہ آہستہQamar Jalalvi (1887–1968)
  14. یوں تمہارے ناتوان شوق منزل بھر چلےکھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلےQamar Jalalvi (1887–1968)
  15. یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتیکہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  16. یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لیکہاں رہ گئے تھے بڑی رات کر لیQamar Jalalvi (1887–1968)
  17. یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئےخدا کے سامنے تو چپ رہو خدا کے لئےQamar Jalalvi (1887–1968)
  18. آئیں ہیں وہ مزار پہ گھونگھٹ اتار کےمجھ سے نصیب اچھے ہے میرے مزار کےQamar Jalalvi (1887–1968)
  19. ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریںیہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پرQamar Jalalvi (1887–1968)
  20. اس لئے آرزو چھپائی ہےمنہ سے نکلی ہوئی پرائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  21. اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھیدو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگیQamar Jalalvi (1887–1968)
  22. ایسے میں وہ ہوں باغ ہو ساقی ہو اے قمرؔلگ جائیں چار چاند شب ماہتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  23. بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمرگھٹا گھٹا کے قمرؔ کو ہلال کر دو گےQamar Jalalvi (1887–1968)
  24. تم میں جو بات ہے وہ بات نہیں آئی ہےکیا یہ تصویر کسی اور سے کھنچوائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  25. تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھولصدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہارQamar Jalalvi (1887–1968)
  26. جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئےستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سےQamar Jalalvi (1887–1968)
  27. جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سےچاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  28. ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کیQamar Jalalvi (1887–1968)
  29. روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میںشاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  30. روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کووہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
  31. سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میںنقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  32. شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کررہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
  33. شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہاب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہمQamar Jalalvi (1887–1968)
  34. قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑیکہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  35. قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سےستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  36. قمرؔ کسی سے بھی دل کا علاج ہو نہ سکاہم اپنا داغ دکھاتے رہے زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
  37. مجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہےتمہیں بے وفا کہہ رہا ہے زمانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  38. مدتیں ہوئیں اب تو جل کے آشیاں اپناآج تک یہ عالم ہے روشنی سے ڈرتا ہوںQamar Jalalvi (1887–1968)
  39. میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارےقمرؔ بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  40. نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نےکچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نےQamar Jalalvi (1887–1968)
  41. نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہےکہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  42. وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔکہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانےQamar Jalalvi (1887–1968)
  43. ہر وقت محویت ہے یہی سوچتا ہوں میںکیوں برق نے جلایا مرا آشیاں نہ پوچھQamar Jalalvi (1887–1968)
  44. بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤدنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤLal Chand Falak (1887–1967)
  45. خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیLal Chand Falak (1887–1967)
  46. کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیبہبود ملک کی گر ہم کو امید ہوتیLal Chand Falak (1887–1967)
  47. انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کاتھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  48. تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئیمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  49. جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھیعاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  50. راہ و رسم ابتدائی دیکھ لیانتہائے بے وفائی دیکھ لیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)