Poetry
Poet
Meter
- دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یادJigar Moradabadi (1890–1960)
- راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہےسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہمچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
- سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
- سبھی انداز حسن پیارے ہیںہم مگر سادگی کے مارے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- ستم کامیاب نے ماراکرم لا جواب نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
- سینے میں اگر ہو دل بیدار محبتہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
- شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میںروح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- شب وصل کیا مختصر ہو گئیذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
- شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئےاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہےمرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق کو بے نقاب ہونا تھاآپ اپنا جواب ہونا تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق کی داستان ہے پیارےاپنی اپنی زبان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئےحسن بھی بیتاب ہے اور کس قدر میرے لئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھےجا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پرJigar Moradabadi (1890–1960)
- کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتیبجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتیJigar Moradabadi (1890–1960)
- کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشنلاکھ بلائیں ایک نشیمنJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہےدل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا کشش حسن بے پناہ میں ہےجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیاجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت آپ اپنی ترجماں ہےیہی خود چشم و دل لفظ و بیاں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت صلح بھی پیکار بھی ہےیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیںکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوںمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوںJigar Moradabadi (1890–1960)
- نہ دیکھا رخ بے نقاب محبتمحبت ہے شاید حجاب محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
- نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئےزندگی سے روٹھ جانا چاہیئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھاخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرناان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرناJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیںزبان حال رکھتے ہیں زبان دل سمجھتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائےجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائےJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- یادJigar Moradabadi (1890–1960)
- نرگس مستانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہےیوں بھی کسی نے اکثر دیوانہ کر دیا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)