Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  2. دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یادJigar Moradabadi (1890–1960)
  3. راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہےسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  4. رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہمچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
  5. سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
  6. سبھی انداز حسن پیارے ہیںہم مگر سادگی کے مارے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  7. ستم کامیاب نے ماراکرم لا جواب نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  8. سینے میں اگر ہو دل بیدار محبتہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
  9. شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میںروح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  10. شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  11. شب وصل کیا مختصر ہو گئیذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  12. شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئےاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  13. طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہےمرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  14. عشق کو بے نقاب ہونا تھاآپ اپنا جواب ہونا تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. عشق کی داستان ہے پیارےاپنی اپنی زبان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئےحسن بھی بیتاب ہے اور کس قدر میرے لئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھےجا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھےJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پرJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  23. کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  24. کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتیبجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتیJigar Moradabadi (1890–1960)
  25. کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشنلاکھ بلائیں ایک نشیمنJigar Moradabadi (1890–1960)
  26. کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہےدل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  27. کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچےJigar Moradabadi (1890–1960)
  28. کیا کشش حسن بے پناہ میں ہےجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  29. لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیاجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  30. محبت آپ اپنی ترجماں ہےیہی خود چشم و دل لفظ و بیاں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  31. محبت صلح بھی پیکار بھی ہےیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  32. محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیںکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  33. نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  34. نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  35. نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوںمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوںJigar Moradabadi (1890–1960)
  36. نہ دیکھا رخ بے نقاب محبتمحبت ہے شاید حجاب محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
  37. نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  38. وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  39. وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئےزندگی سے روٹھ جانا چاہیئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  40. ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھاخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  41. ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرناان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرناJigar Moradabadi (1890–1960)
  42. ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  43. یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  44. یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیںزبان حال رکھتے ہیں زبان دل سمجھتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  45. یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  46. یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائےجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائےJigar Moradabadi (1890–1960)
  47. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  48. یادJigar Moradabadi (1890–1960)
  49. نرگس مستانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  50. احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہےیوں بھی کسی نے اکثر دیوانہ کر دیا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)