جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے

Jigar Moradabadi (1890–1960)

جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

ننگ مے خانہ تھا میں ساقی نے یہ کیا کر دیا

پینے والے کہہ اٹھے یا پیر مے خانہ مجھے

سبزہ و گل موج و دریا انجم و خورشید و ماہ

اک تعلق سب سے ہے لیکن رقیبانہ مجھے

زندگی میں آ گیا جب کوئی وقت امتحاں

اس نے دیکھا ہے جگرؔ بے اختیارانہ مجھے