Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتےمجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتےFani Badayuni (1879–1941)
  2. ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامتآئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامتFani Badayuni (1879–1941)
  3. یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتااس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتاFani Badayuni (1879–1941)
  4. یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھاایسا بھی ترے حسن کا عالم نہ ہوا تھاFani Badayuni (1879–1941)
  5. یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرانہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میراFani Badayuni (1879–1941)
  6. اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیںدامن فقط اشکوں سے بھگو لیتے ہیںFani Badayuni (1879–1941)
  7. کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھادیکھا جسے خون دل ہی پیتے دیکھاFani Badayuni (1879–1941)
  8. وہ حور کو چاہا کہ پری کو چاہاچاہا اسے ہم نے جس کسی کو چاہاFani Badayuni (1879–1941)
  9. اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظکوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میریFani Badayuni (1879–1941)
  10. اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئےمجھ کو خیال یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہوFani Badayuni (1879–1941)
  11. بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتےکرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتےFani Badayuni (1879–1941)
  12. تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئیمطلب یہ ہے کہ دور سے دیکھا کرے کوئیFani Badayuni (1879–1941)
  13. جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھاشمع جسے ہم سمجھے تھے شمع نہ تھی پروانہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
  14. یوم یادگار سر سیدؔ در دکنFani Badayuni (1879–1941)
  15. دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کیسینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہمFani Badayuni (1879–1941)
  16. دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھآئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھFani Badayuni (1879–1941)
  17. دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیادرد میں دل ڈوب کر قطرے سے دریا بن گیاFani Badayuni (1879–1941)
  18. دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہےموت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہےFani Badayuni (1879–1941)
  19. مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیاتمگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہےFani Badayuni (1879–1941)
  20. ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوںمیں تیرے قریب آ رہا ہوںFani Badayuni (1879–1941)
  21. آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہےکالی جادو جگا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  22. پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگاہاتھ پھر ہوویں گے اور اپنا گریباں ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  23. ترے جلال سے خورشید کو زوال ہواترے جمال سے مہتاب کو کمال ہواAagha Akbarabadi (b. 1879)
  24. جا لڑی یار سے ہماری آنکھدیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھAagha Akbarabadi (b. 1879)
  25. جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہےنام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  26. چاہت غمزے جتا رہی ہےوحشت صحرا دکھا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  27. خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسازخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیساAagha Akbarabadi (b. 1879)
  28. دل میں ترے اے نگار کیا ہےہوتا نہیں ہمکنار کیا ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  29. دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اورابر کعبہ سے اٹھا ہے مان کہنا ایک اورAagha Akbarabadi (b. 1879)
  30. سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیاپھر بہار آئی مجھے لطف چمن یاد آیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  31. سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتاتنگ کرتی مفلسی گر میں فراغت مانگتاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  32. کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤںنور کے سانچے میں ڈھالے ہیں تمہارے ہاتھ پاؤںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  33. مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کامشتاق ہوں وصیٔ نبی کے جمال کاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  34. مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خطمیری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خطAagha Akbarabadi (b. 1879)
  35. مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہےنمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  36. ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کبجوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کبAagha Akbarabadi (b. 1879)
  37. نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  38. نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوںخدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  39. نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوںاے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  40. وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئیازاں ہو گئی توپ سر ہو گئیAagha Akbarabadi (b. 1879)
  41. ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیںتمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  42. ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگابشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  43. بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسممرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسمAagha Akbarabadi (b. 1879)
  44. شدت ذات نے یہ حال بنایا اپناجسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
  45. ان پری رویوں کی ایسی ہی اگر کثرت رہیتھوڑے عرصہ میں پرستاں آگرہ ہو جائے گاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  46. او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائےاپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  47. بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگیآج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگیAagha Akbarabadi (b. 1879)
  48. تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نمازپر نشۂ شراب نے مجبور کر دیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  49. جی چاہتا ہے اس بت کافر کے عشق میںتسبیح توڑ ڈالیے زنار دیکھ کرAagha Akbarabadi (b. 1879)
  50. دوشالہ شال کشمیری امیروں کو مبارک ہوگلیم کہنہ میں جاڑا فقیروں کا بسر ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)