وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھا

Kaifi Hyderabadi (1880–1920)

وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھا

تجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھا