Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظنہ نبھنے دے گا دل زار و بے قرار لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  2. ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاعگردن کو اطلاع نہ خنجر کو اطلاعParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  3. خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہمایک ساغر کو بھرو تم ایک پیمانے کو ہمParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  4. دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئیوہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئیParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  5. نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیںدن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  6. اسی دن سے مجھے دونوں کی بربادی کا خطرہ تھامکمل ہو چکے تھے جس گھڑی ارض و سما بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  7. اہل دنیا باؤلے ہیں باؤلوں کی تو نہ سننیند اڑاتا ہو جو افسانہ اس افسانہ سے بھاگParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  8. بال رخساروں سے جب اس نے ہٹائے تو کھلادو فرنگی سیر کو نکلے ہیں ملک شام سےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  9. ٹھہر جاؤ بوسے لینے دو نہ توڑو سلسلہایک کو کیا واسطہ ہے دوسرے کے کام سےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  10. جنوں ہوتا ہے چھا جاتی ہے حیرتکمال عقل اک دیوانہ پن ہےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  11. چبھیں گے زیرہ ہائے شیشۂ دل دست نازک میںسنبھل کر ہاتھ ڈالا کیجیے میرے گریباں پرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  12. دلوایئے بوسہ دھیان بھی ہےاس قرضۂ واجب الادا کاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  13. زاہد سنبھل غرور خدا کو نہیں پسندفرش زمیں پہ پاؤں دماغ آسمان پرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  14. کبھی نہ جائے گا عاشق سے دیکھ بھال کا روگپلاؤ لاکھ اسے بد مزہ دوائے فراقParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  15. کچھ تو کمی ہو روز جزا کے عذاب میںاب سے پیا کریں گے ملا کر گلاب میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  16. کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھامحبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  17. کیوں اجاڑا زاہدو بتخانۂ آباد کومسجدیں کافی نہ ہوتیں کیا خدا کی یاد کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  18. گر آپ پہلے رشتۂ الفت نہ توڑتےمر مٹ کے ہم بھی خیر نبھاتے کسی طرحParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  19. مجھے جب مار ہی ڈالا تو اب دونوں برابر ہیںاڑاؤ خاک صرصر بن کے یا باد صبا بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  20. مخلوق کو تمہاری محبت میں اے بتوایمان کا خیال نہ اسلام کا لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  21. نکلے ہیں گھر سے دیکھنے کو لوگ ماہ عیداور دیکھتے ہیں ابروئے خم دار کی طرفParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  22. نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھاکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  23. وہ ہی آسان کرے گا مری دشواری کوجس نے دشوار کیا ہے مری آسانی کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  24. ہوتی نہ شریعت میں پرستش کبھی ممنوعگر پہلے بھی بت خانوں میں ہوتے صنم ایسےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  25. اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کوبمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کوSaail Dehlvi (1867–1945)
  26. امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دیتو یہ سمجھو کہ بنیاد خربات مغاں رکھ دیSaail Dehlvi (1867–1945)
  27. بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میںبہت دیکھے ہیں ایسے جوش اشک چشم گریاں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
  28. جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کےکہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کےSaail Dehlvi (1867–1945)
  29. حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دیناکوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دیناSaail Dehlvi (1867–1945)
  30. خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالاتو صحن چمن میں نہ گل ہو نہ لالہSaail Dehlvi (1867–1945)
  31. زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پررکھیو نظر بجائے ناز خاطر پیر ناز پرSaail Dehlvi (1867–1945)
  32. سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تونکل آئیں آنسو کلیجہ پکڑ لو کروں عرض اپنی کہانی کہو توSaail Dehlvi (1867–1945)
  33. کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہکب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہSaail Dehlvi (1867–1945)
  34. محبت میں جینا نئی بات ہےنہ مرنا بھی مر کر کرامات ہےSaail Dehlvi (1867–1945)
  35. ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھیوفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
  36. وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میںحریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
  37. ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والےذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والےSaail Dehlvi (1867–1945)
  38. ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اورگھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اورSaail Dehlvi (1867–1945)
  39. آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کونالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
  40. تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
  41. کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمالدیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
  42. محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہاکن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھاSaail Dehlvi (1867–1945)
  43. معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لیبھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کاSaail Dehlvi (1867–1945)
  44. ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سےنہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پرSaail Dehlvi (1867–1945)
  45. آپ ہی سے نہ جب رہا مطلبپھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلبHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  46. آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیاجب ہوک کلیجے میں اٹھی تو ہاتھوں سے دل تھام لیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  47. اب تو نہیں آسرا کسی کااللہ ہے اپنی بیکسی کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  48. ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کیغرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  49. ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتےہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  50. اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہےہم ادھر مجبور ہیں اور وہ ادھر مجبور ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)