Poetry
Poet
Meter
- ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظنہ نبھنے دے گا دل زار و بے قرار لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاعگردن کو اطلاع نہ خنجر کو اطلاعParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہمایک ساغر کو بھرو تم ایک پیمانے کو ہمParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئیوہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئیParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیںدن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- اسی دن سے مجھے دونوں کی بربادی کا خطرہ تھامکمل ہو چکے تھے جس گھڑی ارض و سما بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- اہل دنیا باؤلے ہیں باؤلوں کی تو نہ سننیند اڑاتا ہو جو افسانہ اس افسانہ سے بھاگParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- بال رخساروں سے جب اس نے ہٹائے تو کھلادو فرنگی سیر کو نکلے ہیں ملک شام سےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- ٹھہر جاؤ بوسے لینے دو نہ توڑو سلسلہایک کو کیا واسطہ ہے دوسرے کے کام سےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- جنوں ہوتا ہے چھا جاتی ہے حیرتکمال عقل اک دیوانہ پن ہےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- چبھیں گے زیرہ ہائے شیشۂ دل دست نازک میںسنبھل کر ہاتھ ڈالا کیجیے میرے گریباں پرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- دلوایئے بوسہ دھیان بھی ہےاس قرضۂ واجب الادا کاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- زاہد سنبھل غرور خدا کو نہیں پسندفرش زمیں پہ پاؤں دماغ آسمان پرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کبھی نہ جائے گا عاشق سے دیکھ بھال کا روگپلاؤ لاکھ اسے بد مزہ دوائے فراقParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کچھ تو کمی ہو روز جزا کے عذاب میںاب سے پیا کریں گے ملا کر گلاب میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھامحبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کیوں اجاڑا زاہدو بتخانۂ آباد کومسجدیں کافی نہ ہوتیں کیا خدا کی یاد کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- گر آپ پہلے رشتۂ الفت نہ توڑتےمر مٹ کے ہم بھی خیر نبھاتے کسی طرحParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- مجھے جب مار ہی ڈالا تو اب دونوں برابر ہیںاڑاؤ خاک صرصر بن کے یا باد صبا بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- مخلوق کو تمہاری محبت میں اے بتوایمان کا خیال نہ اسلام کا لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نکلے ہیں گھر سے دیکھنے کو لوگ ماہ عیداور دیکھتے ہیں ابروئے خم دار کی طرفParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھاکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- وہ ہی آسان کرے گا مری دشواری کوجس نے دشوار کیا ہے مری آسانی کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- ہوتی نہ شریعت میں پرستش کبھی ممنوعگر پہلے بھی بت خانوں میں ہوتے صنم ایسےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کوبمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کوSaail Dehlvi (1867–1945)
- امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دیتو یہ سمجھو کہ بنیاد خربات مغاں رکھ دیSaail Dehlvi (1867–1945)
- بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میںبہت دیکھے ہیں ایسے جوش اشک چشم گریاں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
- جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کےکہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کےSaail Dehlvi (1867–1945)
- حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دیناکوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دیناSaail Dehlvi (1867–1945)
- خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالاتو صحن چمن میں نہ گل ہو نہ لالہSaail Dehlvi (1867–1945)
- زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پررکھیو نظر بجائے ناز خاطر پیر ناز پرSaail Dehlvi (1867–1945)
- سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تونکل آئیں آنسو کلیجہ پکڑ لو کروں عرض اپنی کہانی کہو توSaail Dehlvi (1867–1945)
- کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہکب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہSaail Dehlvi (1867–1945)
- محبت میں جینا نئی بات ہےنہ مرنا بھی مر کر کرامات ہےSaail Dehlvi (1867–1945)
- ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھیوفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
- وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میںحریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والےذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والےSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اورگھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اورSaail Dehlvi (1867–1945)
- آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کونالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
- تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
- کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمالدیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
- محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہاکن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھاSaail Dehlvi (1867–1945)
- معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لیبھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کاSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سےنہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پرSaail Dehlvi (1867–1945)
- آپ ہی سے نہ جب رہا مطلبپھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلبHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیاجب ہوک کلیجے میں اٹھی تو ہاتھوں سے دل تھام لیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- اب تو نہیں آسرا کسی کااللہ ہے اپنی بیکسی کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کیغرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتےہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہےہم ادھر مجبور ہیں اور وہ ادھر مجبور ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)