Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیادوستی کا تیری سودا ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  2. یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤآخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  3. اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہےدنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  4. اصل وحدت کی بنا ہے عدم غیریتاس کا جب رنگ جما غیر کو اپنا جاناBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  5. بادبانوں میں بھری ہے اس کے کیا باد نفسکشتئ عمر رواں کو تاب لنگر کی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  6. بول اٹھتی کبھی چڑیا جو تری انگیا کیخوشنوائی کی نہ یوں جیتتی بلبل پالیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  7. تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہدہاتھ آئے ادھر استاد مزا ہے کہ نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  8. جو چشم دل ربا کے وصف میں اشعار لکھتا ہوںتو ہر ہر لفظ پر اہل نظر اک صاد کرتے ہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  9. سچ ہے ان دونوں کا ہے اک عالممیری تنہائی تیری یکتائیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  10. شمع رویوں کی محبت کا جو دم بھرتے ہیںایک مدت وہ ابھی بیعت پروانہ کریںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  11. عقدۂ قسمت نہیں کھلتا مرایہ بھی ترا بند قبا ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  12. وصل کا کرتا ہوں جب ذکر ان سےاک تبسم تہ لب کرتے ہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  13. وضو ہوتا ہے یاں تو شیخ اسی آب‌‌ گلابی سےتیمم کے لئے تم خاک جا کر دشت میں پھانکوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  14. یوں آؤ مرے پہلو میں تم گھر سے نکل کربو آتی ہے جس طرح گل تر سے نکل کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  15. اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میںانداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  16. بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیںیہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  17. بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کلہو بند راست گوئی کا بازار آج کلParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  18. بہت دن درس الفت میں کٹے ہیںمحبت کے سبق برسوں رٹے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  19. بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیںبہت ان کے عاشق جلائے گئے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  20. بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذتمہارے واسطے لایا ہوں میں کشمیر سے کاغذParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  21. پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  22. پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہہے رزم گاہ حسن کا یہ چار آئنہParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  23. پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبحبلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبحParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  24. جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشققابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشقParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  25. جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریکتیرے جمال میں نہیں کوئی حسیں شریکParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  26. جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیںخدا کی دی ہوئی عزت تباہ کرتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  27. جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرضچلنی نہ ہو جو راہ تو منزل سے کیا غرضParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  28. خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبتہمیں تم سے تعلق ہے مہ کامل سے کیا نسبتParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  29. دل پکارا پھنس کے کوئے یار میںروک رکھا ہے مجھے گل زار میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  30. دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشقکیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشقParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  31. دیکھو تو ذرا غضب خدا کاظالم نے مجھی کو پہلے تاکاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  32. زباں ہے بے خبر اور بے زباں دلکہے کس طرح سے راز نہاں دلParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  33. غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کایہ پیش خیمہ ہے ظالم تری تباہی کاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  34. کچھ طبیعت آج کل پاتا ہوں گھبرائی ہوئیشہر بھر میں ہے اداسی ہر طرف چھائی ہوئیParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  35. کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تکرہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تکParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  36. کسی کی کسی کو محبت نہیں ہےابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  37. کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میںحباب آ کر بنے ہر سمت سے بلبل سمندر میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  38. متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہےسب ہے آسان یہ سرکار بڑی مشکل ہےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  39. مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچہائے لالچ ہے تو اک ماہ جبیں کا لالچParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  40. مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعدساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعدParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  41. محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنامیری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھناParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  42. میری عزت بڑھ گئی اک پان میںفرق کیا آیا تمہاری شان میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  43. میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرصمیں وہ ہوں مجھ پہ ڈال سکے گی نہ دام حرصParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  44. میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوںبولوں تو سر سے پا تک حسرت کی داستاں ہوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  45. میں چپ کم رہا اور رویا زیادہیقیناً زمیں کم ہے دریا زیادہParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  46. نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاسدوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاسParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  47. نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورتوہ آئینہ کی صورت اور میں تصویر کی صورتParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  48. نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیںشر ہے کم بخت وہ بشر ہی نہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  49. وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیںروز اقرار بھول جاتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  50. ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہکیا نصیبے کی برائی ہے الٰہی توبہParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)