Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھیفاضل تھا گھر سے مجنوں لیلیٰ پڑھی لکھی تھیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  2. میرے ارماں وہ سدھارے یوں کے یونہیں رہ گئےحوصلے سارے کے سارے یوں کے یونہیں رہ گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  3. میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہویہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہوMuztar Khairabadi (1865–1927)
  4. نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  5. وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتےکہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  6. وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھےمرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  7. وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئیترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  8. ہجر میں ہو گیا وصال کا کیاخواب ہی بن گیا خیال کا کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  9. ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میںبیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  10. ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سےان کی صورت دیکھ لی سو بار لیکن دور سےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  11. ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرےجب ہے بے غوری تو یہ بھی غور کوئی کیوں کرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  12. یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہےبلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  13. اک پردہ نشیں کی آرزو ہےدر پردہ کہیں کی آرزو ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  14. جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہمہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  15. محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لومرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لوMuztar Khairabadi (1865–1927)
  16. نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹےبڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  17. اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سےاو شوخ چشم پھونک دے برق نگاہ سےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  18. ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیرییہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیریJaleel Manikpuri (1866–1946)
  19. اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہےیہ قفس یہ آشیانا اور ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  20. اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئےبیٹھا ہوں میں بھی دیدۂ پر نم لیے ہوئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  21. اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اوریہ جب ہو کہ تم سا ہو زمانے میں کہیں اورJaleel Manikpuri (1866–1946)
  22. ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہینگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  23. اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتاوعدۂ دید قیامت پہ نہ ٹالا ہوتاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  24. انہیں عادت ہمیں لذت ستم کیادھر شمشیر ادھر تقدیر چمکیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  25. اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کیہو نہیں سکتی دوا بیمار سے بیمار کیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  26. ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئیہم کو کیا اے مہ جبیں گر چاند پیشانی ہوئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  27. بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گیکر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  28. بن ترے کیا کروں جہاں لے کریہ زمیں اور یہ آسماں لے کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  29. بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کواک پری تھی کہ لگا لے گئی دیوانے کوJaleel Manikpuri (1866–1946)
  30. بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دیتمہارے لیے زندگانی لٹا دیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  31. بہا کر خون میرا مجھ سے بولےکہ لے جینے سے اپنے ہاتھ دھو لےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  32. بیٹھ جا کر سر منبر واعظہو گیا تو تو مرے سر واعظJaleel Manikpuri (1866–1946)
  33. پلا ساقی بہار آئے نہ آئےگھٹا پھر بار بار آئے نہ آئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  34. جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والےآج ساقی ترے فقرے نہیں چلنے والےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  35. جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہےیاد کیا کیا تری مستانہ ادا آئی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  36. چال ایسی وہ شوخ چلتا ہےحشر کا جس پہ دم نکلتا ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  37. چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑاندھیر ہوگا اس سے اگر ہو گیا بگاڑJaleel Manikpuri (1866–1946)
  38. چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کرمجھے مار ڈالا مری جان ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  39. حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئیدل کی دھڑکن نہ گئی درد کی شدت نہ گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  40. حسن میں آفت جہاں تو ہےچال میں خنجر رواں تو ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  41. دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کررنگ لایا ہے یہ غنچہ چمنستاں ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  42. دل گیا دل لگی نہیں جاتیروتے روتے ہنسی نہیں جاتیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  43. دل ہے اپنا نہ اب جگر اپناکر گئی کام وہ نظر اپناJaleel Manikpuri (1866–1946)
  44. دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئےمیرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  45. دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہےآزاد ہر خیال سے مست خیال ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  46. دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئیآنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  47. راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کرگردش میں ہوں میں گردش پیمانہ چھوڑ کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  48. راز عشق اظہار کے قابل نہیںجرم یہ اقرار کے قابل نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  49. رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کادامن میں کوئی پھول لیے ہے گلاب کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  50. ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کرہمارے باغ ہستی میں بہار آئی خزاں ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)