Poetry
Poet
Meter
- مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھیفاضل تھا گھر سے مجنوں لیلیٰ پڑھی لکھی تھیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- میرے ارماں وہ سدھارے یوں کے یونہیں رہ گئےحوصلے سارے کے سارے یوں کے یونہیں رہ گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہویہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہوMuztar Khairabadi (1865–1927)
- نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوںMuztar Khairabadi (1865–1927)
- وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتےکہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھےمرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئیترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہجر میں ہو گیا وصال کا کیاخواب ہی بن گیا خیال کا کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میںبیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سےان کی صورت دیکھ لی سو بار لیکن دور سےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہم وفا کرتے ہیں ہم پر جور کوئی کیوں کرےجب ہے بے غوری تو یہ بھی غور کوئی کیوں کرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہےبلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- اک پردہ نشیں کی آرزو ہےدر پردہ کہیں کی آرزو ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہمہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لومرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لوMuztar Khairabadi (1865–1927)
- نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹےبڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سےاو شوخ چشم پھونک دے برق نگاہ سےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیرییہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیریJaleel Manikpuri (1866–1946)
- اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہےیہ قفس یہ آشیانا اور ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئےبیٹھا ہوں میں بھی دیدۂ پر نم لیے ہوئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اوریہ جب ہو کہ تم سا ہو زمانے میں کہیں اورJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہینگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتاوعدۂ دید قیامت پہ نہ ٹالا ہوتاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- انہیں عادت ہمیں لذت ستم کیادھر شمشیر ادھر تقدیر چمکیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کیہو نہیں سکتی دوا بیمار سے بیمار کیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئیہم کو کیا اے مہ جبیں گر چاند پیشانی ہوئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گیکر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بن ترے کیا کروں جہاں لے کریہ زمیں اور یہ آسماں لے کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کواک پری تھی کہ لگا لے گئی دیوانے کوJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دیتمہارے لیے زندگانی لٹا دیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بہا کر خون میرا مجھ سے بولےکہ لے جینے سے اپنے ہاتھ دھو لےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بیٹھ جا کر سر منبر واعظہو گیا تو تو مرے سر واعظJaleel Manikpuri (1866–1946)
- پلا ساقی بہار آئے نہ آئےگھٹا پھر بار بار آئے نہ آئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والےآج ساقی ترے فقرے نہیں چلنے والےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہےیاد کیا کیا تری مستانہ ادا آئی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- چال ایسی وہ شوخ چلتا ہےحشر کا جس پہ دم نکلتا ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑاندھیر ہوگا اس سے اگر ہو گیا بگاڑJaleel Manikpuri (1866–1946)
- چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کرمجھے مار ڈالا مری جان ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
- حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئیدل کی دھڑکن نہ گئی درد کی شدت نہ گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- حسن میں آفت جہاں تو ہےچال میں خنجر رواں تو ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کررنگ لایا ہے یہ غنچہ چمنستاں ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دل گیا دل لگی نہیں جاتیروتے روتے ہنسی نہیں جاتیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دل ہے اپنا نہ اب جگر اپناکر گئی کام وہ نظر اپناJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئےمیرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہےآزاد ہر خیال سے مست خیال ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئیآنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کرگردش میں ہوں میں گردش پیمانہ چھوڑ کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
- راز عشق اظہار کے قابل نہیںجرم یہ اقرار کے قابل نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کادامن میں کوئی پھول لیے ہے گلاب کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کرہمارے باغ ہستی میں بہار آئی خزاں ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)