Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- چارہ گروMustafa Zaidi (1930–1970)
- خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہےتجھی کو تیری نگاہوں سے پیار کرتے رہےDaur Afridi (1930–1992)
- خیال حسن و محبت لحاظ عہد وفادل و نظر کو جگائے کہ جیسے سحر کیاDaur Afridi (1930–1992)
- متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہوتضیع عمر کا آخر کوئی جواز تو ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئیمگر چراغ تلے روشنی کبھی نہ ہوئیBalraj Hairat (1930–1995)
- نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگشناخت کیسے کریں گے تجھے قیاس سے لوگBalraj Hairat (1930–1995)
- خلوص پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیںدلوں کے بیچ وہ پہلا سا رابطہ بھی نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- کسی پہ قہر کسی پہ عتاب ہو کے رہاکسی پہ لطف ترا بے حساب ہو کے رہاYas Chandpuri (b. 1930)
- نہ ہو جو ان کی طبیعت وفا شعار نہیںہمیں تو تلخیٔ دوراں بھی ناگوار نہیںKaleem Sahasrami (b. 1930)
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیںفرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- پیام آئے ہیں اس یار بے وفا کے مجھےجسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھےAhmad Faraz (1931–2008)
- تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوںمیں زخم زخم ہوں پھر بھی تجھے دکھائی نہ دوںAhmad Faraz (1931–2008)
- جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئےکہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
- جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگےہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگےAhmad Faraz (1931–2008)
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- فقیہ شہر کی مجلس سے کچھ بھلا نہ ہواکہ اس سے مل کے مزاج اور کافرانہ ہواAhmad Faraz (1931–2008)
- کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلوبہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلوAhmad Faraz (1931–2008)
- کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسےغزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسےAhmad Faraz (1931–2008)
- کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھیبگڑ گیا ہوں کہ صورت یہی بناؤ کی تھیAhmad Faraz (1931–2008)
- گلہ فضول تھا عہد وفا کے ہوتے ہوئےسو چپ رہا ستم ناروا کے ہوتے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
- مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہےیہ دل بھی دامن یوسف ہے چاک چاہتا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- نظر بجھی تو کرشمے بھی روز و شب کے گئےکہ اب تلک نہیں آئے ہیں لوگ جب کے گئےAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیںعجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیاکہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیاAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگےکہ ہم کو دست زمانہ سے زخم کاری لگےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیاچراغ کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیاAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ بے دلی ہے تو کشتی سے یار کیا اتریںادھر بھی کون ہے دریا کے پار کیا اتریںAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیںیہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہاکہ جس کے ساتھ نہ تھا ہم سفر اسی کا رہاAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے مجھ کو عنایت کیا ید بیضااسی نے مجھ سے کہا سحر سامری سے نکلAhmad Faraz (1931–2008)
- اذیتوں میں بھی بخشی مجھے وہ نعمت صبرکہ میرے دل میں گرہ ہے نہ میرے ماتھے پہ بلAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے سہل کیے مجھ پہ زندگی کے عذابوہ عہد سنگ زنی تھا کہ دور تیغ اجلAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے مجھ سے کہا اسم اہل صدق امراسی نے مجھ سے کہا سچ کا فیصلہ ہے اٹلAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے مجھ سے کہا زہر کا پیالہ اٹھااسی نے مجھ سے کہا جو کہا ہے اس سے نہ ٹلAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے مجھ سے کہا عاجزی سے مات نہ کھااسی نے مجھ سے کہا مصلحت کی چال نہ چلAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے مجھ سے کہا وضع عاشقی کو نہ چھوڑوہ خواہ عجز کا لمحہ ہو یا غرور کا پلAhmad Faraz (1931–2008)
- اسی نے مجھ کو چٹانوں کے حوصلے بخشےوہ کربلائے فنا تھی کہ کارگاہ جدلAhmad Faraz (1931–2008)
- ترے کرم سے یہاں بھی مجھے میسر ہےجو زاہدوں کی عبادت میں ڈالتا ہے خللAhmad Faraz (1931–2008)
- تمام سینہ فگاروں کو یاد میرے سخنہر ایک غیرت مریم کے لب پہ میری غزلAhmad Faraz (1931–2008)
- تو اپنے عرش پہ شاداں ہے سو خوشی تیریمیں اپنے فرش پہ نازاں ہوں اے نگار ازلAhmad Faraz (1931–2008)
- سو تجھ سا ہے کوئی خالق نہ مجھ سی ہے مخلوقنہ کوئی تیرا ہے ثانی نہ کوئی میرا بدلAhmad Faraz (1931–2008)
- کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسےتمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہاAhmad Faraz (1931–2008)
- کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہاAhmad Faraz (1931–2008)
- گناہ گار تو ہوں پر نہ اس قدر کہ مجھےصلیب روز مکافات کی لگے بوجھلAhmad Faraz (1931–2008)
- ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دےتو آسماں سے اتر اور مری زمین پہ چلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہےدلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ جس نے مجھے یہ درس دیاکہ سنگ و خشت کی زد پر رہیں گے شیش محلAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہیگماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈھتی ہی رہیJaun Elia (1931–2002)
- نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیاتمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیاJaun Elia (1931–2002)
- ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیںکہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیںJaun Elia (1931–2002)