Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. چارہ گروMustafa Zaidi (1930–1970)
  2. خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہےتجھی کو تیری نگاہوں سے پیار کرتے رہےDaur Afridi (1930–1992)
  3. خیال حسن و محبت لحاظ عہد وفادل و نظر کو جگائے کہ جیسے سحر کیاDaur Afridi (1930–1992)
  4. متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہوتضیع‌ عمر کا آخر کوئی جواز تو ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  5. کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئیمگر چراغ تلے روشنی کبھی نہ ہوئیBalraj Hairat (1930–1995)
  6. نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگشناخت کیسے کریں گے تجھے قیاس سے لوگBalraj Hairat (1930–1995)
  7. خلوص پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیںدلوں کے بیچ وہ پہلا سا رابطہ بھی نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
  8. کسی پہ قہر کسی پہ عتاب ہو کے رہاکسی پہ لطف ترا بے حساب ہو کے رہاYas Chandpuri (b. 1930)
  9. نہ ہو جو ان کی طبیعت وفا شعار نہیںہمیں تو تلخیٔ دوراں بھی ناگوار نہیںKaleem Sahasrami (b. 1930)
  10. ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیںفرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
  11. پیام آئے ہیں اس یار بے وفا کے مجھےجسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھےAhmad Faraz (1931–2008)
  12. تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوںمیں زخم زخم ہوں پھر بھی تجھے دکھائی نہ دوںAhmad Faraz (1931–2008)
  13. جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئےکہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
  14. جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگےہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگےAhmad Faraz (1931–2008)
  15. سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
  16. فقیہ شہر کی مجلس سے کچھ بھلا نہ ہواکہ اس سے مل کے مزاج اور کافرانہ ہواAhmad Faraz (1931–2008)
  17. کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلوبہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلوAhmad Faraz (1931–2008)
  18. کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسےغزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسےAhmad Faraz (1931–2008)
  19. کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھیبگڑ گیا ہوں کہ صورت یہی بناؤ کی تھیAhmad Faraz (1931–2008)
  20. گلہ فضول تھا عہد وفا کے ہوتے ہوئےسو چپ رہا ستم ناروا کے ہوتے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
  21. مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہےیہ دل بھی دامن یوسف ہے چاک چاہتا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  22. نظر بجھی تو کرشمے بھی روز و شب کے گئےکہ اب تلک نہیں آئے ہیں لوگ جب کے گئےAhmad Faraz (1931–2008)
  23. نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیںعجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
  24. وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیاکہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیاAhmad Faraz (1931–2008)
  25. ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگےکہ ہم کو دست زمانہ سے زخم کاری لگےAhmad Faraz (1931–2008)
  26. ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیاچراغ کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیاAhmad Faraz (1931–2008)
  27. یہ بے دلی ہے تو کشتی سے یار کیا اتریںادھر بھی کون ہے دریا کے پار کیا اتریںAhmad Faraz (1931–2008)
  28. یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیںیہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
  29. یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہاکہ جس کے ساتھ نہ تھا ہم سفر اسی کا رہاAhmad Faraz (1931–2008)
  30. اسی نے مجھ کو عنایت کیا ید بیضااسی نے مجھ سے کہا سحر سامری سے نکلAhmad Faraz (1931–2008)
  31. اذیتوں میں بھی بخشی مجھے وہ نعمت صبرکہ میرے دل میں گرہ ہے نہ میرے ماتھے پہ بلAhmad Faraz (1931–2008)
  32. اسی نے سہل کیے مجھ پہ زندگی کے عذابوہ عہد سنگ زنی تھا کہ دور تیغ اجلAhmad Faraz (1931–2008)
  33. اسی نے مجھ سے کہا اسم اہل صدق امراسی نے مجھ سے کہا سچ کا فیصلہ ہے اٹلAhmad Faraz (1931–2008)
  34. اسی نے مجھ سے کہا زہر کا پیالہ اٹھااسی نے مجھ سے کہا جو کہا ہے اس سے نہ ٹلAhmad Faraz (1931–2008)
  35. اسی نے مجھ سے کہا عاجزی سے مات نہ کھااسی نے مجھ سے کہا مصلحت کی چال نہ چلAhmad Faraz (1931–2008)
  36. اسی نے مجھ سے کہا وضع عاشقی کو نہ چھوڑوہ خواہ عجز کا لمحہ ہو یا غرور کا پلAhmad Faraz (1931–2008)
  37. اسی نے مجھ کو چٹانوں کے حوصلے بخشےوہ کربلائے فنا تھی کہ کارگاہ جدلAhmad Faraz (1931–2008)
  38. ترے کرم سے یہاں بھی مجھے میسر ہےجو زاہدوں کی عبادت میں ڈالتا ہے خللAhmad Faraz (1931–2008)
  39. تمام سینہ فگاروں کو یاد میرے سخنہر ایک غیرت مریم کے لب پہ میری غزلAhmad Faraz (1931–2008)
  40. تو اپنے عرش پہ شاداں ہے سو خوشی تیریمیں اپنے فرش پہ نازاں ہوں اے نگار ازلAhmad Faraz (1931–2008)
  41. سو تجھ سا ہے کوئی خالق نہ مجھ سی ہے مخلوقنہ کوئی تیرا ہے ثانی نہ کوئی میرا بدلAhmad Faraz (1931–2008)
  42. کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسےتمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہاAhmad Faraz (1931–2008)
  43. کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہاAhmad Faraz (1931–2008)
  44. گناہ گار تو ہوں پر نہ اس قدر کہ مجھےصلیب روز مکافات کی لگے بوجھلAhmad Faraz (1931–2008)
  45. ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دےتو آسماں سے اتر اور مری زمین پہ چلAhmad Faraz (1931–2008)
  46. یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہےدلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندلAhmad Faraz (1931–2008)
  47. یہی قلم ہے کہ جس نے مجھے یہ درس دیاکہ سنگ و خشت کی زد پر رہیں گے شیش محلAhmad Faraz (1931–2008)
  48. نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہیگماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈھتی ہی رہیJaun Elia (1931–2002)
  49. نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیاتمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیاJaun Elia (1931–2002)
  50. ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیںکہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیںJaun Elia (1931–2002)