Poetry
Mutaqarib Musamman Mahzuf
متقارب مثمن محذوف- کہ ہے مختصر داستاں عشق کیگلے مل کے کوئی گلے پڑ گیاDeepak Purohit (b. 1954)
- کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیایہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- مجھے اب نیا اک بدن چاہیئےاور اس کے لیے بانکپن چاہیئےObaid Siddiqi (1957–2020)
- سنو پیارے بچو یہ قصہ نیامرے پیارے بھارت کے اک شہر کاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- غذا سے توانائی تن کو ملےہیں لمبے توانائی کے سلسلےHafiz Karnataki (b. 1964)
- سہا عمر بھر پر جتایا نہیںترا زخم ہم نے دکھایا نہیںVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- غموں سے بشر کو رہا دیکھناسلگتی کوئی جب چتا دیکھناVikas Joshi Wahid (b. 1965)
- دل اپنا شب ہجر میں رات بھرلٹکتا رہا درد کے دار پرLatif Shah Shahid (b. 1968)
- محبت کے آداب سیکھو ذرااسے جان کہہ کر پکارا کروVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ملے تم کہاں کی جدا کر چلےکہانی وہی پھر سنا کر چلےVijay pratap singh (b. 1981)
- ملے ہم جو اب کے کئی سال بعدتمہیں بھی ملامت مجھے بھی ملالNadeem Gullani (b. 1982)
- نیا چار دن میں پرانا ہوایہی سب ہوا تو نیا کیا ہواObaid Haris (b. 1990)
- یہ عشق و وفا کا صلہ کچھ نہیںکہا تھا کسی نے خدا کچھ نہیںHabib Rehman (b. 1994)
- بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھیمجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گاAhmad Mushtaq
- وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئےچلو دیکھیں تلوار چلتے ہوئےHabeeb Moosavi
- وہ جب آپ سے اپنا پردا کریںتو بند قبا کس طرح وا کریںسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم ان کی نظر میں سمانے لگےمگر جب نظر بھی نہ آنے لگےسید یوسف علی خاں ناظم
- مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئینہیں بھی پہر دو پہر ہو گئینظام رامپوری
- نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھےتمہاری جدائی نے مارا مجھےنظام رامپوری
- وہی لوگ پھر آنے جانے لگےمرے پاس کیوں آپ آنے لگےنظام رامپوری
- ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میںچلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میںKhumar Barabankavi
- وہ بت بول اٹھے کسی بات میںخدا سے یہ مانگا مناجات میںکشن کمار وقار
- جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلےزبان قلم میں پڑیں آبلےرند لکھنوی
- بس اب آپ تشریف لے جائیےجو گزرے گی مجھ پر گزر جائے گیرند لکھنوی
- زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہےہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہےرند لکھنوی
- وجود اب مرا لا فنا ہو گیافنا ہو کے جزو بقا ہو گیاساحر دہلوی
- اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیےمگر آپ ہی سے گزر جائیےمیر اثر
- خفا اس سے کیوں تو مری جان ہےاثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہےمیر اثر
- عجب رنگ کی مے پرستی رہیکہ بے مے پیے مے کی مستی رہیمبارک عظیم آبادی
- یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیازمیں رہ گئی آسماں رہ گیاقربان علی سالک بیگ
- گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیاوہ دل میں مرے آبلہ ہو گیاقربان علی سالک بیگ
- دم یار تا نزع بھر لیجئےسخیؔ زندگی تک تو مر لیجئےسخی لکھنوی
- دولہن بھی اگر بن کے آئے گی راتہمیں بے تمہارے نہ بھائے گی راتسخی لکھنوی
- اے ظالم ترے جب سے پالے پڑےہمیں اپنے جینے کے لالے پڑےمرزا جواں بخت جہاں دار
- اثر آہ کا گر دکھائیں گے ہمابھی کھینچ کر تم کو لائیں گے ہممیر مہدی مجروح
- ہم اپنا جو قصہ سنانے لگےوہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگےمیر مہدی مجروح
- کچھ نہیں کے دو پہلوعلی منظور حیدرآبادی
- برا ہو گیا یا بھلا ہو گیامحبت میں جو ہو گیا ہو گیاپنڈت ہری چند اختر
- کروں میں کہاں تک مدارات روزتمہیں چاہیئے ہے وہی بات روزسعادت یار خان رنگین
- قمر کی وہ خورشید تصویر ہےگلے میں ستاروں کی زنجیر ہےمرزارضا برق
- اثر زلف کا برملا ہو گیابلاؤں سے مل کر بلا ہو گیامرزارضا برق
- عجب تو نے جلوہ دکھایا مجھےکہ عالم میں پھر کچھ نہ بھایا مجھےشاہ آثم
- جو یوں آپ بیرون در جائیں گےخدا جانے کس کس کے گھر جائیں گےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- زمانے کو خود سے نہ انجان رکھکوئی منفرد اپنی پہچان رکھDard Sironji
- نیا سال (امین حزیں سیالکوٹی)امین حزیں سیالکوٹی
- شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئینقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئیمنشی شیو پرشاد وہبی
- خفا ہم سے وہ بے سبب ہو گیاغضب ہو گیا ہے غضب ہو گیامنتظر لکھنوی
- پلا ساقیا مئے خنک آب میںکہ تھمتی نہیں توبہ مہتاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- نکلنا ہو دل سے دشوار کیوںیہ اک آہ ہے اس کا پیکاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- کروں کس سے فریاد کیا ہو گیامرا یار مجھ سے جدا ہو گیاسید ہمایوں میرزا حقیر