Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mutaqarib Musamman Salim

متقارب مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیںہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  2. عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھرنہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گرTaban Abdul Hai (1715–1749)
  3. مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہےکروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  4. اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  5. تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  6. مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہےزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  7. اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیںنہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھاپر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
  9. جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
  10. گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سےیہی بات ہم چاہتے تھے خدا سےMir Taqi Mir (1723–1810)
  11. محبت کا جب روز بازار ہوگابکیں گے سر اور کم خریدار ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
  12. یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کینظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کیMir Taqi Mir (1723–1810)
  13. وفادار ہو یا جفا کار تم ہوجو کچھ ہو سو ہو پر مرے یار تم ہوMir Hasan (1727–1786)
  14. ادھر یار جب مہربانی کرے گاتو اپنا بھی جی شادمانی کرے گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  15. جب آیا وُہ یاں دِل ربائی جتانےتُو کیا کیا لگا خُوش ادائی جتانےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  16. جب اس کا ادھر ہم گزر دیکھتے ہیںتو کر دل میں کیا کیا حذر دیکھتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  17. جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیاتو یارب یہ دل میرا کس کام آیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  18. گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنےارادے سے چاہت کے آگاہ کرنےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  19. مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کاکہ یہ باغ اک گل ہے جس کے چمن کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  20. ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلاہوا رنگ سن کر رقیبوں کا نیلاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  21. میاں دل تجھے لے چلے حسن والےکہو اور کیا جا خدا کے حوالےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  22. نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوںکوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  23. نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایاشرارت سے جی جس نے میرا جلایاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  24. یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیںسو الفت ہی کے سب فسانے بندھے ہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  25. ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہےپھر اس دل کو آزار پیدا ہوا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  26. تماشے کی شکلیں عیاں ہو گئی ہیںبہاریں بہت یاں خزاں ہو گئی ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  27. چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھریسفر میں یہ ہے رو سیاہوں کی گٹھریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  28. خدا کی قسم پھر تو کیا خیر ہووےہم اور تم اکیلے ہوں اور سیر ہووےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  29. سدا فکر روزی ہے تا زندگی ہےجو جینا یہی ہے تو کیا زندگی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  30. سر اپنے کو تجھ پر فدا کر چکے ہمحق آشنائی ادا کر چکے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  31. شب ہجر صحرائے ظلمات نکلیمیں جب آنکھ کھولی بہت رات نکلیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  32. محبت نے کیا کیا نہ آنیں نکالیںکہ تار قلم نے زبانیں نکالیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  33. ہمیں نت اسیر بلا چاہتا ہےہماری خوشی کب خدا چاہتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  34. یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گیکسو سے ہمیں یاں لڑا کر رہیں گیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  35. فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کاغرض کیا کہ محتاج ہو بادشہ کاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  36. دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسےکلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  37. شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھابغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  38. کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گااسی طرح گر تو مقابل رہے گاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  39. لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاریابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاریNaseem Dehlvi (1794–1864)
  40. نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہےخدا جانے اب کے مجھے کیا ہوا ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  41. لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کازیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  42. از آنجا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہمرقیبِ تمنّائے دیدار ہیں ہمMirza Ghalib (1797–1869)
  43. جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  44. از آنجا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہمMirza Ghalib (1797–1869)
  45. کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کانہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کاMomin Khan Momin (1800–1852)
  46. دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیںہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  47. دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتامرے منہ میں پانی چوایا تو ہوتاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  48. یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گےیوں ہی ایڑیاں ہم رگڑتے رہیں گےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  49. دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کیکہ آنکھوں میں پھرتی ہے صورت کسی کیImdad Ali Bahr (1810–1878)
  50. بتوں کی اگر خود نمائی نہ دیکھوںان آنکھوں سے یا رب خدائی نہ دیکھوںPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)