Poetry
Mutaqarib Musamman Salim
متقارب مثمن سالم- گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیںہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھرنہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گرTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہےکروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہےزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیںنہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھاپر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سےیہی بات ہم چاہتے تھے خدا سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- محبت کا جب روز بازار ہوگابکیں گے سر اور کم خریدار ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
- یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کینظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- وفادار ہو یا جفا کار تم ہوجو کچھ ہو سو ہو پر مرے یار تم ہوMir Hasan (1727–1786)
- ادھر یار جب مہربانی کرے گاتو اپنا بھی جی شادمانی کرے گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب آیا وُہ یاں دِل ربائی جتانےتُو کیا کیا لگا خُوش ادائی جتانےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب اس کا ادھر ہم گزر دیکھتے ہیںتو کر دل میں کیا کیا حذر دیکھتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیاتو یارب یہ دل میرا کس کام آیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنےارادے سے چاہت کے آگاہ کرنےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کاکہ یہ باغ اک گل ہے جس کے چمن کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلاہوا رنگ سن کر رقیبوں کا نیلاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- میاں دل تجھے لے چلے حسن والےکہو اور کیا جا خدا کے حوالےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوںکوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایاشرارت سے جی جس نے میرا جلایاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیںسو الفت ہی کے سب فسانے بندھے ہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہےپھر اس دل کو آزار پیدا ہوا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- تماشے کی شکلیں عیاں ہو گئی ہیںبہاریں بہت یاں خزاں ہو گئی ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھریسفر میں یہ ہے رو سیاہوں کی گٹھریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- خدا کی قسم پھر تو کیا خیر ہووےہم اور تم اکیلے ہوں اور سیر ہووےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سدا فکر روزی ہے تا زندگی ہےجو جینا یہی ہے تو کیا زندگی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سر اپنے کو تجھ پر فدا کر چکے ہمحق آشنائی ادا کر چکے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب ہجر صحرائے ظلمات نکلیمیں جب آنکھ کھولی بہت رات نکلیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- محبت نے کیا کیا نہ آنیں نکالیںکہ تار قلم نے زبانیں نکالیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ہمیں نت اسیر بلا چاہتا ہےہماری خوشی کب خدا چاہتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گیکسو سے ہمیں یاں لڑا کر رہیں گیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کاغرض کیا کہ محتاج ہو بادشہ کاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسےکلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھابغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گااسی طرح گر تو مقابل رہے گاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاریابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاریNaseem Dehlvi (1794–1864)
- نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہےخدا جانے اب کے مجھے کیا ہوا ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کازیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
- از آنجا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہمرقیبِ تمنّائے دیدار ہیں ہمMirza Ghalib (1797–1869)
- جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- از آنجا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہمMirza Ghalib (1797–1869)
- کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کانہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کاMomin Khan Momin (1800–1852)
- دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیںہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتامرے منہ میں پانی چوایا تو ہوتاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- یہ دل ہے تو آفت میں پڑتے رہیں گےیوں ہی ایڑیاں ہم رگڑتے رہیں گےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کیکہ آنکھوں میں پھرتی ہے صورت کسی کیImdad Ali Bahr (1810–1878)
- بتوں کی اگر خود نمائی نہ دیکھوںان آنکھوں سے یا رب خدائی نہ دیکھوںPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)