Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musaddas Mahzuf

رمل مسدس محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہےقلب کو لیکن ذرا آزاد رکھAllama Iqbal (1877–1938)
  2. آپ کو غیر سے الفت ہو گئیہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  3. آہ سے یا آہ کی تاثیر سےجی بہل جاتا کسی تدبیر سےFani Badayuni (1879–1941)
  4. اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئےFani Badayuni (1879–1941)
  5. گندی لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  6. صاف لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  7. شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشقہاتھ میں لبریز لے کر جام عشقWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  8. اور عشرت کی تمنا کیا کریںسامنے تو ہو تجھے دیکھا کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  9. رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھاخدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  10. عشق جو معراج کا اک زینہ ہےیہ ہمارا مذہب پارینہ ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  11. مل گئی مجھ کو تو دنیا سے نجاتقتل کر کے آپ کو کیا مل گیاRaaz Rampuri (1883–1918)
  12. حسن پر فرعون کی پھبتی کہیہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  13. راہ و رسم ابتدائی دیکھ لیانتہائے بے وفائی دیکھ لیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  14. وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئےزندگی سے روٹھ جانا چاہیئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. درد و غم دل کی طبیعت بن گئےاب یہاں آرام ہی آرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیںوہ ستم کرنے سے باز آتا نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  17. پتھروں پہ نام لکھتا ہوں ترادیکھ تو او بت مری دیوانگیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  18. اس نے اس انداز سے دیکھا مجھےزندگی بھر کا گلہ جاتا رہاHadi Machlishahri (1890–1961)
  19. جان یا دل نذر کرنا چاہئےکچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئےShad Lakhnavi (d. 1892)
  20. اہل ایماں سے نہ کافر سے کہواے بتو لیکن خدا لگتی کہوShad Lakhnavi (d. 1892)
  21. تیز احساس خودی درکار ہےزندگی کو زندگی درکار ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  22. اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںکتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  23. بے تعلق زندگی اچھی نہیںزندگی کیا موت بھی اچھی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  24. حسن نے سیکھیں غریب آزاریاںعشق کی مجبوریاں لاچاریاںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  25. زندگی کا لطف بھی آ جائے گازندگانی ہے تو دیکھا جائے گاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  26. دل ہوا تیری نظر سے فیضیابمیں ترا جلوہ نہ تو میرا حجابZaheen Shah Taji (1902–1978)
  27. عشق میں خود حسن غارت گر لٹالوٹنے والا یہاں آکر لٹاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  28. ناز فرمائے اگر میرا جنوںتم وہی کرتے رہو جو میں کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  29. چشم دل پر کیف ہے چھایا ہواہے تصور میں کوئی آیا ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  30. پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیںاور جو لاتا ہے پڑھا جاتا نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  31. یارو کوئے یار کی باتیں کریںپھر گل و گلزار کی باتیں کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
  32. وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئےرات دن صورت کو دیکھا کیجئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  33. آپ جب بھی آ گئے ایسا لگاآسماں قدموں سے میرے آ لگاFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  34. اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کماور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  35. ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیانسل و ملت کے صنم خانے بہتHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  36. سارا عالم گوش بر آواز ہےآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  37. ہمارا جھنڈاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  38. میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گیسارے گھر میں چاندنی پھیلائے گیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  39. یہ نئی پود الحفیظ و الاماںرعد ہے طوفان ہے آتش فشاںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  40. بند غم مشکل سے مشکل تر کھلاہم سے جب کوئی پری پیکر کھلاTabish Dehlvi (1911–2004)
  41. اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  42. تیز سی تلوار سادہ سا قلمبس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کمFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  43. جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  44. غور کے قابل ہے دنیا کا نظاماس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقامFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  45. وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  46. تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیازہر اب تو آب و دانہ ہو گیاAali Gopalpuri (1912–1980)
  47. زندگی اک درد و غم کا ساز ہےموت جس کی آخری آواز ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  48. عشق کو تقلید سے آزاد کردل سے گریہ آنکھ سے فریاد کرEhsan Danish (1914–1982)
  49. آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاجعمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئےEhsan Danish (1914–1982)
  50. پھر بھیانک تیرگی میں آ گئےہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)