Poetry
Ramal Musaddas Mahzuf
رمل مسدس محذوف- گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہےقلب کو لیکن ذرا آزاد رکھAllama Iqbal (1877–1938)
- آپ کو غیر سے الفت ہو گئیہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- آہ سے یا آہ کی تاثیر سےجی بہل جاتا کسی تدبیر سےFani Badayuni (1879–1941)
- اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئےFani Badayuni (1879–1941)
- گندی لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- صاف لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشقہاتھ میں لبریز لے کر جام عشقWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- اور عشرت کی تمنا کیا کریںسامنے تو ہو تجھے دیکھا کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھاخدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- عشق جو معراج کا اک زینہ ہےیہ ہمارا مذہب پارینہ ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- مل گئی مجھ کو تو دنیا سے نجاتقتل کر کے آپ کو کیا مل گیاRaaz Rampuri (1883–1918)
- حسن پر فرعون کی پھبتی کہیہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- راہ و رسم ابتدائی دیکھ لیانتہائے بے وفائی دیکھ لیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئےزندگی سے روٹھ جانا چاہیئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- درد و غم دل کی طبیعت بن گئےاب یہاں آرام ہی آرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیںوہ ستم کرنے سے باز آتا نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- پتھروں پہ نام لکھتا ہوں ترادیکھ تو او بت مری دیوانگیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- اس نے اس انداز سے دیکھا مجھےزندگی بھر کا گلہ جاتا رہاHadi Machlishahri (1890–1961)
- جان یا دل نذر کرنا چاہئےکچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئےShad Lakhnavi (d. 1892)
- اہل ایماں سے نہ کافر سے کہواے بتو لیکن خدا لگتی کہوShad Lakhnavi (d. 1892)
- تیز احساس خودی درکار ہےزندگی کو زندگی درکار ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںکتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- بے تعلق زندگی اچھی نہیںزندگی کیا موت بھی اچھی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- حسن نے سیکھیں غریب آزاریاںعشق کی مجبوریاں لاچاریاںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- زندگی کا لطف بھی آ جائے گازندگانی ہے تو دیکھا جائے گاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل ہوا تیری نظر سے فیضیابمیں ترا جلوہ نہ تو میرا حجابZaheen Shah Taji (1902–1978)
- عشق میں خود حسن غارت گر لٹالوٹنے والا یہاں آکر لٹاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- ناز فرمائے اگر میرا جنوںتم وہی کرتے رہو جو میں کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
- چشم دل پر کیف ہے چھایا ہواہے تصور میں کوئی آیا ہواJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیںاور جو لاتا ہے پڑھا جاتا نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- یارو کوئے یار کی باتیں کریںپھر گل و گلزار کی باتیں کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
- وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئےرات دن صورت کو دیکھا کیجئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- آپ جب بھی آ گئے ایسا لگاآسماں قدموں سے میرے آ لگاFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کماور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیانسل و ملت کے صنم خانے بہتHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- سارا عالم گوش بر آواز ہےآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ہمارا جھنڈاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گیسارے گھر میں چاندنی پھیلائے گیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- یہ نئی پود الحفیظ و الاماںرعد ہے طوفان ہے آتش فشاںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- بند غم مشکل سے مشکل تر کھلاہم سے جب کوئی پری پیکر کھلاTabish Dehlvi (1911–2004)
- اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- تیز سی تلوار سادہ سا قلمبس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کمFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- غور کے قابل ہے دنیا کا نظاماس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقامFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- تجھ کو دیکھے اک زمانہ ہو گیازہر اب تو آب و دانہ ہو گیاAali Gopalpuri (1912–1980)
- زندگی اک درد و غم کا ساز ہےموت جس کی آخری آواز ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
- عشق کو تقلید سے آزاد کردل سے گریہ آنکھ سے فریاد کرEhsan Danish (1914–1982)
- آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاجعمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئےEhsan Danish (1914–1982)
- پھر بھیانک تیرگی میں آ گئےہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)