Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musaddas Mahzuf

رمل مسدس محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  2. واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیامنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  3. راہ و رسم خط کتابت ہی سہیگل نہیں تو گل کی نکہت ہی سہیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  4. میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئےمیں ہی میں ہوں پھر مجھے کیا چاہئےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  5. کاٹھ کی ہنڈیا چڑھی کب بار بارکھو دیا جھوٹے نے اپنا اعتبارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  6. ایک پودا اور گھاسIsmail Meeruthi (1844–1917)
  7. ہوا اور سورج کا مقابلہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  8. کس لئے پروانہ خاکستر ہواشمع کیوں اپنی جلن میں گھل گئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  9. کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاںیا کوئی دنیائے فانی اور ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  10. اونٹIsmail Meeruthi (1844–1917)
  11. آہ جو دل سے نکالی جائے گیکیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  12. عشق و مذہب میں دو رنگی ہو گئیدین و دل میں خانہ جنگی ہو گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  13. تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیابیچ میں چونکا تو تھا پھر سو گیاShad Azimabadi (1846–1927)
  14. تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گاآنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گاShad Azimabadi (1846–1927)
  15. جب کسی نے حال پوچھا رو دیاچشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیاShad Azimabadi (1846–1927)
  16. کس بری ساعت سے خط لے کر گیانامہ بر اب تک نہ آیا مر گیاShad Azimabadi (1846–1927)
  17. آپ کے پہلو میں دشمن سو چکاجائیے ہونا تھا جو کچھ ہو چکاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  18. عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گیسامنے کی چوٹ خالی جائے گیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  19. لے اڑے گیسو پریشانی مریآئنے لے بھاگے حیرانی مریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  20. مشکل اس کوچے سے اٹھنا ہو گیاحشر بھی نقش کف پا ہو گیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  21. منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیںکچھ نہیں یہ منہ دکھانا کچھ نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  22. میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیےیہ حسیں مل جائیں دو دن کے لئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  23. ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیںبیکسوں کی بد دعا اچھی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  24. ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گیکیا ہماری بات مانی جائے گیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  25. سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہیزاہد عیار کیوں کیسی کہیNazm Tabatabai (1854–1933)
  26. حسرت و امید کا ماتم رہایہ وہ دل ہے جو سدا پر غم رہاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  27. دل بھی اب پہلو تہی کرنے لگاہو گیا تم سا تمہاری یاد میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  28. اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلیتم تو ایسے ہو کہ بس توبہ بھلیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  29. اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہےیہ قفس یہ آشیانا اور ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  30. بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گیکر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  31. راز عشق اظہار کے قابل نہیںجرم یہ اقرار کے قابل نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  32. عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہےمیرے دل میرے جگر کا کام ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  33. مار ڈالا مسکرا کر ناز سےہاں مری جاں پھر اسی انداز سےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  34. چاہیئے دنیا نہ عقبیٰ چاہیئےجو تجھے چاہے اسے کیا چاہیئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  35. دل کو جب حاصل صفائی ہو گئیجلوہ گر بت میں خدائی ہو گئیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  36. زندگی کا کس لیے ماتم رہےملک بستا ہے مٹے یا ہم رہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  37. میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیںبس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  38. یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیادوستی کا تیری سودا ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  39. میری عزت بڑھ گئی اک پان میںفرق کیا آیا تمہاری شان میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  40. بت کدہ نزدیک کعبہ دور تھامیں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  41. جان ہی جائے تو جائے درد دلاک یہی ہے اب دوائے درد دلHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  42. ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئیدرد کو دل سے محبت ہو گئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  43. صبح کو آئے ہو نکلے شام کےجاؤ بھی اب تم مرے کس کام کےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  44. وصل میں آپس کی حجت اور ہےاس شکر رنجی میں لذت اور ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  45. ان کی یکتائی کا دعویٰ مٹ گیاآئنے نے دوسرا پیدا کیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  46. قید میں اتنا زمانہ ہو گیااب قفس بھی آشیانہ ہو گیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  47. ہائے کیسا جان سے بیزار ہےجو تمہارے ہجر کا بیمار ہےYas Tonki (b. 1870)
  48. جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیاان کو جب پایا تو خود گم ہو گیاBedam Warsi (1876–1936)
  49. کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیامل گئے تم مجھ کو سب کچھ مل گیاBedam Warsi (1876–1936)
  50. اس کو دنیا اور نہ عقبیٰ چاہئےقیس لیلیٰ کا ہے لیلیٰ چاہئےBedam Warsi (1876–1936)