ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیں
Riyaz Khairabadi (1853–1934)ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیں
بیکسوں کی بد دعا اچھی نہیں
موت آئے یہ دعا اچھی نہیں
ہجر میں بھی موت کیا اچھی نہیں
دل لگی میں بھی تو بگڑی ہے بہت
بات یہ زلف رسا اچھی نہیں
ہاتھ رنگنے کا لہو سے ہو گماں
شوخ اتنی بھی حنا اچھی نہیں
کیوں اڑاتی خاک آتی ہے بہار
چھیڑ اسیروں سے صبا اچھی نہیں
کام میخانے کا ہو جائے گا بند
چشم ساقی کی حیا اچھی نہیں
بوسۂ لب سے نہیں چلتا ہے کام
گالیوں کی یہ سزا اچھی نہیں
شیخ یہ کہتا گیا پیتا گیا
ہے بہت ہی بد مزا اچھی نہیں
دل وہ سب کے لیں یہ ہے اچھی ادا
جان لینے کی ادا اچھی نہیں
غم غلط کرنے کو میں کتنی پیوں
رات دن غم کی گھٹا اچھی نہیں
ایک کافر مجھ سے یہ کہتا گیا
رات دن یاد خدا اچھی نہیں
میکدے کو چھوڑ کعبے جا ریاضؔ
غفلت اے مرد خدا اچھی نہیں