Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- مدرسہAllama Iqbal (1877–1938)
- دین و تعلیمAllama Iqbal (1877–1938)
- ہنروران ہندAllama Iqbal (1877–1938)
- مرد بزرگAllama Iqbal (1877–1938)
- عالم نوAllama Iqbal (1877–1938)
- غلاموں کے لیےAllama Iqbal (1877–1938)
- نفسیات غلامیAllama Iqbal (1877–1938)
- دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تکشیشۂ دِیں کے عَوض جام و سبُو لیتا ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- گائے اک روز ہوئی اُونٹ سے یوں گرمِ سخننہیں اک حال پہ دنیا میں کسی شے کو قرارAllama Iqbal (1877–1938)
- تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والےآ ادھر بھی کبھی او ناز و نزاکت والےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سےفائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- جذبۂ شوق بڑھاتا ہے جدا ہو جانااوپری دل سے ذرا مجھ سے خفا ہو جاناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کاعکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- مجھ کو خاک در مے خانہ بنایا ہوتاپھر اسی خاک سے پیمانہ بنایا ہوتاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہےچشم بد دور دلہن بن کے شباب آتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
- بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلادم تو نکلا مگر آزردۂ احساں نکلاFani Badayuni (1879–1941)
- خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کاایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کاFani Badayuni (1879–1941)
- دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیںوہ میری بے خبری کی بھی خبر رکھتے ہیںFani Badayuni (1879–1941)
- کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلےہم نے گن گن کے لیے خون وفا کے بدلےFani Badayuni (1879–1941)
- کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائےگھر وہ صحرا کہ بہار آئے تو زنداں ہو جائےFani Badayuni (1879–1941)
- نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کاوہ بھی اک رخ ہے تری انجمن آرائی کاFani Badayuni (1879–1941)
- اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظکوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میریFani Badayuni (1879–1941)
- مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیاتمگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہےFani Badayuni (1879–1941)
- پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگاہاتھ پھر ہوویں گے اور اپنا گریباں ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسازخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیساAagha Akbarabadi (b. 1879)
- سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیاپھر بہار آئی مجھے لطف چمن یاد آیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوںاے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- شدت ذات نے یہ حال بنایا اپناجسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
- او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائےاپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگیآج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگیAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنامجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہےکہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہےمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائےاک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیںپہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہوناآدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہوناChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- آصف الدولہ کا امام باڑہ لکھنؤChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مرثیہ بال گنگا دھر تلکChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سےصبح ہونے کی نہیں یاس اس افسانے سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کاشمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سےمست ہیں عالم ایجاد کے نظاروں سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سےکل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھیلے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہوناکبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہوناAsghar Gondvi (1884–1936)
- تم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تکشہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تکQamar Jalalvi (1887–1968)
- حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہےلاکھ پروانہ مرے شمع پہ کیا ہوتا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- دیکھیے ہو گئی بد نام مسیحائی بھیہم نہ کہتے تھے کہ ٹلتی ہے کہیں آئی بھیQamar Jalalvi (1887–1968)
- راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کےیہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کےQamar Jalalvi (1887–1968)
- خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیLal Chand Falak (1887–1967)