دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک

Allama Iqbal (1877–1938)

دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک

شیشۂ دِیں کے عَوض جام و سبُو لیتا ہے

ہے مداوائے جنُون نشترِ تعلیمِ جدید

میرا سرجن رگِ ملّت سے لہُو لیتا ہے