Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنےجب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گایہ مسافر آج منزل پر سر شام آئے گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کیموت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہیہیں جہاں سو آبلے کچھ خار صحرا بھی سہیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئےباوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- دعوۂ انسانیت مائلؔ ابھی زیبا نہیںپہلے یہ سوچو کسی کے کام آ سکتا ہوں میںMael Lakhnavi (1905–1968)
- ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میںاے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہےبات کیسی سانس لیتا ہوں تو جی گھبرائے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- بال و پر کی جنبشوں کو کام میں لاتے رہواے قفس والو قفس سے چھوٹنا مشکل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
- چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرووصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیاتو بہر صورت کسی زنجیر میں جکڑا ہواMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئیزندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نذر دلMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خواب سحرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ایک دوست کی خوش مذاقی پرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھیمے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- داستان شوق کتنی بار دہرائی گئیسننے والوں میں توجہ کی کمی پائی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھےنے کسی کی جیب میں تھے نہ کسی جھولی میں تھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئیہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیںاس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنےیہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہےاپنا پرچم ہم بھی طوفانوں میں لہراتے رہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- آ رہا ہے اک ستارہ آسماں سے ٹوٹ کردوڑتا اپنے جنوں کی راہ پر دیوانہ وارAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پوچھتا ہے تو کہ کب اور کس طرح آتی ہوں میںگود میں ناکامیوں کے پرورش پاتی ہوں میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اول اول جب مجھے جور آشنا سمجھا تھا میںآج سمجھا ہوں جو سمجھا تھا بجا سمجھا تھا میںEhsan Danish (1914–1982)
- جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہوہم بھی کر سکتے ہیں ایسی شاعری یہ مت کہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہملاش یہ کس کی لیے پھرتے ہیں ان ہاتھوں پہ ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- سہل تھا جان آفریں تنہا تمہارے تیر کاکام لیتا ہوں دل ناچیز سے اکسیر کاQadeer Piyarepuri (1914–1968)
- جھلملا کر بجھ گئے پاگل امیدوں کے دیےتو سمجھتی ہے کہ میں ہوں آج تک اندوہگیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیاآفتاب وقت نیزے کے برابر آ گیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگےمیرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
- بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔآپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیےShakeel Badayuni (1916–1970)
- مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھواپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لئےزیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیےVafa Barahi (1917–1993)
- کچھ خبر اے ہند والو ہے کہ تم ہو بے خبرکر رہا ہے ظلم ظالم قوم کے ہر فرد پرVafa Barahi (1917–1993)
- با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گامیری جاں بن کر وہ اک دن میری جاں لے جائے گاQamar Jalalabadi (1917–2003)
- اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جااور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جاJagan Nath Azad (1918–2004)
- ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہتJagan Nath Azad (1918–2004)
- جانے والے پھر نہ لوٹے کچھ تو اس میں راز ہےکیا طلسم خاک میں بھی جاں فزا انداز ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
- اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کونمیں ہوا منکر تو پھر تیری قسم کھائے گا کونQateel Shifai (1919–2001)
- تتلیوں کا رنگ ہو یا جھومتے بادل کا رنگہم نے ہر اک رنگ کو جانا ترے آنچل کا رنگQateel Shifai (1919–2001)
- تھی ہم آغوشی مگر کچھ بھی مجھے حاصل نہ تھاوہ اک ایسا لمس تھا جس میں بدن شامل نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
- دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
- کیا خبر کب نیند آئے دیدۂ بے خواب میںشام سے ہم جل رہے ہیں سایۂ مہتاب میںQateel Shifai (1919–2001)
- یہ مرا بجھتا سلگتا سن یہ میرے رات دنکس طرح کٹتے بھلا تجھ بن یہ میرے رات دنQateel Shifai (1919–2001)
- پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپپھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاںQateel Shifai (1919–2001)
- یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئیپتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئیKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ بجھی سی شام یہ سہمی ہوئی پرچھائیاںخون دل بھی اس فضا میں رنگ بھر سکتا نہیںKaifi Azmi (1919–2002)