Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنےجب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  2. دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گایہ مسافر آج منزل پر سر شام آئے گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  3. مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کیموت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  4. جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہیہیں جہاں سو آبلے کچھ خار صحرا بھی سہیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  5. آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئےباوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  6. دعوۂ انسانیت مائلؔ ابھی زیبا نہیںپہلے یہ سوچو کسی کے کام آ سکتا ہوں میںMael Lakhnavi (1905–1968)
  7. ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میںاے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  8. کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہےبات کیسی سانس لیتا ہوں تو جی گھبرائے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  9. بال و پر کی جنبشوں کو کام میں لاتے رہواے قفس والو قفس سے چھوٹنا مشکل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  10. چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرووصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  11. ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  12. کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیاتو بہر صورت کسی زنجیر میں جکڑا ہواMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  13. وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئیزندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  14. نذر دلMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  15. خواب سحرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  16. ایک دوست کی خوش مذاقی پرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  17. آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھیمے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  18. داستان شوق کتنی بار دہرائی گئیسننے والوں میں توجہ کی کمی پائی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  19. ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھےنے کسی کی جیب میں تھے نہ کسی جھولی میں تھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  20. نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  21. ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئیہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  22. عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیںاس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  23. فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنےیہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  24. آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہےاپنا پرچم ہم بھی طوفانوں میں لہراتے رہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  25. آ رہا ہے اک ستارہ آسماں سے ٹوٹ کردوڑتا اپنے جنوں کی راہ پر دیوانہ وارAli Sardar Jafri (1913–2000)
  26. پوچھتا ہے تو کہ کب اور کس طرح آتی ہوں میںگود میں ناکامیوں کے پرورش پاتی ہوں میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  27. اول اول جب مجھے جور آشنا سمجھا تھا میںآج سمجھا ہوں جو سمجھا تھا بجا سمجھا تھا میںEhsan Danish (1914–1982)
  28. جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہوہم بھی کر سکتے ہیں ایسی شاعری یہ مت کہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  29. لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہملاش یہ کس کی لیے پھرتے ہیں ان ہاتھوں پہ ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  30. سہل تھا جان آفریں تنہا تمہارے تیر کاکام لیتا ہوں دل ناچیز سے اکسیر کاQadeer Piyarepuri (1914–1968)
  31. جھلملا کر بجھ گئے پاگل امیدوں کے دیےتو سمجھتی ہے کہ میں ہوں آج تک اندوہگیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  32. جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیاآفتاب وقت نیزے کے برابر آ گیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  33. عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگےمیرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
  34. بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔآپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیےShakeel Badayuni (1916–1970)
  35. مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھواپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  36. اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لئےزیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیےVafa Barahi (1917–1993)
  37. کچھ خبر اے ہند والو ہے کہ تم ہو بے خبرکر رہا ہے ظلم ظالم قوم کے ہر فرد پرVafa Barahi (1917–1993)
  38. با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گامیری جاں بن کر وہ اک دن میری جاں لے جائے گاQamar Jalalabadi (1917–2003)
  39. اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جااور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جاJagan Nath Azad (1918–2004)
  40. ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہتJagan Nath Azad (1918–2004)
  41. جانے والے پھر نہ لوٹے کچھ تو اس میں راز ہےکیا طلسم خاک میں بھی جاں فزا انداز ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
  42. اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کونمیں ہوا منکر تو پھر تیری قسم کھائے گا کونQateel Shifai (1919–2001)
  43. تتلیوں کا رنگ ہو یا جھومتے بادل کا رنگہم نے ہر اک رنگ کو جانا ترے آنچل کا رنگQateel Shifai (1919–2001)
  44. تھی ہم آغوشی مگر کچھ بھی مجھے حاصل نہ تھاوہ اک ایسا لمس تھا جس میں بدن شامل نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
  45. دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
  46. کیا خبر کب نیند آئے دیدۂ بے خواب میںشام سے ہم جل رہے ہیں سایۂ مہتاب میںQateel Shifai (1919–2001)
  47. یہ مرا بجھتا سلگتا سن یہ میرے رات دنکس طرح کٹتے بھلا تجھ بن یہ میرے رات دنQateel Shifai (1919–2001)
  48. پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپپھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاںQateel Shifai (1919–2001)
  49. یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئیپتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئیKaifi Azmi (1919–2002)
  50. یہ بجھی سی شام یہ سہمی ہوئی پرچھائیاںخون دل بھی اس فضا میں رنگ بھر سکتا نہیںKaifi Azmi (1919–2002)