جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیا

Ahmad Nadeem Qasmi (1916–2006)

جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیا

آفتاب وقت نیزے کے برابر آ گیا

دوستی کی جب دہائی دی تو شرق و غرب سے

ہاتھ میں پتھر لیے یاروں کا لشکر آ گیا

اس سفر میں گو تمازت تو بہت تھی ہجر کی

میں تری یادوں کی چھاؤں سر پہ لے کر آ گیا

گو زمین و آسماں مصروف گردش ہیں مگر

جب بھی گردش کا سبب سوچا تو چکر آ گیا

آدمی کو حشر کے منظر نظر آنے لگے

اس کے قبضے میں جب اک ذرے کا جوہر آ گیا

حسن انساں دفن ہو جانے سے مٹتا ہے کہاں

پھول بن کر خاک کے پردے سے باہر آ گیا

اشک جب ٹپکے کسی بیکس کی آنکھوں سے ندیمؔ

یوں لگا طوفان کی زد میں سمندر آ گیا