Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھےپھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھےShahryar (1936–2012)
- زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیںیہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
- خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھامیں نے وہ چاہا جو تقدیر میں لکھا بھی نہ تھاTahir Tilhari (b. 1936)
- ساز سے میرے غلط نغموں کی امید نہ کرآگ کی آگ ہے دل میں تو دھواں کیوں کر ہوQaisar Shameem (1936–2021)
- ہے بھی کچھ یا کہ سمک تا بہ سما کچھ بھی نہیںپوچھا جب جب تو یہی آئی صدا کچھ بھی نہیںUrfi Aafaqi (b. 1936)
- آج پھر رنگ پہ ہے شام خدا خیر کرےپھر مرے ہاتھ میں ہے جام خدا خیر کرےBal Swaroop Rahi (b. 1936)
- تو قریب آئے تو قربت کا یوں اظہار کروںآئنہ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروںNida Fazli (1938–2016)
- دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہیدوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہیNida Fazli (1938–2016)
- تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھاتم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئےNida Fazli (1938–2016)
- پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگےروبرو کون تھا جو آئنہ حیراں سے لگےEhsan Akbar (b. 1938)
- وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئےآسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئےZafar Kaleem (b. 1938)
- بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹےاور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- دل جو مردہ ہو تو یہ رشک جناں کچھ بھی نہیںلالہ ہو سبزہ ہو یا آب رواں کچھ بھی نہیںJafar Raza (1939–2022)
- میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہواپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئیWaseem Barelvi (b. 1940)
- اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہےشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھےزندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہوآگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہوJafar Sahni (1941–2018)
- خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیںچلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرفایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دیIftikhar Arif (b. 1943)
- راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جااب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
- ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میںایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دیIftikhar Arif (b. 1943)
- قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنےبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- پہلے ڈالی ترے چہرے پہ بہت دیر نظرعید کا چاند تو پھر بعد میں دیکھا میں نےVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہےآس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دھول اڑاتی ہے خیالوں کی گزر گاہوں میںریل کی پٹریاں پھیلی ہیں جہاں تک بھی نظر جاتی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- بھول جاؤں تجھے ایسی کوئی تدبیر نہیںاور پا لوں تجھے ایسی مری تقدیر نہیںZafar Sambhali (b. 1944)
- جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لولوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لوJaved Akhtar (b. 1945)
- اک ہمیں سلسلۂ شوق سنبھالے ہوئے ہیںوہ تو سب عہد وفا حشر پہ ٹالے ہوئے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- زندگی زندہ ہے لیکن کسی دم ساز کے ساتھورنہ یوں جیسے کبوتر کوئی شہباز کے ساتھJaleel 'Aali' (b. 1945)
- یہ جو الفاظ کو مہکار بنایا ہوا ہےایک گل کا یہ سب اسرار بنایا ہوا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخمآپ کیا سوچ سکیں گے مری تنہائی کوMohsin Naqvi (1947–1996)
- قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچاب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچMohsin Naqvi (1947–1996)
- اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوںایسے ضدی ہیں پرندے کہ اڑا بھی نہ سکوںRahat Indori (1950–2020)
- اک ملاقات کا جادو کہ اترتا ہی نہیںتری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی ہےRahat Indori (1950–2020)
- مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کیچاند چہروں پہ ردا کی تو تمہارے لیے کیTahseen Firaqi (b. 1950)
- لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئےان خرافات کو گھر گھر سے ہٹانے کے لئےLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
- آج کل میرے تصرف میں نہیں ہے لیکنزندگی شہر میں ہوگی کہیں دو چار کے پاسLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرومیری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کروYasmeen Hameed (b. 1951)
- پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگیہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگیYasmeen Hameed (b. 1951)
- تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوستکتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوستFaisal Ajmi (b. 1951)
- شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہےآج خیرات ہے دعوت تو نہیں کی گئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- کتنی سوئی ہوئی ٹیسوں کو جگاتی ہے ہواجب بھی پورب کی طرف سے کبھی آتی ہے ہواRaees Ansari (b. 1951)
- زندگی تو نے کبھی خود کو سنوارا بھی نہیںجھلملاتا ترے ماتھے پہ ستارا بھی نہیںNafees Bano (b. 1951)
- اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرےکون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرےParveen Shakir (1952–1994)
- ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھاآنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھاParveen Shakir (1952–1994)
- بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہےParveen Shakir (1952–1994)
- تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھیجی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھیParveen Shakir (1952–1994)
- حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہےباب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھیپر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھیParveen Shakir (1952–1994)