Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. بے خودی لے گئی کہاں ہم کودیر سے انتظار ہے اپناMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتااب تو چپ بھی رہا نہیں جاتاMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. وصل میں رنگ اڑ گیا میراکیا جدائی کو منہ دکھاؤں گاMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائےسو بھی اک عمر میں ہوا معلومMir Taqi Mir (1723–1810)
  5. آج دل بیقرار ہے کیا ہےدرد ہے انتظار ہے کیا ہےMir Hasan (1727–1786)
  6. آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کےنظروں سے گر گئے ہیں ہم کس کےMir Hasan (1727–1786)
  7. بس گیا جب سے یار آنکھوں میںتب سے پھولی بہار آنکھوں میںMir Hasan (1727–1786)
  8. جان و دل ہیں اداس سے میرےاٹھ گیا کون پاس سے میرےMir Hasan (1727–1786)
  9. جلد حسن و جمال جاتا ہےنہیں رہتا یہ حال جاتا ہےMir Hasan (1727–1786)
  10. چشم تر رات مجھ کو یاد آئیاپنی اوقات مجھ کو یاد آئیMir Hasan (1727–1786)
  11. چل دل اس کی گلی میں رو آویںکچھ تو دل کا غبار دھو آویںMir Hasan (1727–1786)
  12. سو کی اک بات میں کہی تو ہےیعنی جو کچھ کہ ہے وہی تو ہےMir Hasan (1727–1786)
  13. شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہمصبح ہوتے تو پھر کہاں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  14. غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھوکیا غضب کرتے ہو ادھر دیکھوMir Hasan (1727–1786)
  15. کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہمتو جہاں ہے غرض وہیں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  16. مل گئے اپنے یار سے اب کیحظ اٹھایا بہار سے اب کیMir Hasan (1727–1786)
  17. میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہےجس کا عالم ابھی سے یہ کچھ ہےMir Hasan (1727–1786)
  18. نوجوانی کی دید کر لیجےاپنے موسم کی عید کر لیجےMir Hasan (1727–1786)
  19. نہ رہا گل نہ خار ہی آخراک رہا حسن یار ہی آخرMir Hasan (1727–1786)
  20. نہ ملا وہ نفاق کے مارےکیا کریں ہم وفاق کے مارےMir Hasan (1727–1786)
  21. وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گےدل میں جو ہے سو کر ہی جاویں گےMir Hasan (1727–1786)
  22. ہم سے کر تو کہ یا نہ کر اخلاصہم کو ہے تجھ سے یار پر اخلاصMir Hasan (1727–1786)
  23. یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گےاپنی یہ آن ہم نہ چھوڑیں گےMir Hasan (1727–1786)
  24. آپ کو اس نے اب تراشا ہےقہر ہے ظلم ہے تماشا ہےMir Hasan (1727–1786)
  25. اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھولدلبروں کی نگاہ پر مت پھولNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  26. جن دنوں ہم کو اس سے تھا اخلاصکھل رہا تھا وہ جا بجا اخلاصNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  27. حسن اس شوخ کا اہا ہاہاجن نے دیکھا کہا اہا ہاہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  28. شیوۂ ناز ہوش چھل جاناطرز رفتار دل کچل جاناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  29. یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیںفتنہ گر ہیں ہزار ہنستے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  30. درپئے عمر رفتہ ہوں یا ربہر دم از خود گزشتہ ہوں یا ربQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  31. سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑبد زباں اب تو اس زباں کو چھوڑQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  32. مثل آئینہ با صفا ہیں ہمدیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  33. آتش غم میں بس کہ جلتے ہیںشمع ساں استخواں پگھلتے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  34. آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسوالٹی گنگا بہاتے ہیں آنسوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  35. آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹاشک پھرتے ہیں ان میں جیسے رہٹMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  36. آہ ہم راز کون ہے اپنابخت ناساز کون ہے اپناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  37. او میاں بانکے ہے کہاں کی چالتم جو چلتے ہو نت یہ بانکی چالMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  38. اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہےاک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  39. باغ تھا اس میں آشیاں بھی تھاچند روز آب و دانہ یاں بھی تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  40. برق رخسار یار پھر چمکیاس چمن کی بہار پھر چمکیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  41. بلبلو باغباں کو کیوں چھیڑاتم نے ساز فغاں کو کیوں چھیڑاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  42. بھری آتی ہیں ہر گھڑی آنکھیںگویا ساون کی ہیں جھڑی آنکھیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  43. تجھ سے گر وہ دلا نہیں ملتازہر بھی تجھ کو کیا نہیں ملتاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  44. جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگاماہ پردے سے تک رہا ہوگاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  45. خواب تھا یا خیال تھا کیا تھاہجر تھا یا وصال تھا کیا تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  46. دل چرانا یہ کام ہے تیرالے گیا ہے تو نام ہے تیراMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  47. دل کو یہ اضطرار کیسا ہےدیکھیو بے قرار کیسا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  48. دل میں ہے اس کے مدعی کا عشقخاک سمجھے ہے وہ کسی کا عشقMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  49. زخم ہے اور نمک فشانی ہےدوستی دشمنیٔ جانی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  50. کل تو کھیلے تھا وہ گلی ڈنڈاڈنڈ پیل آج ہو گیا سنڈاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)