Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- بے خودی لے گئی کہاں ہم کودیر سے انتظار ہے اپناMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتااب تو چپ بھی رہا نہیں جاتاMir Taqi Mir (1723–1810)
- وصل میں رنگ اڑ گیا میراکیا جدائی کو منہ دکھاؤں گاMir Taqi Mir (1723–1810)
- یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائےسو بھی اک عمر میں ہوا معلومMir Taqi Mir (1723–1810)
- آج دل بیقرار ہے کیا ہےدرد ہے انتظار ہے کیا ہےMir Hasan (1727–1786)
- آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کےنظروں سے گر گئے ہیں ہم کس کےMir Hasan (1727–1786)
- بس گیا جب سے یار آنکھوں میںتب سے پھولی بہار آنکھوں میںMir Hasan (1727–1786)
- جان و دل ہیں اداس سے میرےاٹھ گیا کون پاس سے میرےMir Hasan (1727–1786)
- جلد حسن و جمال جاتا ہےنہیں رہتا یہ حال جاتا ہےMir Hasan (1727–1786)
- چشم تر رات مجھ کو یاد آئیاپنی اوقات مجھ کو یاد آئیMir Hasan (1727–1786)
- چل دل اس کی گلی میں رو آویںکچھ تو دل کا غبار دھو آویںMir Hasan (1727–1786)
- سو کی اک بات میں کہی تو ہےیعنی جو کچھ کہ ہے وہی تو ہےMir Hasan (1727–1786)
- شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہمصبح ہوتے تو پھر کہاں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
- غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھوکیا غضب کرتے ہو ادھر دیکھوMir Hasan (1727–1786)
- کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہمتو جہاں ہے غرض وہیں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
- مل گئے اپنے یار سے اب کیحظ اٹھایا بہار سے اب کیMir Hasan (1727–1786)
- میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہےجس کا عالم ابھی سے یہ کچھ ہےMir Hasan (1727–1786)
- نوجوانی کی دید کر لیجےاپنے موسم کی عید کر لیجےMir Hasan (1727–1786)
- نہ رہا گل نہ خار ہی آخراک رہا حسن یار ہی آخرMir Hasan (1727–1786)
- نہ ملا وہ نفاق کے مارےکیا کریں ہم وفاق کے مارےMir Hasan (1727–1786)
- وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گےدل میں جو ہے سو کر ہی جاویں گےMir Hasan (1727–1786)
- ہم سے کر تو کہ یا نہ کر اخلاصہم کو ہے تجھ سے یار پر اخلاصMir Hasan (1727–1786)
- یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گےاپنی یہ آن ہم نہ چھوڑیں گےMir Hasan (1727–1786)
- آپ کو اس نے اب تراشا ہےقہر ہے ظلم ہے تماشا ہےMir Hasan (1727–1786)
- اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھولدلبروں کی نگاہ پر مت پھولNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جن دنوں ہم کو اس سے تھا اخلاصکھل رہا تھا وہ جا بجا اخلاصNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- حسن اس شوخ کا اہا ہاہاجن نے دیکھا کہا اہا ہاہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- شیوۂ ناز ہوش چھل جاناطرز رفتار دل کچل جاناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیںفتنہ گر ہیں ہزار ہنستے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- درپئے عمر رفتہ ہوں یا ربہر دم از خود گزشتہ ہوں یا ربQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑبد زباں اب تو اس زباں کو چھوڑQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- مثل آئینہ با صفا ہیں ہمدیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- آتش غم میں بس کہ جلتے ہیںشمع ساں استخواں پگھلتے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسوالٹی گنگا بہاتے ہیں آنسوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹاشک پھرتے ہیں ان میں جیسے رہٹMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آہ ہم راز کون ہے اپنابخت ناساز کون ہے اپناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- او میاں بانکے ہے کہاں کی چالتم جو چلتے ہو نت یہ بانکی چالMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہےاک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- باغ تھا اس میں آشیاں بھی تھاچند روز آب و دانہ یاں بھی تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- برق رخسار یار پھر چمکیاس چمن کی بہار پھر چمکیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بلبلو باغباں کو کیوں چھیڑاتم نے ساز فغاں کو کیوں چھیڑاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بھری آتی ہیں ہر گھڑی آنکھیںگویا ساون کی ہیں جھڑی آنکھیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- تجھ سے گر وہ دلا نہیں ملتازہر بھی تجھ کو کیا نہیں ملتاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگاماہ پردے سے تک رہا ہوگاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- خواب تھا یا خیال تھا کیا تھاہجر تھا یا وصال تھا کیا تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- دل چرانا یہ کام ہے تیرالے گیا ہے تو نام ہے تیراMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- دل کو یہ اضطرار کیسا ہےدیکھیو بے قرار کیسا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- دل میں ہے اس کے مدعی کا عشقخاک سمجھے ہے وہ کسی کا عشقMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- زخم ہے اور نمک فشانی ہےدوستی دشمنیٔ جانی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کل تو کھیلے تھا وہ گلی ڈنڈاڈنڈ پیل آج ہو گیا سنڈاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)