Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- جام خالی جہاں نظر آیامیری آنکھوں میں خوں اتر آیاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- سامنے آئنہ تھا مستی تھیان پر اک شان خود پرستی تھیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کاش سنتے وہ پر اثر باتیںدل سے جو کی تھیں عمر بھر باتیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسیاے ستم گر یہ دل لگی کیسیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- ہجر کی رات یاد آتی ہےپھر وہی بات یاد آتی ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کس کی آواز کان میں آئیدور کی بات دھیان میں آئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کیوں کسی سے وفا کرے کوئیدل نہ مانے تو کیا کرے کوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- یار ہے آئنہ ہے شانہ ہےچشم بد دور کیا زمانہ ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیازحسن بھی راز اور عشق بھی رازAsghar Gondvi (1884–1936)
- کسی صورت سحر نہیں ہوتیرات ادھر سے ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
- اس لئے آرزو چھپائی ہےمنہ سے نکلی ہوئی پرائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- اب تو یہ بھی نہیں رہا احساسدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتاJigar Moradabadi (1890–1960)
- حسن کافر شباب کا عالمسر سے پا تک شراب کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
- سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
- سبھی انداز حسن پیارے ہیںہم مگر سادگی کے مارے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- ستم کامیاب نے ماراکرم لا جواب نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق کو بے نقاب ہونا تھاآپ اپنا جواب ہونا تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق کی داستان ہے پیارےاپنی اپنی زبان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
- عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگJigar Moradabadi (1890–1960)
- موت کیا ایک لفظ بے معنیجس کو مارا حیات نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
- کون کہتا ہے غم مصیبت ہےیہ بھی مولا کی خاص رحمت ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلومکیا مرا مدعا نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- لٹ گیا دل کہاں نہیں معلومکیا ہوا ہے زیاں نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- مانگنا کام مجھ سوالی کابخشنا تیری ذات عالی کاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- پھول کھلتے ہی تتلی بھی آئیکیا کوئی دوستی پرانی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیزکس سے کس کا گلا کرے کوئیHadi Machlishahri (1890–1961)
- شکل مژگاں نہ خار کی سی ہےہم نے تاڑی کٹار کی سی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کےسو دل گداز ہیں دھن کےShad Lakhnavi (d. 1892)
- کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کراللہ اللہ اے برہمن کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میںبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میںShad Lakhnavi (d. 1892)
- یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیںبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- یوں تو سب کچھ کہا کرے کوئیوہ نہ مانیں تو کیا کرے کوئیBabu Ladli Lal Laeq (b. 1894)
- اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہےاے کہ تیری خوشی مقدم ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- رات بھی نیند بھی کہانی بھیہائے کیا چیز ہے جوانی بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- زندگی درد کی کہانی ہےچشم انجم میں بھی تو پانی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- موت اک گیت رات گاتی تھیزندگی جھوم جھوم جاتی تھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہم سے کیا ہو سکا محبت میںخیر تم نے تو بے وفائی کیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہےیہ مری رات کا سویرا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل ابھی تک جوان ہے پیارےکس مصیبت میں جان ہے پیارےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- چاند جب عید کا نظر آیاحال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- تھی محبت کبھی فقط تم سےآج ہر چیز بن گئی محبوبZaheen Shah Taji (1902–1978)
- داغ سینے پہ جو ہمارے ہیںگل کھلائے ہوئے تمہارے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- آج ان کا مزاج برہم ہےیا مقدر میں ایک نیا خم ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- آ گئے وہ مرے خیالوں میںگھنٹیاں بج اٹھیں شوالوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- خامشی اجتناب سے پہلےاک ستم آفتاب سے پہلےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل میں غم کی کنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کہہ چکے حال راز باقی ہےناز اٹھائے نیاز باقی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- یاد ایام رفتہ یوں آئےدھندلے دھندلے سے جیسے کچھ سائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ابر یوں چھا رہا ہے آبو پرجیسے پہرا ہو دھندلی شاموں پرJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)