Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. جام خالی جہاں نظر آیامیری آنکھوں میں خوں اتر آیاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  2. سامنے آئنہ تھا مستی تھیان پر اک شان خود پرستی تھیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  3. کاش سنتے وہ پر اثر باتیںدل سے جو کی تھیں عمر بھر باتیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  4. میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسیاے ستم گر یہ دل لگی کیسیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  5. ہجر کی رات یاد آتی ہےپھر وہی بات یاد آتی ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  6. کس کی آواز کان میں آئیدور کی بات دھیان میں آئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  7. کیوں کسی سے وفا کرے کوئیدل نہ مانے تو کیا کرے کوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  8. یار ہے آئنہ ہے شانہ ہےچشم بد دور کیا زمانہ ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  9. نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیازحسن بھی راز اور عشق بھی رازAsghar Gondvi (1884–1936)
  10. کسی صورت سحر نہیں ہوتیرات ادھر سے ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  11. اس لئے آرزو چھپائی ہےمنہ سے نکلی ہوئی پرائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  12. آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  13. اب تو یہ بھی نہیں رہا احساسدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتاJigar Moradabadi (1890–1960)
  14. حسن کافر شباب کا عالمسر سے پا تک شراب کا عالمJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. سبھی انداز حسن پیارے ہیںہم مگر سادگی کے مارے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. ستم کامیاب نے ماراکرم لا جواب نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. عشق کو بے نقاب ہونا تھاآپ اپنا جواب ہونا تھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. عشق کی داستان ہے پیارےاپنی اپنی زبان ہے پیارےJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. موت کیا ایک لفظ بے معنیجس کو مارا حیات نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. کون کہتا ہے غم مصیبت ہےیہ بھی مولا کی خاص رحمت ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  23. کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلومکیا مرا مدعا نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  24. لٹ گیا دل کہاں نہیں معلومکیا ہوا ہے زیاں نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  25. مانگنا کام مجھ سوالی کابخشنا تیری ذات عالی کاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  26. پھول کھلتے ہی تتلی بھی آئیکیا کوئی دوستی پرانی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  27. تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیزکس سے کس کا گلا کرے کوئیHadi Machlishahri (1890–1961)
  28. شکل مژگاں نہ خار کی سی ہےہم نے تاڑی کٹار کی سی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  29. کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کےسو دل گداز ہیں دھن کےShad Lakhnavi (d. 1892)
  30. کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کراللہ اللہ اے برہمن کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  31. ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میںبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میںShad Lakhnavi (d. 1892)
  32. یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیںبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  33. یوں تو سب کچھ کہا کرے کوئیوہ نہ مانیں تو کیا کرے کوئیBabu Ladli Lal Laeq (b. 1894)
  34. اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہےاے کہ تیری خوشی مقدم ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  35. رات بھی نیند بھی کہانی بھیہائے کیا چیز ہے جوانی بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  36. زندگی درد کی کہانی ہےچشم انجم میں بھی تو پانی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  37. موت اک گیت رات گاتی تھیزندگی جھوم جھوم جاتی تھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  38. ہم سے کیا ہو سکا محبت میںخیر تم نے تو بے وفائی کیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  39. اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہےیہ مری رات کا سویرا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  40. دل ابھی تک جوان ہے پیارےکس مصیبت میں جان ہے پیارےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  41. چاند جب عید کا نظر آیاحال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  42. تھی محبت کبھی فقط تم سےآج ہر چیز بن گئی محبوبZaheen Shah Taji (1902–1978)
  43. داغ سینے پہ جو ہمارے ہیںگل کھلائے ہوئے تمہارے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
  44. آج ان کا مزاج برہم ہےیا مقدر میں ایک نیا خم ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  45. آ گئے وہ مرے خیالوں میںگھنٹیاں بج اٹھیں شوالوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  46. خامشی اجتناب سے پہلےاک ستم آفتاب سے پہلےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  47. دل میں غم کی کنی نہیں ہوتیزندگی زندگی نہیں ہوتیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  48. کہہ چکے حال راز باقی ہےناز اٹھائے نیاز باقی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  49. یاد ایام رفتہ یوں آئےدھندلے دھندلے سے جیسے کچھ سائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  50. ابر یوں چھا رہا ہے آبو پرجیسے پہرا ہو دھندلی شاموں پرJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)