Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf

خفیف مسدس مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. حسن کس روز ہم سے صاف ہواگنہ عشق کب معاف ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  2. غیرت مہر رشک ماہ ہو تمخوب صورت ہو بادشاہ ہو تمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  3. انجمن ساز عیش تو ہے یہاںاور پھر کس کی آرزو ہے یہاںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  4. خوب روکا شکایتوں سے مجھےتو نے مارا عنایتوں سے مجھےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  5. مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکاوہ قسم ہوں جو یار کھا نہ سکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  6. اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکےدل کی بھڑکی ہوئی بجھا نہ سکےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  7. درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  8. وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاںMirza Ghalib (1797–1869)
  9. اے جہاں آفریں خداے کریمصانع ہفت چرخ و ہفت اقلیمMirza Ghalib (1797–1869)
  10. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  11. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  12. دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کیہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کیMomin Khan Momin (1800–1852)
  13. دیکھ لو شوق نا تمام مراغیر لے جائے ہے پیام مراMomin Khan Momin (1800–1852)
  14. آپ کی کون سی بڑھی عزتمیں اگر بزم میں ذلیل ہواMomin Khan Momin (1800–1852)
  15. نہ کرو اب نباہ کی باتیںتم کو اے مہربان دیکھ لیاMomin Khan Momin (1800–1852)
  16. دل مجھے کفر آشنا نہ کرےبندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  17. پھر نہ باقی رہے غبار کبھیہولی کھیلو جو خاکساروں میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  18. کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیںکب نگاہیں کرشمہ زار نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  19. مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہمسخت بے تاب ہیں مزار میں ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  20. آشنا کوئی باوفا نہ ملاکشتئ دل کا ناخدا نہ ملاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  21. چور صدموں سے ہو بعید نہیںآبگینہ ہے دل حدید نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  22. داغ بیعانہ حسن کا نہ ہواکھوٹے داموں معاملہ نہ ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
  23. کبھی دیکھیں جو روئے یار درختاپنے پھولوں کو سمجھیں خار درختImdad Ali Bahr (1810–1878)
  24. گردش چرخ سے قیام نہیںصبح گھر میں ہوں میں تو شام نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  25. وصل میں ذکر غیر کا نہ کروخوش کیا ہے تو پھر خفا نہ کروImdad Ali Bahr (1810–1878)
  26. اس طرح پی کے وہ شراب چلےجوش میں اپنے جیسے آب چلےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  27. خواب میں بھی نہ یہ خیال ہواکہ مرا یار سے وصال ہواBal Mukund Besabr (1812–1885)
  28. عشق جان جہاں نصیب ہوااک زمانہ مرا رقیب ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
  29. اپنے بھی عشق کو زوال نہ ہونہ تمہارے جمال کو ہے کمالMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  30. ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کیمر گئے مرتے مرتے آہ نہ کیAmeer Minai (1829–1900)
  31. تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیاہم نے کیا جبر اختیار کیاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  32. جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑےووہیں ہو گئے گلوں کے کان کھڑےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  33. آپ کا اعتبار کون کرےروز کا انتظار کون کرےDagh Dehlvi (1831–1905)
  34. اس نہیں کا کوئی علاج نہیںروز کہتے ہیں آپ آج نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  35. بات میری کبھی سنی ہی نہیںجانتے وہ بری بھلی ہی نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  36. دل ناکام کے ہیں کام خرابکر لیا عاشقی میں نام خرابDagh Dehlvi (1831–1905)
  37. غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریقکہ زمانے کے ہیں ہزار طریقDagh Dehlvi (1831–1905)
  38. غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیاجھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  39. کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیںجی بہل جائے گا کہیں نہ کہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  40. وصل کی آرزو کئے نہ بنینہ بنی جستجو کئے نہ بنیDagh Dehlvi (1831–1905)
  41. ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہےاس ادا کا کہیں جواب بھی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  42. پی بھی اے مایۂ شباب شرابگرم جوشی سے ہے کباب شرابQalaq Meerathi (1835–1880)
  43. تیرے وعدے کا اختتام نہیںکہ قیامت پہ بھی قیام نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  44. دوستی اس کی دشمنی ہی سہیدوست تو ہو وہ مدعی ہی سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
  45. دیدۂ صرف انتظار ہے شمعمیری حالت کی یادگار ہے شمعQalaq Meerathi (1835–1880)
  46. غیر شایان رسم و راہ نہیںکب وہ عاشق ہے جو تباہ نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  47. نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہاہو کے دشمن بھی آشنا نہ رہاQalaq Meerathi (1835–1880)
  48. ہے خموشیٔ انتظار بلااست ہے ایک چپ ہزار بلاQalaq Meerathi (1835–1880)
  49. بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیالے تجھے آزما کے دیکھ لیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  50. وہ جو کچھ کچھ نگہ ملانے لگےہم ہر اک سے نظر چرانے لگےZaheer Dehlvi (1835–1911)