Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- حسن کس روز ہم سے صاف ہواگنہ عشق کب معاف ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- غیرت مہر رشک ماہ ہو تمخوب صورت ہو بادشاہ ہو تمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- انجمن ساز عیش تو ہے یہاںاور پھر کس کی آرزو ہے یہاںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- خوب روکا شکایتوں سے مجھےتو نے مارا عنایتوں سے مجھےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکاوہ قسم ہوں جو یار کھا نہ سکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکےدل کی بھڑکی ہوئی بجھا نہ سکےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
- وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاںMirza Ghalib (1797–1869)
- اے جہاں آفریں خداے کریمصانع ہفت چرخ و ہفت اقلیمMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کیہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کیMomin Khan Momin (1800–1852)
- دیکھ لو شوق نا تمام مراغیر لے جائے ہے پیام مراMomin Khan Momin (1800–1852)
- آپ کی کون سی بڑھی عزتمیں اگر بزم میں ذلیل ہواMomin Khan Momin (1800–1852)
- نہ کرو اب نباہ کی باتیںتم کو اے مہربان دیکھ لیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- دل مجھے کفر آشنا نہ کرےبندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پھر نہ باقی رہے غبار کبھیہولی کھیلو جو خاکساروں میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیںکب نگاہیں کرشمہ زار نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہمسخت بے تاب ہیں مزار میں ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- آشنا کوئی باوفا نہ ملاکشتئ دل کا ناخدا نہ ملاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- چور صدموں سے ہو بعید نہیںآبگینہ ہے دل حدید نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- داغ بیعانہ حسن کا نہ ہواکھوٹے داموں معاملہ نہ ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کبھی دیکھیں جو روئے یار درختاپنے پھولوں کو سمجھیں خار درختImdad Ali Bahr (1810–1878)
- گردش چرخ سے قیام نہیںصبح گھر میں ہوں میں تو شام نہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- وصل میں ذکر غیر کا نہ کروخوش کیا ہے تو پھر خفا نہ کروImdad Ali Bahr (1810–1878)
- اس طرح پی کے وہ شراب چلےجوش میں اپنے جیسے آب چلےBal Mukund Besabr (1812–1885)
- خواب میں بھی نہ یہ خیال ہواکہ مرا یار سے وصال ہواBal Mukund Besabr (1812–1885)
- عشق جان جہاں نصیب ہوااک زمانہ مرا رقیب ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
- اپنے بھی عشق کو زوال نہ ہونہ تمہارے جمال کو ہے کمالMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کیمر گئے مرتے مرتے آہ نہ کیAmeer Minai (1829–1900)
- تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیاہم نے کیا جبر اختیار کیاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑےووہیں ہو گئے گلوں کے کان کھڑےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آپ کا اعتبار کون کرےروز کا انتظار کون کرےDagh Dehlvi (1831–1905)
- اس نہیں کا کوئی علاج نہیںروز کہتے ہیں آپ آج نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- بات میری کبھی سنی ہی نہیںجانتے وہ بری بھلی ہی نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- دل ناکام کے ہیں کام خرابکر لیا عاشقی میں نام خرابDagh Dehlvi (1831–1905)
- غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریقکہ زمانے کے ہیں ہزار طریقDagh Dehlvi (1831–1905)
- غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیاجھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیںجی بہل جائے گا کہیں نہ کہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- وصل کی آرزو کئے نہ بنینہ بنی جستجو کئے نہ بنیDagh Dehlvi (1831–1905)
- ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہےاس ادا کا کہیں جواب بھی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- پی بھی اے مایۂ شباب شرابگرم جوشی سے ہے کباب شرابQalaq Meerathi (1835–1880)
- تیرے وعدے کا اختتام نہیںکہ قیامت پہ بھی قیام نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- دوستی اس کی دشمنی ہی سہیدوست تو ہو وہ مدعی ہی سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
- دیدۂ صرف انتظار ہے شمعمیری حالت کی یادگار ہے شمعQalaq Meerathi (1835–1880)
- غیر شایان رسم و راہ نہیںکب وہ عاشق ہے جو تباہ نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ رہا شکوۂ جفا نہ رہاہو کے دشمن بھی آشنا نہ رہاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے خموشیٔ انتظار بلااست ہے ایک چپ ہزار بلاQalaq Meerathi (1835–1880)
- بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیالے تجھے آزما کے دیکھ لیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- وہ جو کچھ کچھ نگہ ملانے لگےہم ہر اک سے نظر چرانے لگےZaheer Dehlvi (1835–1911)