Poetry
- آتش و انجماد ہے مجھ میںکیسا کیسا تضاد ہے مجھ میںZafar Iqbal (b. 1932)
- آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھزندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھZafar Iqbal (b. 1932)
- ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کومجھے پاگل کیا اس نے تماشا دیکھنے کوZafar Iqbal (b. 1932)
- ابھی تو کرنا پڑے گا سفر دوبارہ مجھےابھی کریں نہیں آرام کا اشارہ مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
- ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گاوہ خود ہی ایک دن اس دائرے سے گزرے گاZafar Iqbal (b. 1932)
- اپنے انکار کے برعکس برابر کوئی تھادل میں اک خواب تھا اور خواب کے اندر کوئی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- اتنا ٹھہرا ہوا ماحول بدلنا پڑ جائےباہر اپنے ہی کناروں سے اچھلنا پڑ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
- اٹھ اور پھر سے روانہ ہو ڈر زیادہ نہیںبہت کٹھن سہی منزل سفر زیادہ نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والےجسے غبار سمجھتے تھے کارواں والےZafar Iqbal (b. 1932)
- اسے منظور نہیں چھوڑ جھگڑتا کیا ہےدل ہی کم مایہ ہے اپنا تو اکڑتا کیا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- اگر اس کھیل میں اب وہ بھی شامل ہونے والا ہےتو اپنا کام پہلے سے بھی مشکل ہونے والا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- الزام ایک یہ بھی اٹھا لینا چاہیئےاس شہر بے اماں کو بچا لینا چاہیئےZafar Iqbal (b. 1932)
- ایسا وہ بے شمار و قطار انتظار تھاپہلی ہی بار دوسری بار انتظار تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارےجو ساتھ ہی پتے بھی اڑا لائی ہمارےZafar Iqbal (b. 1932)
- ایک ہی بار نہیں ہے وہ دوبارہ کم ہےمیں وہ دریا ہوں جسے اپنا کنارہ کم ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- ایک ہی نقش ہے جتنا بھی جہاں رہ جائےآگ اڑتی پھرے ہر سو کہ دھواں رہ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
- ایماں کے ساتھ خامی ایماں بھی چاہئےعزم سفر کیا ہے تو ساماں بھی چاہئےZafar Iqbal (b. 1932)
- بات ایسی بھی کوئی نہیں کہ محبت بہت زیادہ ہےلیکن ہم دونوں سے اس کی طاقت بہت زیادہ ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- بجلی گری ہے کل کسی اجڑے مکان پررونے لگوں کہ ہنس پڑوں اس داستان پرZafar Iqbal (b. 1932)
- بدلہ یہ لیا حسرت اظہار سے ہم نےآغاز کیا اپنے ہی انکار سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
- بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھاپھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہےاسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئےیہ زمزمے جو کسی درد کی دوا نہ ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
- بہت سلجھی ہوئی باتوں کو بھی الجھائے رکھتے ہیںجو ہے کام آج کا کل تک اسے لٹکائے رکھتے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیاوہ محبت جسے برباد بھی خود میں نے کیاZafar Iqbal (b. 1932)
- بینائی سے باہر کبھی اندر مجھے دیکھےممکن ہی نہیں ہے وہ برابر مجھے دیکھےZafar Iqbal (b. 1932)
- بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گاشہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گاZafar Iqbal (b. 1932)
- پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہےنیند آئے تو اس حال میں سونا ہی بہت ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئےنہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
- پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤںسارے دھندے چھوڑ چھاڑ کے چلیے اس کے گاؤںZafar Iqbal (b. 1932)
- پھر کوئی شکل نظر آنے لگی پانی پرسخت مشکل میں ہوں اس طرح کی آسانی پرZafar Iqbal (b. 1932)
- پیدا یہ غبار کیوں ہوا ہےاور آخری بار کیوں ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- ترے راستوں سے جبھی گزر نہیں کر رہاکہ میں اپنی عمر ابھی بسر نہیں کر رہاZafar Iqbal (b. 1932)
- ترے لبوں پہ اگر سرخی وفا ہی نہیںتو یہ بناؤ یہ سج دھج تجھے روا ہی نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- تقاضا ہو چکی ہے اور تمنا ہو رہا ہےکہ سیدھا چاہتا ہوں اور الٹا ہو رہا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتےکچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتےZafar Iqbal (b. 1932)
- جسم کے ریگزار میں شام و سحر صدا کروںمنزل جاں تو دور ہے طے یہی فاصلا کروںZafar Iqbal (b. 1932)
- جس نے نفرت ہی مجھے دی نہ ظفرؔ پیار دیامیں نے سب کچھ اسے کیوں ہار دیا وار دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوںمیں قرض دوسروں کا ادا کرنے آیا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں لمحۂ شام بکھیر دیاوہیں اک پیغام بکھیر دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں میرے نہ ہونے کا نشاں پھیلا ہوا ہےسمجھتا ہوں غبار آسماں پھیلا ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں نگار سحر پیرہن اتارتی ہےوہیں پہ رات ستاروں کا کھیل ہارتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتامیں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتاZafar Iqbal (b. 1932)
- چلو اتنی تو آسانی رہے گیملیں گے اور پریشانی رہے گیZafar Iqbal (b. 1932)
- چمکتی وسعتوں میں جو گل صحرا کھلا ہےکوئی کہہ دے اگر پہلے کبھی ایسا کھلا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگےوہ نقش کہ تھا داغ ملاقات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
- چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیایہ فرق بھی ترے انکار سے نکل آیاZafar Iqbal (b. 1932)
- حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہوبہتر ہے اب دعا کی پذیرائی ختم ہوZafar Iqbal (b. 1932)
- حسن کے انکار سے بھی کچھ تو پردہ رہ گیامیں بھی کافی مطمئن ہوں وہ بھی اچھا رہ گیاZafar Iqbal (b. 1932)