Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیاWaseem Barelvi (b. 1940)
  2. اپنے انداز کا اکیلا تھااس لئے میں بڑا اکیلا تھاWaseem Barelvi (b. 1940)
  3. اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسےWaseem Barelvi (b. 1940)
  4. اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دےمجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دےWaseem Barelvi (b. 1940)
  5. اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گااس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گاWaseem Barelvi (b. 1940)
  6. اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہےعجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  7. اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلےمیں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلےWaseem Barelvi (b. 1940)
  8. اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہےکسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  9. بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھےہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھےWaseem Barelvi (b. 1940)
  10. بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیںایک سے جانے ہم کتنے ہو جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  11. تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتااک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  12. تم ساتھ نہیں ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتااس شہر میں کیا ہے جو ادھورا نہیں لگتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  13. تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتےاسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتےWaseem Barelvi (b. 1940)
  14. تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گےہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گےWaseem Barelvi (b. 1940)
  15. جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہےکوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  16. چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہےتو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  17. چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بد گماں کیوں ہوکوئی رشتہ ذرا سی ضد کی خاطر رائیگاں کیوں ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
  18. حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیںزلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  19. حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتیتو آج سر پہ ٹپکنے کو چھت نہیں ہوتیWaseem Barelvi (b. 1940)
  20. دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہووہ زندگی ہی نہیں ہے جو ناتمام نہ ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
  21. دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  22. دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہےڈوب کے دیکھو کتنا پیاسا لگتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  23. ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہےسمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  24. رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائےمیری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
  25. زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھےاپنا احساس ہی ایسا ہے جو تنہا رکھےWaseem Barelvi (b. 1940)
  26. سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھکتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھWaseem Barelvi (b. 1940)
  27. سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتاہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  28. شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  29. صرف تیرا نام لے کر رہ گیاآج دیوانہ بہت کچھ کہہ گیاWaseem Barelvi (b. 1940)
  30. کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھیتجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھیWaseem Barelvi (b. 1940)
  31. کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہووہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
  32. کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہےمحبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  33. کہاں قطرہ کی غم خواری کرے ہےسمندر ہے اداکاری کرے ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  34. کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیںاور میرے پاس کوئی چور دروازہ نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  35. کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیاعمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیاWaseem Barelvi (b. 1940)
  36. کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  37. لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتاہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  38. مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہےاسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  39. محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہےجو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  40. مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والاکہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والاWaseem Barelvi (b. 1940)
  41. میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہےوقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  42. میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتامگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  43. میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتاتو اس صدی میں اکیلا نظر نہیں آتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  44. میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گااب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
  45. میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گالیکن مری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
  46. نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتےیہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتےWaseem Barelvi (b. 1940)
  47. نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیاہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیاWaseem Barelvi (b. 1940)
  48. وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہےجو دنیا سے چھپانا چاہتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  49. وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتامگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتاWaseem Barelvi (b. 1940)
  50. ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکےاسی لئے تو کسی کی نظر میں آ نہ سکےWaseem Barelvi (b. 1940)