Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پڑی جب کسی کی نگاہ محبتملی اہل الفت کو راہ محبتVafa Barahi (1917–1993)
  2. پہلے تو جانچتا ہوں تمہاری نظر کو میںپھر دیکھتا ہوں غور سے اپنے جگر کو میںVafa Barahi (1917–1993)
  3. تاب نظر کی قید ہے سخت حریم ذات میںدیکھوں کسی کو ہر گھڑی بزم تصورات میںVafa Barahi (1917–1993)
  4. حقیقت سے جو آشنا ہو گیاقیود ہوس سے رہا ہو گیاVafa Barahi (1917–1993)
  5. دل بیتاب کا آنا ستم ہےتڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہےVafa Barahi (1917–1993)
  6. راہ الفت کی آن باقی ہےکچھ مٹی کچھ تکان باقی ہےVafa Barahi (1917–1993)
  7. رخ آرزو پر حجاب محبتکھلا اور اس سے شباب محبتVafa Barahi (1917–1993)
  8. سنو تم غور سے تھوڑی سی ہے یہ داستاں میرینہیں چلتی بیان شوق پر ہرگز زباں میریVafa Barahi (1917–1993)
  9. مرنے کی آرزو میں مجھے پیچ و تاب ہےاب زندگی بھی باعث صد اضطراب ہےVafa Barahi (1917–1993)
  10. نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کاحصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کاVafa Barahi (1917–1993)
  11. نگاہ شرمگیں سحر آفریں معلوم ہوتی ہےیہ دشمن ہے مگر دشمن نہیں معلوم ہوتی ہےVafa Barahi (1917–1993)
  12. وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانیابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانیVafa Barahi (1917–1993)
  13. ہنس کے پردہ جو اٹھاتا تو گلستاں ہوتااور ہی رنگ جہاں تجھ سے نمایاں ہوتاVafa Barahi (1917–1993)
  14. یہ شب فرقت میں رنگ گردش ایام تھاصبح کا تارا جسے سمجھا چراغ شام تھاVafa Barahi (1917–1993)
  15. اک جا رہی ہے مالن پھولوں کا ہار لے کرگلشن کا حسن لے کر دل کا قرار لے کرVafa Barahi (1917–1993)
  16. اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لئےزیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیےVafa Barahi (1917–1993)
  17. بہار در بہار ہےچمن میں یہ پکار ہےVafa Barahi (1917–1993)
  18. جوانی کا جوہر دکھانا پڑے گاتمہیں تیر کی زد پر آنا پڑے گاVafa Barahi (1917–1993)
  19. شب وصل کیوں ہیں رلانے کی باتیںکرو کچھ تو ہنسنے ہنسانے کی باتیںVafa Barahi (1917–1993)
  20. قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کیقسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کیVafa Barahi (1917–1993)
  21. کچھ خبر اے ہند والو ہے کہ تم ہو بے خبرکر رہا ہے ظلم ظالم قوم کے ہر فرد پرVafa Barahi (1917–1993)
  22. کہو یہ مغنی سے گائے چلا جانوائے مسرت سنائے چلا جاVafa Barahi (1917–1993)
  23. لگی آگ دل کی بجھائیں گے کیوں کرطبیعت کو رستے پہ لائیں گے کیوں کرVafa Barahi (1917–1993)