Poetry
- پڑی جب کسی کی نگاہ محبتملی اہل الفت کو راہ محبتVafa Barahi (1917–1993)
- پہلے تو جانچتا ہوں تمہاری نظر کو میںپھر دیکھتا ہوں غور سے اپنے جگر کو میںVafa Barahi (1917–1993)
- تاب نظر کی قید ہے سخت حریم ذات میںدیکھوں کسی کو ہر گھڑی بزم تصورات میںVafa Barahi (1917–1993)
- حقیقت سے جو آشنا ہو گیاقیود ہوس سے رہا ہو گیاVafa Barahi (1917–1993)
- دل بیتاب کا آنا ستم ہےتڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہےVafa Barahi (1917–1993)
- راہ الفت کی آن باقی ہےکچھ مٹی کچھ تکان باقی ہےVafa Barahi (1917–1993)
- رخ آرزو پر حجاب محبتکھلا اور اس سے شباب محبتVafa Barahi (1917–1993)
- سنو تم غور سے تھوڑی سی ہے یہ داستاں میرینہیں چلتی بیان شوق پر ہرگز زباں میریVafa Barahi (1917–1993)
- مرنے کی آرزو میں مجھے پیچ و تاب ہےاب زندگی بھی باعث صد اضطراب ہےVafa Barahi (1917–1993)
- نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کاحصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کاVafa Barahi (1917–1993)
- نگاہ شرمگیں سحر آفریں معلوم ہوتی ہےیہ دشمن ہے مگر دشمن نہیں معلوم ہوتی ہےVafa Barahi (1917–1993)
- وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانیابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانیVafa Barahi (1917–1993)
- ہنس کے پردہ جو اٹھاتا تو گلستاں ہوتااور ہی رنگ جہاں تجھ سے نمایاں ہوتاVafa Barahi (1917–1993)
- یہ شب فرقت میں رنگ گردش ایام تھاصبح کا تارا جسے سمجھا چراغ شام تھاVafa Barahi (1917–1993)
- اک جا رہی ہے مالن پھولوں کا ہار لے کرگلشن کا حسن لے کر دل کا قرار لے کرVafa Barahi (1917–1993)
- اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لئےزیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیےVafa Barahi (1917–1993)
- بہار در بہار ہےچمن میں یہ پکار ہےVafa Barahi (1917–1993)
- جوانی کا جوہر دکھانا پڑے گاتمہیں تیر کی زد پر آنا پڑے گاVafa Barahi (1917–1993)
- شب وصل کیوں ہیں رلانے کی باتیںکرو کچھ تو ہنسنے ہنسانے کی باتیںVafa Barahi (1917–1993)
- قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کیقسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کیVafa Barahi (1917–1993)
- کچھ خبر اے ہند والو ہے کہ تم ہو بے خبرکر رہا ہے ظلم ظالم قوم کے ہر فرد پرVafa Barahi (1917–1993)
- کہو یہ مغنی سے گائے چلا جانوائے مسرت سنائے چلا جاVafa Barahi (1917–1993)
- لگی آگ دل کی بجھائیں گے کیوں کرطبیعت کو رستے پہ لائیں گے کیوں کرVafa Barahi (1917–1993)