Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گاراکھ میں سچائی کا زندہ بدن رہ جائے گاTahir Hanfi (b. 1955)
  2. اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پراور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پرTahir Hanfi (b. 1955)
  3. بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کرڈوب جائے گا یہ گھر کچھ ہوش کرTahir Hanfi (b. 1955)
  4. تمام عمر کا دکھ تھا وبا کے موسم میںمیں اس لیے بھی تھا رویا وبا کے موسم میںTahir Hanfi (b. 1955)
  5. دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھااک روشنی کا عکس بھی میرے ہنر میں تھاTahir Hanfi (b. 1955)
  6. دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لیبارش کی جل ترنگ نے تنہائی چھین لیTahir Hanfi (b. 1955)
  7. رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپکردار ہیں کہانی کے سب آج شام چپTahir Hanfi (b. 1955)
  8. فلک سے جو ہوئے دھرتی کی نذر سادہ لوگانہی کے غم سے ہیں واقف یہ بے لبادہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
  9. کیسا لہجہ تھا کس حال میں وہ رہی ایک ہی سانس میںکہنے والی کہانی مری کہہ گئی ایک ہی سانس میںTahir Hanfi (b. 1955)
  10. گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحےحسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحےTahir Hanfi (b. 1955)
  11. لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگاپنی تلاش میں ہیں رواں سر بریدہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
  12. مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموشچپکے سے یوں حیات مری چل بسی خموشTahir Hanfi (b. 1955)
  13. مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلیہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلTahir Hanfi (b. 1955)
  14. مرے بدن پہ سجا ہے برہنگی کا لباسیہی لباس ہوا میری زندگی کا لباسTahir Hanfi (b. 1955)
  15. معجزہ یہ ہے کہ منزل کے نشاں تک پہنچےبرف کے لوگ بھی سورج کے جہاں تک پہنچےTahir Hanfi (b. 1955)
  16. موسموں کے شہر میں پانی کے گھر اگنے لگےچپ ہوا کی کوکھ سے تنہا سفر اگنے لگےTahir Hanfi (b. 1955)
  17. میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤںتو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤںTahir Hanfi (b. 1955)
  18. ندیوں کے پانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیںدرد کی روانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیںTahir Hanfi (b. 1955)
  19. وقت سحر اک ایسی اٹھی روشنی کہ بسجس آنکھ نے بھی دیکھا یوں چندھیا گئی کہ بسTahir Hanfi (b. 1955)
  20. ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسیسہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسیTahir Hanfi (b. 1955)
  21. یخ بستہ باغ میں کوئی تتلی حنوط تھیپھولوں پہ میرے خواب کی مٹی حنوط تھیTahir Hanfi (b. 1955)
  22. دشت جاں میںصلیب انا پرTahir Hanfi (b. 1955)
  23. دھوپ کے سمندر میںبرف کی صلیبوں پرTahir Hanfi (b. 1955)
  24. گئے دنوں کی محبتوں کوصعوبتوں کوTahir Hanfi (b. 1955)