Poetry
- عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھاوہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھاTabish Kamal
- عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھےنگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھےTabish Kamal
- کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہےکس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہےTabish Kamal
- کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتاہاں مگر اس نگر نہیں رہتاTabish Kamal
- نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہےہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہےTabish Kamal
- ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھانظر میں دور تک ساحل نہیں تھاTabish Kamal
- یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہےزمیں سے آسماں کا فاصلہ ہےTabish Kamal
- یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھاجب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھاTabish Kamal
- چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنTabish Kamal
- چند سال اس طرفہم شناسا نگاہوں سے بچتے بچاتےTabish Kamal
- خواب کی سلطنت سے ادھراک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لےTabish Kamal
- سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیںسرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھیTabish Kamal
- عزیزو!اگر رات رستے میں آئےTabish Kamal
- غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیںپنچھیوں کو ہانکتی ہےTabish Kamal
- کھجوروں سے مہکی ہوئی شام تھیشتر پر مال و اسباب تھا اور میں اک سرائے کے در پر کھڑاTabish Kamal
- گھڑی دو گھڑی کی مسرتیہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہےTabish Kamal
- گئے برسوں اک حاصل کیا!فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میںTabish Kamal
- وہی بہار و خزاں ہے مجھ میں بھیمجھ سے باہر بھیTabish Kamal
- ہر طرف کترنیں ہیںوہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہیTabish Kamal