Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھاوہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھاTabish Kamal
  2. عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھےنگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھےTabish Kamal
  3. کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہےکس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہےTabish Kamal
  4. کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتاہاں مگر اس نگر نہیں رہتاTabish Kamal
  5. نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہےہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہےTabish Kamal
  6. ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھانظر میں دور تک ساحل نہیں تھاTabish Kamal
  7. یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہےزمیں سے آسماں کا فاصلہ ہےTabish Kamal
  8. یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھاجب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھاTabish Kamal
  9. چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنTabish Kamal
  10. چند سال اس طرفہم شناسا نگاہوں سے بچتے بچاتےTabish Kamal
  11. خواب کی سلطنت سے ادھراک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لےTabish Kamal
  12. سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیںسرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھیTabish Kamal
  13. عزیزو!اگر رات رستے میں آئےTabish Kamal
  14. غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیںپنچھیوں کو ہانکتی ہےTabish Kamal
  15. کھجوروں سے مہکی ہوئی شام تھیشتر پر مال و اسباب تھا اور میں اک سرائے کے در پر کھڑاTabish Kamal
  16. گھڑی دو گھڑی کی مسرتیہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہےTabish Kamal
  17. گئے برسوں اک حاصل کیا!فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میںTabish Kamal
  18. وہی بہار و خزاں ہے مجھ میں بھیمجھ سے باہر بھیTabish Kamal
  19. ہر طرف کترنیں ہیںوہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہیTabish Kamal