Poetry
- آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہےراگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- آشنائی بزور نہیں ہوتیمت کرو شر و شور نہیں ہوتیShah Mubarak Abru (1683–1733)
- آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہواجامہ گلے میں رات کے پھولوں بسا ہواShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہوافعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہوShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگانظر کر لطف کی ہم کوں جلاؤ گے تو کیا ہوگاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اگر دل عشق سیں غافل رہا ہےتو اپنے فن میں نا قابل رہا ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- انسان ہے تو کبر سیں کہتا ہے کیوں اناآدم تو ہم سنا ہے کہ وہ خاک سے بناShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخکھول آپس کے بیچ کلے شیخShah Mubarak Abru (1683–1733)
- بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہکہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہShah Mubarak Abru (1683–1733)
- بہار آئی گلی کی طرح دل کھولگلوں کی بھانت ہنس بلبل کے جوں بولShah Mubarak Abru (1683–1733)
- پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتاچتر کاری لگی کھانے ہمن کوں گھر ہوا چیتاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- تمہاری جب سیں آئی ہیں سجن دکھنے کو لال انکھیاںہوئی ہیں تب سیں دونی خوش نما صاحب جمال انکھیاںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہےکہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دواتیرگی جاتی رہی چہرے کی اور اپچی صفاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- جال میں جس کے شوق آئی ہےاس کے دل کوں تڑپھ کماہی ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- جلتے تھے تم کوں دیکھ کے غیر انجمن میں ہمپہنچے تھے رات شمع کے ہو کر برن میں ہمShah Mubarak Abru (1683–1733)
- چنچلاہٹ میں تو ممولا ہےجھلجھلاہٹ میں در امولا ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیںپھول ہیں یہ سب پہ ان پھولوں میں ہرگز بو نہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- خدا کے واسطے اے یار ہم سیں آ مل جادلوں کی کھول گھنڈی غنچے کی طرح کھل جاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالیکاسہ لیے گدا کا آیا ہے چاند خالیShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہےشوخ ہے بانک ہے نکت بھوں ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دل نیں پکڑی ہے یار کی صورتگل ہوا ہے بہار کی صورتShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دل ہے ترے پیار کرنے کوںجی ہے تجھ پر نثار کرنے کوںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہمتم آگرے چلے ہو سجن کیا کریں گے ہمShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دیکھ تو بے رحم عاشق نیں تجھے چھوڑا نہیںکس قدر بے روئیاں دیکھیں پہ منہ موڑا نہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دیکھو تو جان تم کوں مناتے ہیں کب سیتیبولو خدا کے واسطے ٹک لال لب سیتیShah Mubarak Abru (1683–1733)
- رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کاہنر سیکھا ہے اس شمشیر زن نے بید مالی کاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلاچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- زندگانی سراب کی سی طرحباد بندی حباب کی سی طرحShah Mubarak Abru (1683–1733)
- سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میںیاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- سیر بہار حسن ہی انکھیوں کا کام جاندل کوں شراب شوق کا ساغر مدام جانShah Mubarak Abru (1683–1733)
- شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بنمثال شمع جلے اہل انجمن تجھ بنShah Mubarak Abru (1683–1733)
- شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچجوش کرتا ہے جنوں مجنوں کا گلزاروں کے بیچShah Mubarak Abru (1683–1733)
- طوفاں ہے شیخ قہریا ہےجو حرف ہے تس کے تہریا ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- عاشق بپت کے مارے روتے ہوئے جدھر جاںپانی سیں اس طرف کی راہیں تمام بھر جاںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- عشق ہے اختیار کا دشمنصبر و ہوش و قرار کا دشمنShah Mubarak Abru (1683–1733)
- فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاںگئیں مند شرم سوں نرگس کی پیارے جوں کلی انکھیاںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّاتمہارے حسن سو دیکھے سو اک آفت ہے اے پنّاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاںکہ دیکھیں مکھ ترا سنبھال انکھیاںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کاتباہے حال تری زلف کے اسیروں کاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کنھیا کی طرح پیارے تری انکھیاں یہ سانوریاںکریں گی ہند میں دعویٰ خدائی کا ہم اٹکلیاںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رتبورائے خاص و عام کہ آئی بسنت رتShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیںچرانے کیوں لگی ہیں یوں تری انکھیاں نگہ ہم سیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کہیں کیا تم سوں بے درد لوگو کسی سے جی کا مرم نہ پایاکبھی نہ بوجھی یتھا ہماری برہ نیں کیا اب ہمیں ستایاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہےکہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولاجن کوں نرکھ جلے ہیں سب من ہرن ممولاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کیوں بند سب کھلے ہیں کیوں چیر اٹپٹا ہےکیا قتل کوں ہمارے اب ٹھاٹھ یوں ٹھٹھا ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہلگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہShah Mubarak Abru (1683–1733)
- گرچہ اس بنیاد ہستی کے عناصر چار ہیںلیکن اپنے نیست ہو جانے میں سب ناچار ہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیںاگر ملو تو سجن سو طرح کی گھاتیں ہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)